• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندہ رہنے والی میراث کی کہانی: انجینئر امتیاز حسین سولنگی کی تعلیمی خدمات

کچھ لوگ اپنے پیچھے اعزازات اور عوامی شہرت چھوڑ جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ایسے ادارے تعمیر کر جاتے ہیں جو معاشرے کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ امتیاز حسین سولنگی کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جن کی خاموش خدمات نے سندھ میں تعلیمی ترقی کے لیے ایک ایسی دیرپا میراث قائم کی ہے جو صرف اینٹوں اور کنکریٹ میں نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی خدمت میں بھی زندہ رہے گی۔

کہا جاتا ہے، ہر کامیاب تعلیمی ادارے کے پس منظر میں ایک ایسی داستان بھی ہوتی ہے جو صرف کلاس رومز، اساتذہ اور طلبہ تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ منصوبہ بندی، تعمیرات، بنیادی ڈھانچے اور مخلص پیشہ ور افراد کی کہانی بھی ہوتی ہے جو بڑے تعلیمی خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

انجینئر امتیاز حسین سولنگی ایسے ہی ایک شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں، جنہوں نے سندھ میں تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں خاموشی اور مستقل مزاجی کے ساتھ نمایاں خدمات انجام دیں۔

ان کا پیشہ ورانہ سفر بالخصوص تعلیمی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ترقی سے وابستہ رہا ہے۔ کیڈٹ کالج لاڑکانہ سے اپنے ابتدائی تعلق سے لے کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو گرلز کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے قیام میں کردار ادا کرنے تک، ان کی عملی زندگی کا ایک بڑا حصہ ایسے اداروں کی تعمیر اور توسیع کے لیے وقف رہا جو آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

امتیاز حسین سولنگی نے 1990ء میں کیڈٹ کالج لاڑکانہ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ اس وقت ادارے اور اس کے گردونواح کو ترقیاتی حوالے سے کئی مشکلات کا سامنا تھا۔ زمین کا بڑا حصہ بنجر تھا اور ایک بڑھتے ہوئے رہائشی تعلیمی ادارے کے لیے موزوں ماحول اورجدید کیمپس کی تشکیل طویل، مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتی تھی، جو ایک دن میں ممکن نہیں ہوسکتی تھی، برسوں کی منصوبہ بندی، انجینئرنگ مہارت، تعمیراتی کام اور ادارہ جاتی عزم ضروری تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ کیمپس بتدریج ایک جدید رہائشی تعلیمی ادارے کی شکل اختیار کرتا گیا، جہاں تعلیمی اور طلبہ کی رہائشی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وسیع سہولیات فراہم کی گئیں۔

کالج سے اپنی طویل وابستگی کے دوران نئے متعدد اہم ترقیاتی منصوبوں میں کردار ادا کیا۔ ان میں نمایاں اقبال آڈیٹوریم بھی شامل ہے، جس میں تقریباً 1,500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، اسی طرح تقریباً 1,500 کیڈٹس کے لیے وسیع کیڈٹ میس کی تعمیر بھی ادارے کے بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے۔

کیمپس میں 12 رہائشی ہاسٹلز، ایک مسجد، اسکواش کورٹس، ایک اسٹیڈیم اور متعدد دیگر ضروری سہولیات بھی شامل ہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر کالج کو ایک جدید اور مکمل رہائشی تعلیمی ادارے کی حیثیت دینے میں مدد کی۔ان کے پیشہ ورانہ کیریئر کا ایک اور اہم باب شہید محترمہ بینظیر بھٹو گرلز کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے قیام سے وابستہ ہے۔

یہ منصوبہ لڑکیوں کے لیے جدید کیڈٹ کالج طرز کے ایک معیاری تعلیمی ادارے کے قیام کی اہم کوشش تھی،جوتقریباً ڈھائی سال کے مختصر عرصے میں مکمل ہوا۔ کالج میں اکیڈمک بلاک،ہاسٹلز، آڈیٹوریم، اسکواش کورٹس اور تعلیمی و رہائشی ضروریات کے لیے دیگر اہم سہولیات شامل ہیں۔

امتیاز حسین سولنگی کی طویل خدمات کا سفر مشکلات اور خطرات سے بھی خالی نہیں رہا۔ 1991ء میں ایک منصوبے کی جگہ پر سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران انہیں ڈاکوؤں نے اغوا کیا، بعد ازاں تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا گیا۔ یہ واقعہ یقیناً ان کی زندگی کا ایک نہایت تکلیف دہ مرحلہ تھا، لیکن اس کے باوجود ان کے عزم اور پیشہ ورانہ وابستگی میں کمی نہیں آئی۔

اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں اور تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی کے لیے سرگرم رہے۔ ان کی فنی مہارت اور عملی تجربے سے سندھ کے مختلف کیڈٹ کالجز، جامعات اور سرکاری اسکولوں نے بھی فائدہ اٹھایا، جہاں انہوں نے اعزازی طور پر تکنیکی رہنمائی اور مشاورت فراہم کی۔

اپنے کیریئر کے دوران ہمیشہ کام کرنے کو ترجیح دی۔ ان کے کام کا اصل تعارف وہ عمارتیں، کیمپس اور سہولیات ہیں جو ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران تعمیر اور ترقی پاتی رہیں۔

یکم اکتوبر 2026ء کو تقریباً 36 برس بعد ان کی فعال زندگی کا اختتام ضرور ہوگا، مگر ان کی محنت کے نتائج سندھ کے تعلیمی منظرنامے کا حصہ رہیں گے۔ جن عمارتوں کی تعمیر میں انہوں نے کردار ادا کیا، وہ آئندہ بھی طلبہ کی خدمت کرتی رہیں گی۔

جن کیمپسز کی ترقی میں ان کی کوششیں شامل رہیں، وہ مستقبل میں بھی ترقی کرتے رہیں گےاور جن اداروں کو ان کی فنی مہارت سے تقویت ملی، وہ آنے والی نسلوں کے لیے تعلیم اور بہتر مواقع فراہم کرتے رہیں گے۔

امتیاز حسین سولنگی کی داستان صرف ایک انجینئر کے طویل ملازمتی سفر کی کہانی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے پیشہ ور شخص کی داستان ہے جس کی زندگی اور خدمات سندھ میں تعلیمی اداروں کی تعمیر، ترقی اور مستقبل سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔

تعلیم سے مزید