قوموں کی تاریخ صرف بادشاہوں، سیاست دانوں اور فاتحین کے ناموں سے نہیں بنتی، بلکہ وہ گمنام اور بے لوث انسان بھی تاریخ کے صفحات پر اپنے نقوش ثبت کر جاتے ہیں جو اپنی ذات سے بلند ہوکر معاشرے کی تعمیر کا بیڑا اُٹھاتے ہیں، ایسے ہی روشن کرداروں میں ایک نام ’’خدیجہ حاجیانی‘‘ ماں کا ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی میمن برادری، بالخصوص ان کی بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے وقف کردی۔
ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ بڑے کام کے لیے بڑی ڈگری نہیں، بڑا عزم اور بے لوث جذبہ درکار ہوتا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جس خاتون نے کراچی میں میمن لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور کالجوں کا ایک پورا سلسلہ قائم کیا، وہ خود تعلیم کے اعتبار سے زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں۔ انہوں نے مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کی، اردو و گجراتی سے معمولی واقفیت پیدا کی، مگر علم کی قدر و منزلت کو اس قدر گہرائی سے محسوس کیا کہ اپنی زندگی کا مقصد ہی دوسروں کو علم کی دولت فراہم کرنا بنا لیا۔
خدیجہ حاجیانی ماں جنوری 1899ء میں بانٹوا، کاٹھیاواڑ میں ایک نچلے متوسط گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محمد ابراہیم ،’’محمد جعفر ‘‘نامی ایک فرم میں ملازمت کرتے تھے۔ اس فرم کا ہیڈ آفس ممبئی میں تھا۔ لہٰذا ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں کچھ عرصہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ممبئی میں بھی مقیم رہے۔ وہ زمانہ بچیوں کو تعلیم دلانے کا نہیں تھا، بچیاں گڑیوں سے کھیلتیں، گھر کی خواتین سے امور خانہ داری سیکھتیں، بہت ہوا تو کشیدہ کاری سیکھ لی، مگر تعلیم بہر حال لڑکیوں کے لئے شجر ممنوع تھی۔
زندگی نے ابتدا ہی میں ان کے لیے آزمائشوں کے دروازے کھول دیے۔ کم عمری میں شوہر اور پھر اپنی ایک بیٹی کی وفات کا صدمہ برداشت کیا، مگر ان سانحات نے ان کے حوصلے کو توڑنے کے بجائے ان کے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ مزید مضبوط کردیا۔ 1922ء میں ممتاز مخیر حضرات کی معاونت سے میمن خواتین کی ایک کمیٹی قائم کی اور بانٹوا میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک مدرسہ شروع کیا، بعدازاں انہوں نے ’’زینت الاسلام‘‘ کے نام سے ایک اور تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا ارادہ کیا۔ ان کے عزم اور خلوص سے متاثر ہوکر ایک مخیر تاجر حاجی سلیمان دیوان نے اسکول کی عمارت کے لیے تین ہزار گز کا پلاٹ عطیہ کردیا۔
اب مسئلہ عمارت کا نہیں، وسائل کا تھا۔ خدیجہ بائی نے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے گھر گھر دستک دی۔ چندہ جمع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے 28 ہزار روپے جمع کرلیے، مگر تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔ برصغیر کی تقسیم ہوئی، خاندانوں نے ہجرت کی، خدیجہ حاجیانی ماں بھی پاکستان آگئیں۔ لیکن سرزمین بدلنے سے ان کا مقصد نہیں بدلا۔
بانٹوا میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کا جو چراغ روشن کیا تھا، اسے کراچی میں مزید فروغ دینا اب ان کی زندگی کا مشن بن چکا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1948ء میں، انہوں نے خواتین کے ایک وفد کے ہمراہ کراچی کے گورنر ہاؤس کا رخ کیا۔ مقصد قائداعظم محمد علی جناح سے ملاقات اور میمن لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارہ قائم کرنے کے سلسلے میں حکومتی تعاون حاصل کرنا تھا۔ قائداعظم گورنر ہاؤس میں موجود نہ تھے، چنانچہ ان کی عظیم بہن محترمہ فاطمہ جناح نے وفد سے ملاقات کی۔
خدیجہ حاجیانی ماں، نے فاطمہ جناح کو اپنے منصوبے، اپنے خواب اور اپنی جدوجہد سے آگاہ کیا۔ ان کے لہجے میں محض ایک درخواست نہیں بلکہ ایک عزم تھا، وہ چاہتی تھیں کہ پاکستان کی بیٹیاں بھی تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں اور میمن معاشرہ اپنی بچیوں کو جہالت کے اندھیروں میں نہ رکھے۔ محترمہ فاطمہ جناح ان کے جذبے، اخلاص اور مقصدیت سے بے حد متاثر ہوئیں۔
انہوں نے محکمۂ تعلیم کے افسران کو طلب کیا اور خواتین کے اس تعلیمی منصوبے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر عمارت فراہم کرنے کی ہدایات دیں۔ یہی ملاقات آگے چل کر ایک ایسے تعلیمی سفر کا نقطۂ آغاز بنی ،جس نے کراچی میں میمن خواتین کی تعلیمی تاریخ کا رُخ بدل دیا۔
1948ء میں پاکستان میمن ویمن ایجوکیشنل سوسائٹی (PMWES) قائم ہوئی اور خدیجہ حاجیانی ماں نے’’ ایوکیو ٹرسٹ ‘‘کی فراہم کردہ عمارت میں نانک واڑہ سے اپنے تعلیمی مشن کا آغاز کیا۔ یہاں قائم ہونے والا رونقِ اسلام گرلز اسکول ان کی پہلی بڑی کامیابی تھا۔
اس اسکول کا افتتاح خاتون اول محترمہ فاطمہ جناح نے کیا ۔اس ادار ے نے 1963ء میں لوئر سیکنڈری اور 1990ء میں سیکنڈری اسکول کا درجہ حاصل کیا۔ 1948ء ہی میں انہوں نے کھارادر میں ایک اور اسکول قائم کیا، جسے صرف دو برس بعد 1950ء میں، سیکنڈری اسکول کا درجہ دے دیا گیا۔ 1961ء میں فیڈرل بی ایریا میں رونقِ اسلام گرلز اسکول قائم کیا ، جو 1965ء میں سیکنڈری اسکول بن گیا،لیکن خدیجہ حاجیانی ماں کی نظر صرف اسکول تک محدود نہیں تھی، وہ جانتی تھیں کہ لڑکیوں کی تعلیم اگر اعلیٰ سطح تک نہ پہنچے تو معاشرے کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔
چناں چہ انہوں نے کھارادر میں لڑکیوں کے لیے کالج کے قیام کی جدوجہد شروع کردی۔ اس وقت اس علاقے میں لڑکیوں کے لیے کوئی کالج نہیں تھا۔ سیٹھ احمد داؤد اور سیٹھ حاجی عمر بھرمچاری کی معاونت سے ایک عمارت حاصل کی اور خدیجہ حاجیانی ماں کا خواب حقیقت بن گیا۔
اس ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والی طالبات نے 1971ء میں پہلی مرتبہ بی اے کے امتحانات میں شرکت کی۔ ان کی تعلیمی فکر صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے کاغذی بازار اور فیڈرل بی ایریا میں صنعتی گھرانے بھی قائم کیے، تاکہ خواتین کو ہنر اور پیشہ ورانہ تربیت دی جاسکے اور وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے کے قابل ہوجائیں۔ انہوں نے تعلیم کو صرف کتاب تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشی خودمختاری اور سماجی ترقی کا وسیلہ بھی بنایا۔
ان کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جن اداروں کے قیام کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کھپا دی، ان کے لیے اپنی ذاتی دولت بھی بے دریغ خرچ کردی۔ ان کے پاس جو کچھ تھا، وہ لڑکیوں کی تعلیم کے نام کردیا۔ حتیٰ کہ بانٹوا میمن جماعت کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں انہیں دیا جانے والا دس تولے کا طلائی تمغہ اور ایک لاکھ پچھتر ہزار روپے کا نقد انعام بھی اپنے پاس رکھنے کے بجائے تعلیمی اداروں کے لیے عطیہ کردیا۔
1973ء میں حکومتِ پاکستان نے ملک کے تمام تعلیمی اداروں کا انتظام سنبھال لیا، جن میں پاکستان میمن ویمن ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیرانتظام چلنے والے ادارے بھی شامل تھے، مگر ادارے سرکاری تحویل میں جانے کے باوجود خدیجہ حاجیانی ماں کی شخصیت اور ان کی جدوجہد کی معنویت کم نہیں ہوئی۔ ان کے لگائے ہوئے تعلیمی پودے تناور درخت بن چکے تھے اور ان کے سائے میں نسلیں پروان چڑھ رہی تھیں۔
خدیجہ حاجیانی ماں 18 دسمبر 1990ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ وہ اپنے پیچھے دولت کے انبار نہیں چھوڑ گئیں، نہ کوئی ذاتی جاگیر اور نہ ہی اپنی آسائشوں کی داستان۔ ان کا اصل سرمایہ وہ ادارے تھے جن کے دروازے سے ہزاروں بیٹیاں علم کی روشنی لے کر نکلیں، وہ مائیں تھیں جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو تعلیم یافتہ ہوتے دیکھا،وہ خاندان تھے جن کی سوچ بدلی اور وہ معاشرہ تھا، جس میں عورت کی تعلیم کو ایک ضرورت کے طور پر تسلیم کرنے کا سفر تیز ہوا۔
خدیجہ حاجیانی ماں کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تعلیم کے لیے سب سے پہلے عمارت نہیں، ارادہ تعمیر کرنا پڑتا ہے، وسائل بعد میں آتے ہیں۔ انہوں نے نہ بڑی ڈگری حاصل کی، نہ کسی منصب کی خواہش کی، نہ شہرت کے لیے جدوجہد کی۔ ان کے پاس صرف ایک خواب تھا: میمن بیٹی تعلیم یافتہ ہو، ہنر مند ہو اور اپنے معاشرے کی تعمیر میں باوقار کردار ادا کرے۔
آج جب ہم کراچی کی تعلیمی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو خدیجہ حاجیانی ماں کا نام محض ایک سماجی کارکن کے طور پر نہیں بلکہ ایک عہد ساز تعلیمی مصلح کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ انہوں نے اپنے حصے کی شمع جلائی، اپنی ذات کو اس کی لو میں پگھلایا اور پھر اسے آنے والی نسلوں کے ہاتھوں میں دے دیا۔
کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کے کام باقی رہتے ہیں اور کچھ لوگ کام نہیں، راستے چھوڑ کر جاتے ہیں۔ خدیجہ حاجیانی ماں بھی انہی لوگوں میں سے تھیں۔ ان کا راستہ آج بھی تعلیم، خدمت اور خواتین کی ترقی میں رہنمائی کرتا ہے۔