• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیم، صرف ڈگری حاصل کرنے یا خواندہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ سوچنے، سمجھنے، تجزیہ کرنے اور تخلیقی صلاحیتیں بے دار کرنے کا ایک مستقل عمل ہے۔ معیاری تعلیم لوگوں کو ’’کیا سوچنا ہے؟‘‘ کے بجائے ’’کیسے سوچنا ہے؟‘‘ سکھاتی ہے، جب کہ اعلیٰ تعلیمی معیار صرف فنی مہارت نہیں، اخلاقیات، رواداری، اور شہری ذمّے داریوں کا شعور بھی دیتا ہے اور پھر جس معاشرے کا تعلیمی معیار بلند ہوتا ہے، وہاں نہ صرف تحقیق (Research) اور جدّت (Innovation) کو فروغ ملتا ہے، بلکہ آنے والی نسلیں مضبوط تعلیمی بنیاد کی بدولت مُلک کو درست سمت بھی لے جاسکتی ہیں۔

اسی طرح اگر کسی معاشرے کا تعلیمی معیار پست ہو، تو وہاں فکری انتشار، جہالت اور پس ماندگی جنم لیتی ہے۔ یعنی تعلیم کا معیار کسی معاشرے کے فکری مستقبل کا تعیّن کرتا ہے، جب کہ امتحانی نظام اس معیار کو جانچنے کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ امتحان میں علم، فہم اور تنقیدی سوچ کو پرکھنےکے بعد ہی تعلیم نکھرتی ہے، لیکن جب یہی امتحان خوف، دباؤ اور محض یادداشت کا امتحان بن جائے، تو عِلم پیچھے رہ جاتا ہے۔

پاکستانی جامعات میں امتحانی نظام طویل عرصے سے اسی کشمکش کا شکار ہے۔ تھیوری پرچوں کی ساخت، نمبرز کی تقسیم اور سیمسٹر میں نصاب کی وسعت اور جانچ کے طریقے، ایسے سوالات جنم دے رہے ہیں، جن پر سنجیدگی سے غور و فکر بے حد ضروری ہے۔

خاص طور پر فہم طلب مضامین میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آیا موجودہ نظام واقعی طلبہ کی علمی صلاحیت جانچ رہا ہے یا محض ان کی برداشت آزما رہا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں ان ہی سوالات کے تناظر میں پاکستانی جامعات کے امتحانی نظام کا ایک تجزیہ پیش ِ خدمت ہے، جس سے مذکورہ مسئلے کی نوعیت اور اس حوالے سے مزید بحث کے لیے ایک فکری بنیاد قائم ہوسکتی ہے۔

تعلیم کا اصل مقصد: تعلیم، کسی قوم کے ذہن میں سوال پیدا کرنے کا عمل ہے، نہ کہ اس کے ہاتھ میں قلم تھما کر اسے خاموشی سے لکھنے پر مجبور کرنا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم، خصوصاً اعلیٰ تعلیم، بتدریج ایک ایسے نظام میں تبدیل ہوچکی ہے، جہاں علم سے زیادہ خوف مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے، یعنی فیل ہونے کاخوف، نمبر کم آنے کاخوف، استاد کی ناراضی کاخوف اوراس بات کا خوف کہ اگر سوال کر لیا، تو کہیں گستاخی نہ سمجھ لیا جائے۔

اعلیٰ تعلیمی کمیشن خود اپنی دستاویزات میں اس امَر کو تسلیم کرتا ہے کہ جامعات کا کام محض نصاب مکمل کروانا نہیں، بلکہ طالب ِعلم میں فکری بالیدگی پیدا کرنا ہے۔ مگر عملی سطح پر یہی جامعات طلبہ کو ایک ایسے امتحانی پنجرے میں قید کر دیتی ہیں، جہاں سوچنے کے بجائے بچ نکلنا اصل ہدف بن جاتا ہے۔ یوں تعلیم روشنی بانٹنے کے بجائے ذہنوں پر دباؤ ڈالنے کا ہُنر بن جاتی ہے۔

پاکستان کی سرکاری جامعات کا مجموعی جائزہ لیا جائے، تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں علم تقسیم نہیں کیا جاتا، بلکہ نمبرز کی تیاری کروائی جاتی ہے۔ کلاس روم میں استاد کی اصل توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ امتحانی پرچے میں کیا آئے گا، اور طالب ِ علم کی فکر یہ ہوتی ہے کہ کتنے صفحات لکھنے ہیں۔اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی کوالٹی ایشورنس پالیسیوں میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ تدریس، نصاب اور جانچ کے طریقے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں، مگر ہمارے ہاں یہ تینوں ایک دوسرے سے جداجدا نظر آتے ہیں۔

نصاب کچھ کہتا ہے، لیکچر کچھ اور پرچہ کسی اور ہی دنیا سے آتا ہے۔ مثلاً بوٹنی اور زوآلوجی جیسے مضامین زندگی کی ساخت، تنوّع اور ربط سمجھنے کے لیے ہوتے ہیں، یہ مضامین طلبہ سے مشاہدہ، تقابل اور تجزیہ مانگتے ہیں، مگر ہمارے تعلیمی ماحول میں اِن علوم کو محض اصطلاحات، تعریفوں اور فہرستوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ طالب علم کو یہ تو یاد کروا دیا جاتا ہے کہ فلاں خلیے کا نام کیا ہے، مگر یہ نہیں سکھایا جاتا کہ وہ خلیہ زندگی کے مجموعی نظام میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔

یہ طریقۂ تدریس حیاتیاتی علوم کی رُوح کے سراسر منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ڈگری یافتہ طلبہ تو مل جاتے ہیں، مگر فطرت کو سمجھنے والا محقّق نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح سسٹیمیٹک بائیولوجی، جو زندگی کے درمیان موجود رشتوں کو سمجھنے کا نام ہے، دنیا بھر میں اسے مشاہدے، تقابل اور فیلڈ ورک کے ذریعے پڑھایا جاتا ہے، لیکن ہمارے یہاں یہ مضمون بھی رٹّوں کی نذر ہو چکا ہے۔ خاندان، جنس اور نوع کے نام یاد کر لینا ہی کام یابی سمجھا جاتا ہے۔ فطری ربط پر بات ہوتی ہے، نہ ارتقائی تنوّع پر۔ یوں طالب ِ علم کے ذہن میں علم نہیں، صرف معلومات کا انبار جمع ہو جاتا ہے، جو امتحان کے بعد بکھر کے رہ جاتا ہے۔

سیمسٹر سسٹم: سیمسٹر سسٹم کا تصوّر اس لیے متعارف کروایا گیا تھا کہ تعلیم کو قابلِ برداشت حصّوں میں تقسیم کیا جاسکے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اس نظام کی رُوح سے انحراف کرتے ہوئے ایک سال کا نصاب چھے ماہ میں پڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے، نتیجتاً استاد اطمینان سے پڑھا پاتا ہے، نہ طالب علم سمجھ پاتا ہے۔ سیمسٹر کے اختتام پر طلبہ کے ذہن میں علم نہیں، صرف امتحان کی تھکن باقی رہ جاتی ہے۔ یہ قطعاً موثر تعلیمی نظام نہیں، ایک مسلسل ذہنی دوڑ ہے، جس میں سیکھنا، سمجھنا بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

استاد، اختیار اور سوال کی سزا: تعلیم کا مقصد اُس وقت فوت ہوجاتا ہے، جب سوال کرنا جرم بن جائے۔ پاکستانی جامعات میں استاد کو اکثر ایک ایسی اتھارٹی سمجھا جاتا ہے، جس سے سوال پوچھنا بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ سوال سے احتراز اور خاموشی کے اس رویّے سے طلبہ کی فکری نشوونما رُک جاتی ہے۔

حالاں کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن خود اساتذہ کی تربیت میں اس بات پر زور دیتا ہے کہ استاد کا کردار رہنما کا ہونا چاہیے، مگر عملی طور پر استاد اور طالب علم کے درمیان ایک فاصلہ قائم رکھا جاتا ہے، جس سے علم کے پنپنے کے بجائے، صرف خوف پروان چڑھتا ہے۔

امتحان یا آزمائش: پاکستانی جامعات میں لیے جانے والے امتحانات میں علم کی جانچ کم اور طالب ِعلم کی آزمائش زیادہ ہوتی ہے۔ تھیوری کے اسّی نمبرز پر مشتمل تین گھنٹے دورانیے کے پرچے میں چار طویل سوالات، متعدد مختصر سوالات، تعریفیں، فرق اور تشریحات پر مبنی سب ہی کچھ ایک ہی وقت میں طالب ِعلم سے طلب کیا جاتا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ طالب علم جانتا ہے، یا نہیں، سوال یہ ہے کہ وہ کتنا لکھ سکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے امتحانی رہنما اصول یہ کہتے ہیں کہ پرچہ طلبہ کی فہم، تجزیے اور تنقیدی صلاحیت کو جانچے، مگر عملی طور پر طالبِ علم کا حل شدہ پرچہ اس بات کا امتحان بن جاتا ہے کہ اس نے کتنی سطریں یاد کیں اور کتنی تیزی سے قلم چلایا۔

گویا، علم کی گہرائی ثانوی اور صفحات کی تعداد اصل معیار بن جاتی ہے۔ یہ صُورتِ حال اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مسئلہ طلبہ میں نہیں، بلکہ پرکھنے کے طریقے میں ہے۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے اصولوں کے مطابق، اگر کسی مضمون میں مسلسل کم نتائج آ رہے ہوں، تو نصاب، تدریس اور امتحان، تینوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے، مگر ہمارے یہاں یہ مرحلہ کبھی آتا ہی نہیں۔حالاں کہ دنیا کی معتبر جامعات میں تعلیم، خوف پر نہیں بلکہ اعتماد پر استوار ہوتی ہے۔

وہاں طالبِ علم یہ جانتا ہے کہ اس کی کارکردگی ایک دن کے امتحان تک محدود نہیں، بلکہ اس کی پورے سیمسٹر میں محنت کو دیکھا، پرکھا جائے گا۔ اس لیے وہاں امتحان فیصلہ کُن ہتھیار نہیں، بلکہ تعلیمی عمل کا ایک حصّہ ہوتا ہے۔ حیاتیاتی علوم میں طلبہ کو مشاہدہ، تجربہ، فیلڈ ورک اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔

اس طریقے سے طالب علم نہ صرف بہتر سیکھتا ہے، بلکہ ذہنی دباؤ سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے طلبہ عملی زندگی میں زیادہ پُراعتماد اور فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ یہ فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ طلبہ کی صلاحیت کا نہیں، بلکہ تعلیمی ڈھانچے کا ہے۔

نجی اور سرکاری جامعات: ملک کی نجی جامعات نے کسی حد تک جدید تعلیمی و تدریسی طریقے اپنائے ہیں ۔ وہاں کوئزز، اسائنمنٹس، پریزنٹیشنز اور مسلسل جانچ کے ذریعے طلبہ کی کارکردگی کو پرکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وہاں کے طلبہ نسبتاً بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں اور ذہنی دباؤ کا شکار بھی کم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس سرکاری جامعات اب بھی روایتی طریقہ امتحانات ہی کو سب کچھ سمجھتی ہیں۔

اگر نجی ادارے محدود وسائل میں بہتری لا سکتے ہیں، توسرکاری جامعات کیوں نہیں؟ یہ فرق اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف بجٹ کا نہیں، بلکہ سوچ کا ہے، جسے جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کیا جانا اشد ضروری ہے۔تاہم، تعلیم میں اصلاح کا مطلب یہ نہیں کہ معیار کم کر دیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معیار کو منصفانہ بنایا جائے۔

طالب ِ علم حیاتیاتی علوم میں آسانی نہیں چاہتا، وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی سمجھ کو پرکھا جائے، نہ کہ اس کی برداشت کو۔ امتحانات کو محدود نمبرز تک رکھنا، مسلسل جانچ کو فروغ دینا، اساتذہ کی تدریسی تربیت اور طلبہ کے لیے لچک دار پالیسیزبنانا، یہ سب وہ راستے ہیں، جو اعلیٰ تعلیمی کمیشن خود تجویز کرتا ہے، مگر افسوس، ان پر عمل کم ہی ہوتا ہے۔

ان موضوعات پر غور کرنے کے بعد ایک حقیقت پوری شدّت سے سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا مسئلہ نہ صرف تعلیمی ہے، بلکہ اخلاقی اور فکری بھی ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ طالب ِعلم ذہین ہے یا کم زور، محنتی ہے یا غافل۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس نظام کے تحت اس کو پرکھا جا رہا ہے، کیا وہ نظام خود منصفانہ، حقیقت پسندانہ اور علم دوست بھی ہے یا نہیں۔

مختصر یہ کہ تعلیم، جس کا اصل مقصد شعور کی بے داری تھا، وہ طلبہ کے لیے خوف کی تربیت گاہ میں تبدیل ہو گیا۔ جامعات علم کے مراکز بننے کے بجائے امتحانی مشینیں بنتی چلی گئیں۔ حیاتیاتی علوم جیسے فہم طلب مضامین کو یادداشت کی قید میں ڈال دیا گیا۔ سسٹیمیٹک بائیولوجی جیسے مضمون کو، جو فطرت کے رشتوں کی تفہیم کا نام تھا، ناموں اور خانوں کی فہرست بنا دیا گیا۔ سیمسٹر سسٹم اپنی رُوح کھو بیٹھا اور استاد رہنما کے بجائے اختیار کی علامت بن گیا۔

امتحان، جو علم کی جانچ کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، طالب علم کی ذہنی اور جسمانی برداشت آزمانے کا ہتھیار بن گیا۔ صفحات کی تعداد کو علم کا پیمانہ سمجھ لیا گیا، اور ناکامی کا تمام بوجھ طلبہ کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔ اجتماعی ناکامی کو نظام کی خرابی کے بجائے انفرادی جرم قرار دے کر ادارے خود کو بری الذمہ ثابت کرتے رہے۔ اس تناظر میں عالمی تعلیمی روّیوں سے یہ حقیقت مزید نمایاں ہو گئی کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں، ساخت اور سوچ کا ہے۔ وہاں تعلیم خوف سے آزاد، امتحان معاون اور استاد سوال کو خوش آمدید کہنے والا ہوتا ہے۔

پاکستان کی نجی جامعات میں بھی اسی سوچ کی ہلکی سی جھلک نظر آتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تبدیلی ناممکن نہیں، بس پسند اور نا پسند کا معاملہ ہے۔ اس تمام مباحث کا حاصل یہ ہے کہ پاکستانی طالب علم رعایت نہیں مانگ رہا، معیار میں کمی کا مطالبہ نہیں کر رہا، وہ صرف انصاف چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اُس سے وہی پوچھا جائے، جو اُسے پڑھایا گیا، وہی پرکھا جائے، جو اُس نے سمجھا، اور اُس کی محنت کو ایک دن، ایک پرچے اور چند صفحات کی نذر نہ کیا جائے۔

اگر آج ہم نے تعلیم کو سزا سمجھنا بند نہ کیا، امتحان کو اصلاح کے بجائے انتقام کا ذریعہ بنائے رکھا اور سوال کرنے والے ذہن کو دبانے کی روایت نہ بدلی، تو ہماری جامعات کبھی بھی علم کے چراغ روشن نہیں کر سکیں گی۔ وہ صرف ڈگریاں (کاغذ کے ٹکڑے) بانٹتی رہیں گی، اور قوم اندھیروں ہی میں راستہ ڈھونڈتی رہے گی۔

سنڈے میگزین سے مزید
تعلیم سے مزید