کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)مرکزی انجمن تاجران رجسٹرڈ بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ اور متاثرہ ٹھیکیداران کے رہنما سید محمد ایاز آغا نے صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ایک غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر جعلی ورک آرڈر دے کر ان سے کروڑوں روپے کا سامان وصول کرنے کے باوجود تاحال ادائیگیاں نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کرکے متاثرین کو ان کی رقم واپس دلائی اور ذمہ داروںکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیرسرکاری تنظیم جو بلوچستان میں مختلف ٹھیکیداروں سے ٹینڈر کے زریعے سامان کی فراہمی کے لئے ورک آرڈر جاری کیے اور سامان اپنے ویئر ہاؤس میں وصول کرنے کے بعد رقم کی ادائیگی نہیں کی ، ہمارے پاس مختلف دستاویزات ، ورک آرڈرز ، تصاویر سمیت دیگر شواہد موجود ہیں جو متعلقہ فورمز پر پیش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول کیلئے ہم ایف آئی اے ، بلوچستان پولیس، ڈپٹی کمشنر آفس ،محکمہ داخلہ اور دیگر دفاتر میں درخواستیں دے چکے ہیں لیکن تا حال کوئی شنوائی نہیں ہوئی معلومات اور دستاویزات ریکارڈ کے مطابق اس معاملے میں بعض بااثر افراد شامل ہیں ۔ٹھیکیداروں نے کافی سامان مارکیٹ سے فراہم کیا جس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔انہوں نے صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا۔