• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان طالبان کے نورستان میں مبینہ تشدد کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات بےبنیاد ہیں: وزارت اطلاعات

وزارت اطلاعات و نشریات نے فیکٹ چیک کرتے ہوئے افغان طالبان رجیم کے نورستان میں مبینہ تشدد کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ 

وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان رجیم کے نورستان میں مبینہ تشدد کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات بےبنیاد ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان افغان سیکیورٹی فورسز یا انٹیلیجنس اداروں کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ افغانستان کے اندرونی جھڑپوں میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کرتے ہیں۔

وزارت اطلاعات نے کہا کہ سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دینے کے الزامات بےبنیاد ہیں۔ داعش یا کسی دہشتگرد گروہ کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات بھی بے بنیاد ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے خلاف الزامات کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے اور نہ کسی فرد کی شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ یا فرانزک شواہد سامنے آئے ہیں۔

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی مبینہ ویڈیو میں چند غیرمسلح افراد دکھائے گئے۔ ویڈیو میں افراد مناسب لباس یا سازوسامان سے بھی لیس نہیں۔ ویڈیو افغان طالبان رجیم کی جانب سے طے شدہ انداز میں بنائی گئی لگتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی عالمی رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی افغان دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستان سے تعلق جوڑنے کی کوششیں افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی موجودگی نہیں چھپا سکتیں۔ افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور سازگار ماحول حاصل ہے۔

وزارت اطلاعات نے کہا کہ طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کی معاونت کا الزام باعثِ حیرت ہے۔ افغانستان سے سرگرم دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ طالبان رجیم کو بے بنیاد الزامات کے بجائے اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ عزم کی پاسداری ضروری ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم کے دعوے اندرونی اختلافات اور خواتین، بچوں و اقلیتوں پر جبر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔

قومی خبریں سے مزید