امریکی خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کے اعزاز میں منعقدہ سرکاری عشائیے میں روایتی بال گاؤن کے بجائے پتلون پہن کر روایتی ضابطوں کو بدل دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق رسمی تقریبات کے لیے خصوصی لباس زیب تن کرنا خاتونِ اوّل کی ذمے داریوں کا حصہ ہے، تاہم میلانیا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہر تقریب کے لیے چمک دمک سے بھرپور گاؤن پہننا ضروری نہیں۔
حال ہی میں چینی صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل کی میزبانی میں وائٹ ہاؤس میں منعقدہ سرکاری عشائیے میں خوش آمدید کہا گیا۔
پینگ لی یوان نے شوخ سرخ رنگ کے دیدہ زیب گاؤن میں خوبصورتی کا مظاہرہ کیا، جبکہ میلانیا نے بظاہر ایک غیر معمولی طور پر پینٹ شرٹ کا انتخاب کیا۔
خاتونِ اوّل کے اس غیر روایتی رسمی لباس میں عشائیے کے مہمانوں کے لیے ایک خاص اشارہ بھی شامل تھا۔
کڑھائی سے مزین پتلون پر پیونی کے پھولوں کا منفرد نقش بنایا گیا تھا، جو چینی ثقافت میں اکثر پھولوں کا بادشاہ کہلانے والے پیونی پھول کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب میلانیا نے روایتی ضابطوں کو تبدیل کیا ہو، وہ اس سے قبل بھی رسمی ملبوسات کے بجائے پتلون کو ترجیح دے چکی ہیں۔
رواں برس کے آغاز میں بھی خاتونِ اوّل نے 2026 کے ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کے موقع پر سیاہ پینٹ سوٹ پہنا تھا۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں اپنے سرکاری پورٹریٹ کے لیے بھی اسی نوعیت کا ٹکسیڈو سوٹ منتخب کیا تھا۔