پشاور (ارشد عزیز ملک)قومی احتساب بیورو کو 100ارب روپے کےخیبر پختونخوا سٹیز امپروومنٹ پروجیکٹ کی ابتدائی انکوائری کے دوران ادائیگیوں، زمین کے معاوضے، بینک ریکارڈ، ٹیکس اور زمین کی منتقلی میں سنگین بے قاعدگیوں کے شواہد ملے ہیں۔نیب ذرائع کے مطابق ریکارڈ کے جائزے کے دوران ایسی ادائیگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جن کی رسیدیں دستیاب نہیں، جبکہ بعض ادائیگیوں کے مستحقین کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفصیلات بھی بینک کے ریکارڈ میں برقرار نہ رہنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ نیب نے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ، متعلقہ بینک اور وزارت خزانہ اسلام آباد سے وینڈرز، کنٹریکٹرز اور ٹیکس حکام کو کی جانے والی ادائیگیوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق کنٹریکٹر کو کی جانے والی ادائیگیوں میں چیک رجسٹر اور ایس اے پی سسٹم کے ریکارڈ کے درمیان لاکھوں روپے کا فرق بھی سامنے آیا ہے۔