روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے اپنی اہلیہ سے تقریباً 30 سالہ ازدواجی رفاقت کے بعد علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
13 سال قبل دونوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر اپنی علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یہ فیصلہ باہمی رضامندی سے کیا گیا۔
اس وقت پیوٹن کی اہلیہ لیودمیلا، جن سے انہوں نے 1983ء میں شادی کی تھی اور جو اس وقت 55 برس کی تھیں، ان کے ہمراہ موجود تھیں اور انہوں نے بھی اس معاملے پر گفتگو کی تھی اور بتایا تھا کہ دونوں الگ الگ رہتے ہیں۔
ولادی میر پیوٹن نے کہا تھا کہ میری تمام سرگرمیاں اور میرا تمام کام تشہیر اور مکمل عوامی زندگی سے وابستہ ہے، کچھ لوگوں کو یہ پسند ہے اور کچھ کو نہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس طرزِ زندگی سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ لیودمیلا گزشتہ 8 یا 9 برس سے اس صورتِ حال کو برداشت کر رہی تھیں، لہٰذا یہ باہمی فیصلہ ہے، ہم تقریباً ایک دوسرے کو دیکھ ہی نہیں پاتے تھے۔
خیال رہے کہ روسی صدر کی 2 بیٹیاں، ماریا اور ییکاترینا ہیں، جو اس وقت 20 کی دہائی کے آخری برسوں میں تھیں، جبکہ لیودمیلا بھی شاذ و نادر ہی عوامی سطح پر نظر آئیں۔
دوسری جانب پیوٹن کی نجی زندگی مسلسل قیاس آرائیوں کا موضوع رہی ہے۔
پیوٹن اور ان کی اہلیہ لیودمیلا نے جون 2013ء میں 30 سالہ ازدواجی زندگی کے بعد علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ولادی میر پیوٹن کی ریاستی امور کے باعث انتہائی مصروفیت کے سبب دونوں بمشکل ایک دوسرے کو وقت دے پاتے تھے۔
لیودمیلا نے کہا تھا کہ مجھے شدید عوامی توجہ پسند نہیں تھی اور دونوں اپنی اپنی الگ زندگی گزار رہے تھے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیوٹن کے دیگر افراد کے ساتھ مبینہ تعلقات سے متعلق افواہوں کو بارہا مسترد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتہائی مصروف شیڈول کے باعث روسی صدر کے پاس خاندانی زندگی کے لیے گنجائش نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پیوٹن کا اپنی ذاتی اور رومانوی زندگی کو نجی رکھنا ایسے سخت گیر رہنما کے تاثر کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جو اپنی پوری توجہ روسی ریاست کے لیے وقف کیے ہوئے ہے۔