• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرانس میں مہنگائی کیخلاف پرتشدد احتجاج، تاریخی ٹاؤن ہال نذر آتش

پیرس(رضا چوہدری / نمائندہ جنگ)فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُر تشدد احتجاج، تاریخی ٹاؤن ہال نذرِ آتش،پیرس سمیت متعدد شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہزاروں افراد گرفتار،تفصیلات کے مطابق فرانس میں مہنگائی، بڑھتے اخراجاتِ زندگی، تعلیمی اداروں کی خراب صورتحال اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ہونے والے ملک گیر مظاہرے ہفتہ 17اکتوبر کو پُرتشدد واقعات میں تبدیل ، پیرس سمیت متعدد بڑے شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا، دکانوں میں لوٹ مار کی گئی اور کئی مقامات پر آتش زنی کے واقعات پیش آئے،فرانسیسی شہر لیموج میں نقاب پوش افراد نے 143سال پرانے تاریخی بلدیاتی دفتر کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی چھت گر گئی۔ یہ واقعہ شہر کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث بن گیا،مارسیلی میں مظاہرین بلدیاتی دفتر میں داخل ہوگئے اور عمارت کے اندر توڑ پھوڑ کی۔ فرنیچر اور دیگر سامان کو نقصان پہنچایا گیا،جبکہ لیل سمیت دوسرے شہروں میں بھی سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے۔بورڈو میں انتظامی سربراہ کی سرکاری رہائش گاہ کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ لیون میں سیاحوں کے معلوماتی مرکز میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے، دارالحکومت پیرس میں مظاہروں کے دوران جمہوریہ چوک اور دیگر علاقوں میں پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے۔ بعض مقامات پر نقاب پوش افراد نے پتھراؤ کیا، رکاوٹیں کھڑی کیں اور دکانوں کے شیشے توڑ دیئے۔ متعدد کاروباری مراکز، بازاروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا اور لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے صورتحال پر قابو پانے کیلئے پولیس نے آنسو گیس اور ہجوم کو منتشر کرنے والے دیگر ذرائع استعمال کیے،بعض علاقوں میں پولیس کو اضافی نفری طلب کرنا پڑی۔ مظاہروں کے بعد کئی شہروں میں سڑکوں سے جلی ہوئی گاڑیوں، ٹوٹی ہوئی رکاوٹوں اور ملبے کو ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے،فرانس کے وزیرِ اعظم سیباسٹین لیکورنو نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے پُرتشدد واقعات کے سلسلے میں تقریباً 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا جب کہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعد ازاں فرانسیسی خبر رساں اداروں کی اطلاعات میں گرفتاریوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 1800 بتائی گئی، بعض بین الاقوامی ذرائع نے زخمی اہلکاروں کی تعداد کے حوالے سے اس سے زیادہ اعداد و شمار بھی جاری کیے۔

اہم خبریں سے مزید