• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرانس میں پرتشدد مظاہرے، صدر کی مذمت، معاملات طے کرنے پر زور

پیرس ( رضا چوہدری / نمائندہ جنگ)فرانس میں پُرتشدد مظاہروں پر صدر میکروں کا سخت ردعمل، توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کا اعلان ،مارسیلی میں بلدیہ کی عمارت پر دھاوا، تقریباً 2400 افراد گرفتار، ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار، صنفی اہلکار اور امدادی کارکن زخمی، فرانس میں مہنگائی، قوتِ خرید میں کمی اور نوجوانوں کو درپیش مسائل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں توڑ پھوڑ، آتشزنی اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد صدر ایمانوئل میکروں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ، انہوں نے واضح کیا کہ پُرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کے جائز مطالبات اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، دکانیں لوٹنے اور تشدد کرنے والوں کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے،صدر ایمانویل میکرون نے ایوانِ صدر سے خطاب میں کہا کہ ملک بھر میں ہونے والے واقعات کی تصاویر دیکھ کر ہر شخص کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرانسیسی شہری اپنے ہی ملک کے ساتھ ایسا سلوک کیسے کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہروں میں ہونے والے تشدد، سرکاری عمارتوں پر حملوں اور کاروباری مراکز کی تباہی کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا،صدر فرانس نے انتہائی بائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں اور ان کے ساتھ شامل ہونے والے جرائم پیشہ عناصر کو پُرتشدد کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے عناصر کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرے گی، انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کی حمایت کی، فرانس کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران سرکاری عمارتوں، دکانوں اور عوامی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا، وسطی فرانس کے شہر لیموج میں انیسویں صدی کی تاریخی بلدیہ کی عمارت میں آگ لگنے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی چھت تباہ ہو گئی۔ یہ واقعہ شہر کی تاریخی شناخت اور عوامی ورثے کے لیے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے،ملک کے دوسرے بڑے شہر مارسیلی میں مشتعل مظاہرین بلدیہ کی عمارت میں داخل ہو گئے اور اندر موجود سامان کو نقصان پہنچایا، شہر میں صورتِ حال قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کو مداخلت کرنا پڑی،لیون میں سیاحتی دفتر کو آگ لگانے اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے جب کہ بوردو میں صوبائی انتظامیہ کے سربراہ کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اہم خبریں سے مزید