پشاور(گلزار محمد خان )پاکستان کی 79 سالہ تاریخ میں خیبر پختونخوا اسمبلی تقریباً 30 سال تک ون یونٹ سے مارشل لا اور گورنر راج سے نگران حکومتوں تک سیاسی تعطل کا شکار ،غیر فعال اور غیر موجود رہی،مختلف ادوار میں متعدد ایسے مراحل سامنے آئے جب صوبہ میں منتخب اسمبلی کے ذریعے قانون سازی اور جمہوری نگرانی کا عمل معطل رہا،1955 سے 1972 تک ون یونٹ میں 17 سال تک اسمبلی معطل رہی،1975 میں 76 دنوں تک گورنر راج نافذ رہا ،1977 سے 1985 تک 8 سال ضیا الحق مارشل لا اور 1994 میں 58 دنوں تک گورنر راج کی وجہ سے اسمبلی معطل رہی،1999 سے 2002 تک 3 سالہ مشرف دور ، 2023 سے 2024 تک نگران حکومت رہی، 11 اکتوبر 2026 سےصوبہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہے۔1955ء میں ون یونٹ سکیم کے تحت مغربی پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں کو یکجا کرکے مغربی پاکستان کا ایک صوبہ تشکیل دیا گیا،اس انتظام کے نتیجے میں اس وقت کے صوبہ سرحد کی علیحدہ صوبائی حیثیت ختم ہوگئی، یوں صوبہ کی الگ قانون ساز اسمبلی بھی موجود نہ رہی۔