یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں بیلسٹک میزائلز، ڈرونز، جدید فضائی نظاموں اور لڑاکا طیاروں کا استعمال جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب جدید فضائی دفاعی نظام اور مضبوط فضائی قوت کے ذریعے اپنی اہم تنصیبات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے پاس فلسطین 2 بیلسٹک میزائل موجود ہے جس کی مار 2,150 کلو میٹر، رفتار تقریباً 19 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ اور دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت 500 کلو گرام ہے۔
حوثی اسے آواز سے کئی گنا زیادہ رفتار والا میزائل قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح ذوالفقار یا برکان 3 میزائل کی مار 1,200 کلو میٹر سے زیادہ، رفتار تقریباً 6 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ اور دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت 250 کلو گرام ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق حوثی رجوم ڈرون بھی استعمال کرتے ہیں جس کی پرواز کی حد 10 سے 30 کلو میٹر اور رفتار 200 سے 250 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، یہ 6 مارٹر گولے لے جا سکتا ہے۔
صماد 1 نگرانی ڈرون کی پرواز کی حد 500 کلو میٹر اور رفتار 200 سے 250 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، اسے دھماکا خیز مواد لے جانے کے لیے بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ادھر سعودی عرب امریکی ساختہ ایف 15 لڑاکا طیارے استعمال کرتا ہے جن کی رفتار تقریباً 3 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، یہ طیارے 940 گولیوں والی خودکار توپ سے لیس ہیں۔
یورپی ٹائفون لڑاکا طیاروں کی رفتار 2,495 کلو میٹر فی گھنٹہ اور پرواز کی حد تقریباً 3,790 کلو میٹر ہے، یہ فضائی اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سعودی عرب کے امریکی ساختہ اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر 330 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتے ہیں، یہ 16 میزائلوں اور 1,200 گولیوں والی خود کار توپ سے لیس ہوتے ہیں۔
سعودی اسکائی واسپ ڈرون کی پرواز کی حد 1,500 کلو میٹر اور رفتار 150 سے 200 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے، اسے یمن میں پہلی مرتبہ 18 ستمبر 2026ء کو استعمال کیا گیا تھا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے 2025ء میں دفاع پر 83.2 ارب ڈالرز خرچ کیے تھے جس کے باعث وہ دنیا میں آٹھویں اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔
سعودی دفاعی نظام میں امریکی ساختہ تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل نظام نمایاں ہیں۔
کنگز کالج لندن کے محقق نواف عبید کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام حوثیوں کے تقریباً 89 سے 90 فیصد میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض حملوں کا دفاعی نظام سے گزر جانا اس کی ناکامی نہیں کیونکہ سعودی عرب کا وسیع رقبہ، توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈے اور اہم مقامات دفاع کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی جدید فضائی قوت اور دفاعی نظام اسے حوثیوں کے میزائلز اور ڈرونز حملوں کے مقابلے میں نمایاں برتری فراہم کرتے ہیں جبکہ بیک وقت مختلف نوعیت کے حملوں کو روکنا ایک بڑا دفاعی چیلنج ہے۔