• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں خواندگی کی سو فیصد شرح کیسے ممکن ہے

ہمارے مہربان دوست اور پنجاب کے وزیر تعلیم رانا مشہود فرماتے ہیں کہ شرح خواندگی کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے یعنی پنجاب کے تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہماری حکومت کی سب سے پہلی کوشش ہوگی مگر پنجاب کی صوبائی حکومت پاکستان کی حکمران جماعت کے تحت اپنے فرائض ادا کررہی ہے اور اس جماعت کی اولین ترجیح تعلیم کی بجائے سڑکوں کی تعمیر دکھائی دیتی ہے اور تعلیم کا سارا کاروبارانتہائی مہنگے داموں تعلیم فروخت کرنے والے ٹھیکہ داروں کے حوالے کردیا گیا ہے جن کے تعلیمی اداروں سے قریب سے گزرنے کی بھی کو ئی غریب آدمی کوشش یا ہمیت نہیں کرسکتا۔ تعلیم یا خواندگی فروخت کرنے کے علاوہ ان اداروں نے میڈیا کے ذرائع پر بھی قبضہ کرنا شروع کردیا ہے تاکہ ان کے خلاف کوئی آواز یا چوں تک کی صدا بھی سنائی نہ دےسکے۔ کچھ بعید نہیں کہ کل یہ ادارے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کی سیٹوں پر بھی قبضہ شروع کردیں اور ملک کے تمام قوانین اور قوائد ان اداروں کے مفادات کی نگرانی کرنے لگیں۔ہماری دانست اورتجربے کے مطابق خواندگی کے فروغ کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح ملائشیا کے مہاتیر محمد نے بنایا تھا اور اپنے سیاسی کردار کے ذریعے اپنی اس ترجیح کو ثابت بھی کیا تھا اور دس سال سے بھی کم عرصے میں ملائشیا کےعام ٹیکسی ڈرائیور بھی بی اے یعنی گریجویشن کی سطح کی انگریزی بولنے لگے تھے اور ان کے کردار اور چال ڈھال میں ایک مہذب قسم کی خواندگی آگئی تھی۔ مہاتیر محمد نے خواندگی کی شرح میں اضافہ کرنے کے لئے عام لیکچرار اور استادوں کی تنخواہیں لاکھوں روپے کی مالیت تک پہنچا دی تھیں ،چنانچہ ترقی یافتہ علاقوں کے پڑھے لکھے لوگ ملائشیا میں تعلیم دینے کی ملازمتوں کی تلاش میں آگئے تھے۔ پاکستان سے پڑھے لکھے لوگ نوکریاں یا روزگار کے وسائل تلاش کرنے کے لئے باہر کے ملکوں میں جانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم ہنر مند، تعلیم یافتہ، قابل لوگوں کو پاکستان سے’’زندہ بھاگتے ‘‘دیکھ رہے ہیں انہیں اپنے ملک کے اندر روزگار کے وسائل فراہم نہیں کرسکتے خاص طور پر ہمارے ملک میں اپنی خواتین کے لئے روزگار کے بہت ہی تھوڑے وسائل ہیں۔ ان محدود وسائل کی موجودگی میںرانا مشہود یہ دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں کہ روشن مستقبل کا خواب سو فیصد شرح خواندگی کے بغیر پورا نہیں ہوسکے گا۔ سو فیصد شرح خواندگی پاکستان کی خواتین کے غیر تعلیم یافتہ ہونے سے کیسے ممکن ہوگی، اگر ملک کی آبادی میں اضافے کی رفتار تعلیم کے فروغ میں اضافے کی رفتار سے دو گنا اور تین گنا ہوگی تو سو فیصد شرح خواندگی کا خواب رانا  مشہود کس طرح دیکھ سکیں گے۔جو قومیں اور جو معاشرے سو فیصد شرح خواندگی کا خواب دیکھتے ہیں وہ شرح خواندگی میں اضافے کے لئے ملک اور معاشرے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرتے ہیں اور باقی تمام کام روک کر تعلیمی ترقی کے کاموں پر توجہ دینے کا فرض ادا کرتے ہیں اور مہاتیر محمد کی طرح اپنے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔ رانا مشہود نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے ہر بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا پڑے گا۔ ظاہر ہے سو فیصد خواندگی کی شرح تمام بچوں کے تعلیم یافتہ ہونے سے ہی پوری ہوگی۔ عالمی یوم خواندگی پر یہ بیان جاری کرنا اور تمام اخباروں میں شائع کرانا بھی خواندگی کی شرح میں سو فیصد اضافے کے حق میں جاتا ہے۔

.
تازہ ترین