کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)برصغیر میں حقوق نسواں کی علم بردار ممتاز افسانہ نگار ہاجرہ مسرورکی چوتھی برسی پندرہ ستمبر کو منائی جا رہی ہے۔ ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق ہندوستان کے مرکزِ علم و ادب لکھنؤ سے تھا اور وہ 17جنوری 1929ء کو پیدا ہوئیں۔ ہاجرہ مسرور کی بہنیں خدیجہ مستور اور اختر جمال بھی اْردو کی معروف ادیب تھیں۔ان کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جبکہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار اپنی نسل کے ممتاز شاعروں میں ہوتا تھا۔قیام پاکستان کے بعد ہاجرہ مسروراپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اورلاہورمیں سکونت اختیار کرلی۔اْس زمانے میں لاہورپاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطورکہانی و افسانہ نگاراپنا عہد شروع کرچکی تھیں۔ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی تھی۔انیس سو اڑتالیس میں انہوں نے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ "نقوش" شائع کرنا شروع کیا۔ہاجرہ مسرورکے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے، ان میں "چاند کے دوسری طرف"، "تیسری منزل"، "اندھیرے اْجالے"، "چوری چھپے"، " ہائے اللہ"، "چرکے" اور "وہ لوگ" شامل ہیں۔ ن کے افسانوں کا مجموعہ اْنیسو اکیانوے میں لاہور کے ایک ناشر نے "میرے سب افسانے" کے عنوان سے شائع کیا تھا۔افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔چند سال قبل آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی گئی اْن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کی تھیں۔ہاجرہ مسرور کو اْن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر 1995ء میں تمغہ حْسنِ کارکردگی" دیا۔ 2005ء میں انہیں "عالمی فروغِ اْردو ادب ایوارڈ" بھی دیا گیا تھا۔ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز "نگار ایوارڈ" بھی دیا گیا۔انہوں نے اْنیس سو پینسٹھ میں بننے والی پاکستانی فلم "آخری اسٹیشن" کی کہانی بھی لکھی تھی۔ ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں ہوا اور وہ ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔