وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے ’’دہشت گردوں کا صفایا نہ کیا تو خدانخواستہ پاکستان نہیں رہے گا‘‘ خدانخواستہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کوئی بھی انتہائی ممنوعہ بات کر سکتے ہیں، بس خدانخواستہ ایسا کوئی خطرہ ہی نہ رہے کہ خدانخواستہ کہنا پڑ جائے۔ ان دنوں وزیر اعظم پر پردہ غیب سے ایسے مضامین اترتے ہیں جو پہلے کبھی ان کی زبان سے نہیں سنے، بلکہ اب تو یوں بھی لگتا ہے کہ اخبار میں موجود تمام سیاسی انتظامی خبروں کے راوی وہی ہوتے ہیں۔ اصل راوی تو خشک پڑا ٹھٹھر رہا ہے، پاکستان نے اگر تباہ ہونا ہوتا تو 67 سال ایڑی چوٹی کا زور لگانے سے یہ کب کا دنیا کے نقشے سے غائب ہو چکا ہوتا، اس لئے وزیر اعظم ہمارا ’’تراہ نہ کڈیں‘‘ اور امید افزا باتیں کریں جیسے وہ کیا کرتے تھے۔ امکان موجود ہے کہ وہ کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ آج ہم نے خدانخواستہ نہاری نہ کھائی تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اللہ نے کبھی دہشت گردوں کو نہیں چاہا مگر دہشت گرد اسے بہت چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد بڑا عرصہ خوب مزے میں گزار گئے ہیں، اور ہم نے ان کی خدا سے دو نمبر محبت کو اسلام سمجھ کر انہیں سینے سے لگائے رکھا۔ خدانخواستہ پاک فوج نہ ہوتی تو پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کون کرتا، کوئی شوہر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ خدانخواستہ اس کی بیوی نہ ہوتی تو وہ کس سے کہتا کہ
تم مرے پاس ہوتی ہو گویا
جب کوئی دوسری نہیں ہوتی
خدانخواستہ اگر یہ خدانخواستہ بھی نہ ہوتا تو ہم اپنی بڑی خواہشات کا اظہار کس طرح کرتے، بہرحال حقیقت یہ ہے کہ خدانخواستہ ہم رہیں نہ رہیں یہ ملک باقی رہے گا۔ خدانخواستہ جنرل راحیل شریف نہ ہوتے تو ہم ہنوز طالبان سے مذاکرات کر رہے ہوتے، اور ان کو دہشت گردی کی ریہرسل کے بہترین مواقع میسر رہتے، خدانخواستہ عمران خان نہ ہوتے تو دھرنے کب ہوتے، خدانخواستہ طاہر القادری نہ ہوتے تو کینیڈا ویران ہوتا، خدانخواستہ شیخ رشید نہ ہوتے تو یہاں ہر شیخ ایک سیاسی پارٹی ہوتا، خدانخواستہ طالبان بھی نہ ہوتے تو ہم فارغ بیٹھے کیا کرتے، خدانخواستہ زندگی نہ ہوتی تو ہم موت سے کیوں ڈرتے، خدانخواستہ مولوی نہ ہوتے تو حلوے دنیا سے ناپیدہو چکے ہوتے، الغرض خدانخواستہ ایک ایسا مبتدا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی بھی خبر جوڑی جا سکتی ہے۔
٭٭٭
عاصمہ جہانگیر فرماتی ہیں:’’فوجی عدالتوں کا قیام منتخب نمائندوں کے خلاف نرم بغاوت ہے‘‘
3ماہ تک خان صاحب اپنی ٹیم کے ساتھ ریڈ زون میں سخت بغاوت کرتے رہے اور محترمہ سخت الفاظ میں مذمت کرتی رہیں، مگر انہوں نے ہنوز بغاوت کو نرم کرنے کے بجائے اسے ملتوی کر رکھا ہے۔ اعتزاز احسن نے سات گھنٹے قانون دانی کا زور لگا کر فوجی عدالتوں کو قابل قبول بنایا۔ یوں لگتا ہے کہ منتخب نمائندوں کو اب فوج سے مارشل لاء کا کوئی خطرہ نہیں، جنرل راحیل شریف پہلے جنرل ہیں جنہوں نے جمہوریت پسندی اور حب الوطنی کی ایسی مثال قائم کی کہ تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر فوجی عدالتوں کے دو سالہ قیام کو شرف قبولیت بخش دیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جرم ایک ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والے ہزاروں، ان سے نمٹنے کیلئے فوجی عدالتیں بھی کافی ہیں، کیونکہ کوئی لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں، ہر پاکستانی دہشت گرد کو دہشت گرد مانتا ہے، اور اسے فوری سزا دینے کا خواہاں ہے، اگر اسلام میں اجتہاد کی اجازت ہے تو آئین میں اجتہاد کیسے نہیں کیا جا سکتا۔ عاصمہ جہانگیر تسلی رکھیں جن کے خلافبقول ان کے نرم بغاوت ہوئی ہے وہ خود اس کی اجازت دے چکے ہیں، اگر مزید انتظار کیا جاتا اور دہشت گردوں کو قانونی موشگافیوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جاتا تو یہ دہشت گردی سویلین عدالتوں کے ہوتے ہوئے 30 برسوں میں ختم نہ ہوئی تو اب کیونکر ممکن تھا کہ اسے سے فوری نجات مل جاتی، جب پوری قوم اس پر راضی ہے تو قوم کے نمائندوں کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے، انصاف کے تقاضے فوجی عدالت ہو یا سول عدالت دونوں کو پورے کرنے پڑتے ہیں، بس فرق یہ ہے کہ جتنی تیز رفتاری سے دہشت گردی کے مقدمات نمٹائے جائیں اتنا ہی قومی و ملکی نقصان کم ہوتا جائے گا۔ اس وقت حاضر سروس مسئلہ دہشت گردی ہے، اور اس کے خاتمے میں جس قدر جلدی کی جائے ملکی مفاد میں ہے جب ایک قضیہ تمام سیاسی جماعتوں عوامی نمائندوں کے اتفاق رائے سے طے پا گیا ہے تو اب اس کو نرم بغاوت کہنا مناسب نہیں، اور منتخب نمائندوں نے اسے اپنے خلاف بغاوت قرار نہیں دیا تو محترمہ بھی ہتھ ہولا رکھیں، تحفظات پر ہی گزارہ کریں، بعض لوگ تو دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات بھی کر رہے ہیں، اس سے بڑی مذاق رات کیا ہو گی اور سحر ہو لینے دیں، تحفظات پر عوام کے تحفظ کو قربان نہ کیا جائے یہی بہتر ہے۔
٭٭٭
پاکستان میں شرابیوں کی تعداد بڑھ گئی، پنجاب پہلے سندھ دوسرے نمبر پر بلوچستان، کے پی کے کسی شمار قطار ہی میں نہیں۔
اگر انسان پر عقل کا پہرہ نہ ہوتا تو ہر شخص بن پئے شرابی ہوتا۔ عزیز میاں قوال اللہ مغفرت کرے واحد پاکستانی تھا جو طبلے کی چوٹ کہتا تھا میں شرابی، میں شرابی، لیکن کوئی معترض نہ ہوتا، اور یہی سمجھتا کہ انہوں نے شراب معرفت پی رکھی ہے، اگر فارسی عربی اردو پنجابی الغرض پوری شاعری کا جائزہ لیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ شاعرانہ شراب اور ہوتی اور بھٹیوں میں تیار کی گئی شراب اور ، یہ بھی لگتا ہے شرابیوں کی کوئی عالمی سازش ہے کہ شراب کی اتنی قسمیں بنا دو کہ شراب طہور، شراب معرفت، شراب وصل، شراب حسن کے ہجوم میں پتہ ہی نہ چلے کہ کون کس حساب میں شراب پی گیا اورداد بھی وصول کر گیا، یار لوگوں نے تو شراب کو سرے سے شراب ماننے ہی سے انکار کر دیا اور کہہ دیا
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل
گویا ان کے نزدیک شرابی انسان نہیں بوتل ہے، اور بوتل ناچتی نہیں، کیونکہ پکا شرابی اپنے حواس میں رہتا ہے۔ شراب کو شاعروں نے ایک ایسا استعارہ بنا دیا کہ جو مسلمانی بھی چھین لیتا ہے، ملاحظہ فرمائیں غالب کے اس شعر کو؎
ساقی بجلوہ دشمن ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزن تمکین و ہوش ہے
ریاض خیر آبادی کا ہر شعر شراب میں بھیگا ہوا ہے، مگر حضرت پرلے درجے کے زاہد پاکباز اور عابد شب زندہ دار تھے۔ بہرحال شاعر کچھ بھی کر لیں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ سب نہیں مگر اکثر پیتے تھے، اور ان کے سائے میں غیر شاعر بھی پیمانے لنڈھاتے اور خود پر الزام نہیں آنے دیتے تھے، شراب کے حرام ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ کوئی مسلمان اسے سرعام نہیں پی سکتا، اس لحاظ سے حسن اور شراب میں کوئی فرق نہیں، اگر کوئی معرفت سے لطف اندوز ہوتا ہے تو ہو مگر معرفت کو شراب تو نہ کہے کہ اس طرح بیک وقت معرفت اور شراب دونوں کی توہین ہوتی ہے۔
٭٭٭
سودا کھرا کھرا
٭.....الطاف حسین:کرپشن کے خاتمہ کیلئے اقدامات کا مطالبہ۔
کرپشن معاشرے کیلئے ہائی بلڈ پریشر ہے جسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے، اس قاتل کا سر قلم نہ کیا، تو سب کچھ قلم ہو جائے گا۔
٭.....مولانا فضل الرحمن:این جی اوز کا آڈٹ کیوں نہیں کیا جاتا۔
پاکستان میں موجود ہر ادارے کا چھوٹا ہو یا بڑا، آڈٹ ہونا چاہئے۔
٭.....وزارت پٹرولیم کی سمری:عوام کو پائپ لائن کے بجائے ایل پی جی سلنڈر کے ذریعے گیس دی جائے۔
یہ اس قسم کا حل ہے کہ غریبوں کو امیر نہیں بنا سکتے تو سب کو غریب بنا دیا جائے۔
٭.....کراچی پولیس چیف:ہم ملزم پکڑ رہے ہیں انہیں سزا نہیں مل رہی۔
اگر انہیں سزا ملنے لگی تو بہت سے افراد جزا سے محروم ہو جائیں، اس ملک میں جتنے پکڑنے والے ہیں ان سے کہیں زیادہ چھڑانے والے۔
٭.....وزیر اعلیٰ شہباز شریف:دہشت گردی ختم کرکے آئندہ نسلوں کو پرامن پاکستان دے کر جائیں گے، اور کیا کیا دے کر جائیں گے، پرامن خالی پاکستان میں خالی پیٹ عام آدمی کو نیند کیسے آئے گی۔
٭.....بھارت نے پھر ورکنگ بائونڈری پر بلااشتعال فائرنگ کر دی۔
اس کا مطلب ہے بھارت سے کوئی خطرہ نہیں۔
٭.....پاکستان کو کیا ہوا؟
پاکستان کی تخلیقی صلاحیتیں گمراہ ہو گئیں۔
ؕ