جریدہ ’’احوال لاہور‘‘ میں گلزار ملک ’’پرندے بیچنے والے‘‘ کے عنوان کے تحت ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو قیدی پرندوں کو آزاد کرانے کا ثواب حاصل کرنے اور اس ثواب کے ذریعے مقدمے کو جیتنے یا باعزت بری ہونے کے لئے، بیماری سے شفایاب ہونے یا اپنی کوئی اور مراد پوری کروانا چاہتے ہیں۔ یہ ثواب کمانے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے پرندوں کو پکڑنے اور قید میں رکھنے کا گناہ کمانے والے اس کاروبار کو مارکیٹ اکانومی یا بازاری معیشت کے ضابطوں کے تحت گاہکوں کو ثواب فراہم کرنے والے اس گناہ کو گناہ نہیں سمجھتے کاروباری سودا سمجھتے ہیں جیسے نشہ بازوں کو ہیروئن اور چرس فروخت کرنے والے، قاتلوں کو زہر اور اسلحہ فراہم کرنے والے اپنے آپ کو مجرم نہیں سمجھتے اور عموماً شرمسار بھی نہیں ہوتے۔گلزار ملک صاحب نے پرندے بیچنے والوں کے کاروبار کے مذکورہ بالا پہلو پر توجہ دینے کی کچھ زیادہ کوشش نہیں کی۔ انہوں نے پرندے بیچنے کے لئے پرندوں کو پکڑنے اور قید کرنے والوں کو رزق کی تلاش میں سر گرم لوگ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ قدرت نے مختلف بہانوں سے انسان کو رزق کی تلاش سے وابستہ کر رکھا ہے۔ گویا یہ کاروبار قدرت کے تقاضوں کے تحت چل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ حوالہ بھی دیا گیا ہے پرندوں کا شکار کر کے ان کا گوشت کھانے اور جانوروں کو ذبح کرنے والے قصابوں میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں ایک ہی کشتی کے سوار ہیں بہت سارے پرندے ایسے ہیں جن کی نسل میں کمی ہونا شروع ہوگئی ہے۔ مرغابی، گھوگھی، جل مرغ، تیتر اور بٹیر ایسے پرندے ہیں جو ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ اگر اس مسئلہ کی جانب توجہ نہ دی گئی تو عنقریب یہ پرندے صرف بچوں کی کتابوں اور کہانیوں یا چڑیا گھروں کی زینت ہی ہوں گے حقیقی دنیا میں ان کا وجود ختم ہو جائے گا۔لاہور کی سڑکوں پر جن پرندوں کو آزاد کروا کے ثواب کمانے کا کاروبار چل رہا ہے اس میں مذکورہ بالا نسل کے پرندوں کا کوئی وجود دکھائی نہیں دیتا۔ آزاد کرائے جانے والے قیدی پرندوں میں عام طور پر طوطا، لالی (شارق) فاختہ، کوا، آسٹریلین طوطے اور کبوتر ہی دکھائی دیتے ہیں جن کی نسل میں کمی آرہی ہے وہ بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں لاہور، پنجاب اور دیگر علاقوں کی جس قابل قدر اور واجب تکریم روایت کے حوالے کی اصل ضرورت تھی وہ ہماری بزرگ خواتین اور مہذب گھرانوں کے بچوں اور بچیوں کی یہ روایت ہے کہ وہ رات کے بچے ہوئے کھانے اور روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے صبح سویرے اپنے گھروں کی چھتوں پر پرندوں کے ناشتے کے لئے بچھا دیتی اور مٹی کی کنالیوں میں پرندوں کے لئے پانی بھی رکھا جاتا ہے۔ پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں بھرپور ’’برڈ کلچر‘‘ کی موجودگی کی ایک بڑی وجہ یہی بتائی جاتی ہے۔ اسلام آباد کی تعمیر کے ابتدائی سالوں سے یہ شہر پرندوں سے محروم ہے اور افسر شاہی کے قبضے میں ہے جو کہ اپنے آپ کو اصل حاکم سمجھتے ہیں ان کی بزرگ خواتین اور عورتوں میں لاہور کی پرندوں سے پیار کرنے والی خواتین جیسا وطیرہ نہیں ہوگا۔ شہری جب پرندوں کو پسند نہیں کریں گے اور ان سے پیار کا عملی اظہار نہیں کریں گے تو پرندے بھی شہریوں کو اجنبی ہی سمجھیں گے۔پرندوں کے ناشتے کا اہتمام کرنے والے شہریوں کی بجائے اگر پاکستان میں پناہ لینے والے پرندوں اور ’’برڈ کلچر‘‘ کی افزائش کا سبب بننے والے پرندوں کو ذبح، شکار یا قید کرنے کا کاروبار اپنایا جائے گا تو پھر شہروں کا پرندہ کا ثقافتی ماحول برقرار نہیں رہے گا۔ انسان پرندوں سے دور ہوگا تو پرندے بھی انسانوں سے دور ہو جائیں گے۔