• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکی میں جنسی زیادتی کے متنازع قانون کیخلاف مظاہرے

استنبول(جنگ نیوز) ترکی میں جنسی زیادتی سے متعلق حکومت کے مجوزہ متنازع قانونی بل کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے، مجوزہ بل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں خواتین اور مردوں کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ترک حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کی جانب سے پیش کردہ نئے بل کے مطابق کم عمر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا مرد متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے کے بعد سزا سے بچ سکتا ہے۔حکومت کی جانب سے تیار کردہ اس متنازع بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے اس کی پہلی منظوری دے دی گئی ہے،بل کو قانون کا حصہ بنانے اور اس کی حتمی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں 22 نومبر سے بحث شروع ہوگا۔حکومت کے مطابق بل جنسی زیاتی کے مرتکب ملزمان کو سزا سے بچانے کے لیے نہیں ہے، جب کہ مجوزہ بل کے خلاف مظاہرے کرنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ بل کے ذریعے جنسی زیادتی کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے پیش کردہ اس بل کو ترکی کے مختلف سیاستدانوں،سماجی کارکنان اور یہاں تک کے رجب طیب اردگان کی بیٹی نے بھی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے، مگر حکومت کا اصرار ہے کہ بل کا مقصد بچوں کی شادیوں کے مسائل سے نمٹنا ہے۔ترکی کے وزیر انصاف باکر بوزداخ کا استبول میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ بل کا مقصد جنسی زیادتی کے مجرمان کو معافی دینا نہیں ہے بلکہ مجوزہ بل کے ذریعے ملزمان کو یقینی سزا دلانا ہے۔
تازہ ترین