• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہلال احمر پاکستان انسانی خدمت کا ادارہ ہے، دائرہ 100 اضلاع تک پھیل چکا،میرخلیل الرحمٰن سوسائٹی کا سیمینار

 لاہور (ایم کے آر ایم ایس رپورٹ) ہلال احمر پاکستان کی تاریخ ڈیڑھ سو سال پرانی ہے۔1959ء میں یہ شروع ہوئی جب 1947 میں پاکستان بنا تو اس کا نام پاکستان ریڈکراس سوسائٹی رکھ دیا گیا۔ہلال احمر پاکستان انسانی خدمت کا ادارہ ہے  جس کا دائرہ 100 اضلاع تک پھیل چکا  ہے۔ عوام کا اس پر بھرپور اعتماد ہے۔ ہلال احمر پاکستان اس وقت ایسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جس کا سوچنا بھی ممکن نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں موجود جیلوں کے قیدیوں کی بلڈ سکریننگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ ان میں موجود بیماریوں کا علم ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی جنگ گروپ آف نیوز پیپرز اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی جنگ گروپ آف نیوز پیپرز اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے زیراہتمام ہونے والے سیمینار ’’ہلال احمر۔ انسانی خدمت اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ سے کیا۔ سیمینار میں خصوصی خطاب ڈاکٹر سعیدالٰہی نے پیش کیا۔ حرف آغاز بریگیڈیئر غلام محمد اعوان (سیکرٹری جنرل ہلال احمر پاکستان )نے پیش کیا۔مہمان خصوصی میں خواجہ سلمان رفیق (مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے صحت)صبا صادق (چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو) مسٹر اینڈ سٹاکر (Icrc) لیڈ آف ڈیلی گیشن) تھے۔ گیسٹس آف آنر میں سہیل وڑائچ سینئر صحافی، منو بھائی (سینئر کالم نگار)رانا ضیاء عبدالرحمن( صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن)، محبوب قادر (سابق سیشن جج)، کنول سکندر، ڈاکٹر ممتاز حسن (سابق وائس چانسلر کے ای ایم یو) اور خالد مجید شامل تھے۔ سیمینار کے میزبان واصف ناگی چیئرمین میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی جنگ گروپ آف نیوز پیپرز تھے۔ سیمینار میں تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول عثمان صدیق نے پیش کی۔ ڈاکٹر سعید الٰہی نے کہا کہ ہلال احمر پاکستان انسانی خدمت کا ادارہ ہے اور اس وقت تقریباً ایک سو اضلاع میں کام کر رہا ہے اور ہلال احمر پاکستان ایک ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ ہلال احمرپاکستان میں بہت موثر خدمات انجام دے رہا ہے ۔ فاٹا میں صرف فوج ہے اس کے باوجود ہلال احمر کے 5 ہزار ورکر وہاں پر کام کر رہے ہیں۔ ہلال احمر پاکستان کے اس وقت تقریباً ایک سو کے قریب منصوبے چل رہے ہیں حکومت صرف پانچ فیصد گرانٹ دیتی ہے ہماری گزارش ہے کہ حکومت امداد میں اضافہ کرے اس کے علاوہ پاکستان کے سوا اضلاع میں ہمارے نمائندے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فرسٹ اینڈ ٹریننگ پروگرام کا انعقاد تقریباً ایک سو اضلاع میں جاری ہے اگر ہم باہر کے ممالک کے ساتھ موازنہ کریں تو وہاں پر چھوٹی عمر میں وی بچوں کو فرسٹ اینڈ ٹریننگ دی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہماری پوری کوشش ہے کہ پاکستان کے تمام اضلاع میں ہم ٹریننگ پروگرامز کا انعقاد کریں۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں میں ہیلپ لائن سروس بھی شروع کی گئی ہے اور ہسپتالوں میں سٹریس مینجمنٹ کورسز بھی کروائے جا رہے ہیں سکول سیفٹی پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قومی کی ترقی اور خوشحالی کے لئے عوام میڈیا اور لیڈروں کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کر نا ہوگا۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ہلال احمر کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی جا رہی ہے اور انسان کے وجود میں آنے کا م قصد ہی یہی ہے کہ وہ دوسرے انسان کی خدمت کرے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں انسانیت کی خدمت پر زور دیا جاتا ہے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والی صرف ایک شخصیت عبدالستار ایدھی ہیں جن کی مثال نہیں مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سعیدالٰہی کی سربراہی میں ہلال احمر مزید ترقی کی منازل طے کرے گا۔ جس طرح سے منو بھائی تھیلیسیما کے بچوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں ہمیں ان سےسبق سیکھنا چاہئے۔ ہمیں کبھی شکست تسلیم نہیں کرنی چاہئے اور پوری کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ واصف ناگی نے کہا کہ انسانیت کی خدمت ایک نہایت اہم موضو ہے اور جب سے ڈاکٹر سعید الٰہی نے ہلال احمرپاکستان کا چارج سنبھالا ہے۔ تب سے اس کی سرگرمیاں بین الاقوامی سطح پر پہچانی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر سعید الٰہی کافی محنت کر رہے ہیں اس کے لئے ہمیں انہیں خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔ ملک میں جب بھی قدرتی آفات آتی ہیں ہلال احمر نے اپنی موثر منصوبہ بندی کے تحت عوام کی خدمت کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ان دور دراز علاقوں میں کام کیا جا رہا ہے جہاں پر جانا بھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ بریگیڈیئر غلام محمد اعوان نے کہا کہ ہلال احمر پاکستان انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہے۔ انسانی خدمت کرنا بھی ایک عبادت ہے اور ہلال احمر اس وقت پاکستان کا صف اوّل کا ادارہ ہے اور اس کی خدمات پوری دنیا میں مانی جاتی ہیں۔ ہلال احمر کے تحت مختلف اداروں میں IRFL پروگرام شروع کئے گئے ہیں اس کے علاوہ ملک بھر کی جیلوں کے قیدیوں کی بلڈ سکریننگ کی جارہی ہے تاکہ بیماریوں کا علم وسکے۔ پلپ ڈیسک پروگرام بھی شروع کیا ہے۔ ہلال احمر میں اس وقت سترہ لاکھ رضاکار کام کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ 2020ء تک 10لاکھ نوجوانوں کو اس میں شامل کر لیا جائے۔ 1978ء سے ہلال احمر کے تحت فرسٹ ایڈ پروگرام کئے جا رہے ہیں اور اسلام آباد میں نیشنل ایمبولینس کالج شروع کیا گی ہے جس میں ہیلتھ کیئر سے وابستہ ماہرین کو شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ تنظیم مختلف ویکسین پر بھی کام کرے گی۔ ہلال احمر پاکستان کے تحت لیڈیز فٹ بال ٹورنامنٹ بھی کروایا گیا جو کہ ویب سائٹ پر موجود ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ایک قومی سوسائٹی ہے اور کوشش ہے کہ کمیونٹی کو بہتر طریقے سے ٹریننگ دی جاسکے۔ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مختلف علاقوں میں دفاتر بنائے جا رہے ہیں اور ایک سو کے قریب ڈسٹرکٹ سطح پر دفاتر قائم ہیں۔ تقریباً 86ہیلتھ یونٹ اور 6بلڈ بینک ہیں۔ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے تحت سالانہ دس ہزار بلڈ بیگ اکٹھے کئے جا رہے ہیں اور تقریباً ساڑھے تین سو کے قریب ایمبولینسز بھی ہیں۔ اس وقت 1177 ٹیم لیڈر ہیں اور 1800225کے قریب رضاکار ہیں۔ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو 2015میں بین الاقوامی سطح پر کارکردگی کی بنیاد پر دو ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ۔ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ پولیو ویکسین پر بھی کام شروع کیا جائے۔ اس وقت 90کے قریب اضلاع میں فرسٹ ایڈ ٹریننگ چل رہی ہے اور تقریباً 16اضلاع میں ہیلتھ اینڈ سیفٹی موومنٹ شروع کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مستحق افراد کے لئے ویل چیئرز بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ اب چائنہ ریڈ کراس میڈیکل سنٹر بھی بنایا جا رہا ہے اور یونیسیف کے ساتھ دو ہفتے پہلے ایک ایم او یوز پر دستخط بھی کئے ہیں۔ اس کے علاوہ گاہے بگاہے مختلف اضلاع میں ورکشاپ کا انعقاد کیا جاتا ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کی ضروریات کا علم ہوسکے۔ انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے بتایا کہ چند دن پہلے ترکی کی فرسٹ لیڈی آئیں اور ان کے دست مبارک سے الیکٹرک ویل چیئرز تقسیم کروائی گئیں۔ تھرپارکر میں بھی ایک سو کے قریب کیمپ لگائے گئے۔ رئیو سٹاکر نے کہا کہ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اب ایک فائونڈیشن بن چکی ہے اور فاٹا تک اس کی خدمات ہیں۔ اگر ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اب اس کی کارکردگی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کو جانا جاتا ہے۔ پنجاب کے رہنے والے شاید ICRC کے بارے میں اتنا نہیں جانتے ہیں۔ ICRC ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ساتھ مل کر عوام کی بہتری اور فلاح و بہبود کے لئے کوشاں ہے۔ مظفر گڑھ میں بھی ایک پروگرام شروع کیا ہے پاکستان اس وقت بہت سے مسائل میں ڈوبا ہوا ہے ان حالات میں ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ صبا صادق نے کہا کہ انسانیت کی خدمت سوشل سیکٹر کا اہم حصہ ہے۔ جب ہم طالب علم تھے ہم ریڈکریسنٹ سوسائٹی کا نام سنتے تھے مگر آج اس کی خدمات کا صحیح طرح سے علم ہوا ہے۔ جس طرح سے ریڈکریسنٹ کے رضا کار گلگت بلتستان میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ہمیں ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ معاشرتی و معاشی مسائل کو حل کرنے میں صرف حکومتیں کچھ نہیں کرسکتی ہیں اس میں تمام افراد کا تعاون ضروری ہے چاہے وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہوں۔ ریڈکریسنٹ سوسائٹی لوگوں کی خدمت میں سرگرم ہے اور ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے اگر ہمارے جذبات نیک ہیں تو کوئی رکاوٹ آڑے نہیں آئے گی۔  منو بھائی نے کہا کہ ہمارے ملک میں تعلیم اور صحت کو مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے یہ مسائل ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ ضرورت مندوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ سیاست بھی اتنی مہنگی نہیں ہے جتنی تعلیم اور صحت مہنگی ہو چکی ہے۔ ایسے دور میں جو لوگ ملک کی خدمت کر رہے ہیں وہ مبارکباد کے لائق ہیں۔ ریڈکریسنٹ سوسائٹی کو ڈاکٹر سعید الٰہی کی صورت میں اچھا لیڈر ملا ہے۔ جو لوگ اپنے فرائض کو جانتے ہیں وہ ملک کی حالت کو ضرور بہتر بنائیں گے۔ جو ادارے ملک کی بھلائی اوربہتری کے لئے کام کررہے ہیں ہمیں ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ کیونکہ ایسے ادارے اور افراد ملک کے حالات بدلنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ زندگی حادثات کا نام ہے۔ بعض اوقات حادثات انسان کی زندگی بدل دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سعید الٰہی کی دن رات محنت کے باعث اب ریڈکریسنٹ سوسائٹی کو پوری دنیا میں اہمیت دی جاتی ہے اور اس کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ جب دو ممالک آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں تو ہلال احمر زخمیوں کوطبی امداد فراہم کرتا ہے، ہمیں عالمی برادری کے رکن کی حیثیت سے اس کی عزت کرنی چاہیے۔ ایسے افراد جو کہ خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہیں ہمیں ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ محبوب قادر نے کہا کہ ریڈکریسنٹ سوسائٹی متحرک شخصیت کے آنے سے مثالی ادارے میں منتقل ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر سعیدالٰہی نے ملک و قوم کی خدمت کے لئے دن رات ایک کیا ہوا ہے۔ سوشل سروس نظریے کے بغیر کوئی بھی معاشرہ صحت اور توانا معاشرہ نہیں بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی ادارے کی کامیابی میں لیڈر شپ کا بہت اہم کردار ہے۔ ڈاکٹر ممتاز حسن نے کہا کہ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی بہت اچھی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ ہم دنیا کے کسی بھی مذہب کودیکھ لیں اس میں خدمت خلق کا درس دیا جاتا ہے ڈاکٹر سعید الٰہی مبارک باد کے ساتھ ساتھ نیک تمنائوں کے بھی مستحق ہیں کیونکہ یہ نہایت ہی نیک کام سرانجام دے رہے ہیں۔ رانا ضیا عبدالرحمٰن نے کہا کہ ریڈکریسنٹ سوسائٹی کو بہت اہمیت حاصل ہے اس میں پبلک سیکٹر کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انسانی خدمت کا جذبہ مذہب، معاشرہ، قانون بھی سکھاتا ہے۔ کنول سکندر نے کہاکہ یہ خدمت خلق کا ادارہ ہے اور پوری دنیا میں اس کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ 
تازہ ترین