آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ُٓپاکستان میں سائنس کے میدان کی اہم پیش رفت یہ ہے کہ یونیسکو نے پاکستان کے ایک سائنس و تحقیق کے ادارے کو کیمیائی سائینسز میں علاقائی سطح پر بہترین کارکردگی کا مرکز نامزد کیا ہے۔ اس مرکز کا نام بین الاقوامی ادارہ برائے کیمیائی و حیاتیاتی سائیسز ہے جو جامعہ کراچی میں واقع ہے۔ مشہور زمانہ ایچ ای جے تحقیقی ادارہ برائے کیمیا اور ڈاکٹر پنجوانی مرکز برائے سالمیاتی طب وادویاتی تحقیق اسی مرکز کے اہم جزو ہیں۔اس تاریخی نامزدگی کی باقاعدہ تقریب21 نومبر 2016ء کو یونیسکو ہیڈکوارٹر ، پیرس میں یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ، ڈاکٹر ارینا بکووا کی زیرصدارت منعقد ہوئی ۔ یہ پا کستا ن کے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اس سے پاکستان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ یہ ادارہ جامعہ کراچی میں واقع ہے اور لگ بھگ 17 عمارتوں پر مشتمل ہے۔ یہاں 500 طلباء پی ایچ ڈی کی سطح پر زیر تعلیم ہیں ۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا ڈاکٹریٹ پروگرام کا مرکز ہے۔ ابھی حال ہی میں جدید جینیاتی انجینئرنگ سہولتوںسے آراستہ جمیل الرحمن مرکز برائے جینیاتی تحقیق پروفیسر عطاء الرحمن کے ذاتی عطیے سے اسی ادارے کے اندر قائم ہوا ہے ۔ یہ ادارہ اس سے پہلے بھی بین الاقوامی سطح پر دنیائے اسلام کا بہترین سائنسی ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل کرچکا ہے۔ اسکے علاوہ اس ادارے کوWHO

، TWAS اور OIC کی جانب سے بھی بہترین کارکردگی کے مرکز کا اعزاز حاصل ہے۔ ایک اور بڑی کامیابی جو عالمی سطح پر ترقی پزیر ممالک میں سائنس کے فروغ میں مدد کرے گی وہ اقوام متحدہ کے مشاورتی بورڈ برائے سائنس ، ٹیکنالوجی و جدت طرازی برائے جنوبی و وسطی ایشیائی خطّے(UNESCAP)) کا قیام۔ یہ بورڈ 62 ممالک کا احاطہ کرتا ہے ۔ میں اور ڈاکٹر عبدالحامد ذکری (جو کہ ملائیشیاء کے وزیر اعظم کے مشیر بھی ہیں) اس بور ڈ کی صدارت کر رہے ہیں اس بورڈ میں آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان اور دیگر ممالک کے نمائندے بھی شامل ہیںچھ ما ہ میں اس کمیٹی نے کافی محنت کے بعد ایک جامع مسودہ تیار کیا ہے جو کہ ان ممالک کو مضبوط علمی معیشت بنانے میں ہم کردار ادا کریگا۔ اگر پاکستان بھی علمی معیشت قائم کرنے کا خواہاں ہے تو اسے بھی اقوام متحدہ کے مسودے میں درج تجاویز پر عملدرآمد کرنا چاہئے۔
ستمبر 2016 ؁ء میں پاکستان میں سائنس کے حوالے سے ایک شاندار رپورٹ شائع ہوئی۔
Thomson Reuter کی اس رپورٹ میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ یہ دنیا کا معروف اور مستند ادارہ ہے جو عالمی سطح پر سائنسی تحقیق میں قابل اعتماد اعداد و شمار فراہم کرتا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے جس طرح جامعات میں تحقیق کے میدان میں شاندار انقلاب رونما کیا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ’’ پاکستان ایک ایسے ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا ہے جس کے تحقیقی مقالوں کے حوالوںکا تناسب BRIC ممالک (برازیل ،روس، بھارت، اور چین)سے بھی زیادہ ہے ۔‘‘ اس خبر کی مزید تصدیق بحوالہ گراف پیش کی گئی ہے جس میں واضح طور پر بیان کیا گیا کہ پاکستانی کے سائنسی مقالوں کا بین الاقوامی سائنسی جرائد میں 400% اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ دہائی سےپاکستانی مقالوں کے حوالوں میں دس گنا اضافہ ہوا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی سائنسی اشاعت میں مقدا ر سے زیادہ معیار پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔اعلی تعلیمی شعبے میں اس شاندار اور مثبت تبدیلی پر دنیا کے انتہائی معروف سائنسی جریدے "Nature" نے چار ادارئیے شائع کئے ہیں۔ اس جریدے میں شائع ہونے والے مقالے کی کچھ سطور اخذ کررہا ہوں’’ عطاء الرحمٰن کے مضبوط سائنسی پس منظر ، اصلاحات کے شعور اور لگن، اوربچت کی بھرپور صلاحیت نے انہیں نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بین الا لقوامی سطح پر بھی سر خرو کیا ہے‘‘ محترم نوید نقوی صاحب عالمی بینک کے سنئیر ماہر اقتصادیات کہتے ہیں ’’ یہ واقعی انتہائی خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے درمیان اسقدر شاندار اورمضبو ط پس منظر کا حامل شخص موجود ہے‘‘ ۔ او ر مزید کہتے ہیں کہ’’ عطاء الرحمن ہمارے لئے قدرت کی جانب سے عطا کردہ قوت بن کر سامنے آئے ہیں ‘‘۔ موجودہ ایچ ای سی کے چیئرمین بھی میری ہی ٹیم کا حصہ تھے۔ سب اس تعریف کے مستحق ہیں کیونکہ یہ شاندار کامیابی انکی بے لوث لگن اور محنت کی بھی مرہون منت ہے ۔ جامعات کا سب سے اہم جز اسکے اساتذہ ہوتے ہیں اور انکی تخلیقی صلاحیتیں جامعات کا عالمی شمار متعین کرتی ہیں۔ ہم نے اسی لئے قابل اساتذہ کی موجودگی پر سب سے زیادہ زور دیا اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے ذہین طلبہ کو انکی تعلیمی و تخلیقی صلاحیتوں کو جانچنے کے بعد بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کیلئے11,000وظائف جاری کئے جس میں سے تقریباً 5,000 وظائف دنیا کی چوٹی کی جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لئے تھے اور باقی وظائف مشترکہ پی ایچ ڈی پروگرام کے لئے یا بعد از پی ایچ ڈی تربیت کے لئے جاری کئے گئے۔ ماضی میں حکومت کی جانب سے بیرون ملک تربیت کے لئے بھیجے جانے والوں کا نہایت تلخ تجربہ یہ تھا کہ جو بھی پی ایچ ڈی کے لئے بیرون ملک جاتا تھا وہ واپس وطن لوٹ کر نہیں آتا تھا کیونکہ اوّل تو ہمارے ملک میں تنخواہیں بہت کم تھیں اور ملازمتیں بھی آسانی سے نہیں ملتی تھیں۔ اس طرح حکومتی خزانے کو بہت بڑا دھچکا لگتا تھا اور وظیفے پر خرچ کئے گئے تمام پیسے ضائع ہو جاتے تھے۔ ا س مسئلے سے نبردآزما ہونے کے لئے اور طلبہ کی وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے جس میں سب سے اہم ایساما حول تفویض کرنا تھا جو ان کی واپسی کو یقینی بناسکے۔ اساتذہ کی پر کشش تنخواہوں پر تقرری ایک نیا تعیناتی نظام نظام بنایا گیا جس میںاساتذہ کی تقرری کے لئے انکی تعلیمی و تحقیقی پیداواری صلاحیتوں کو جانچنے کے لئے ان کے شعبے سے منسلک غیر ملکی تجزیہ نگاروں سے تجزیاتی رپورٹ کا نظام رائج کیا گیا۔
ان فیکلٹی ممبران کی تنخواہیں وفاقی وزیر وںکی تنخواہوں سے کئی گنا زیادہ رکھی گئیں اور ان پر ٹیکس کی چھوٹ 35% سے گھٹا کر 5% کردی تاکہ و ہ بہترین تنخواہ حاصل کر سکیں ۔ بیرون ملک سے پی ایچ ڈی مکمل کرکے وطن لوٹنے والے ہر طالب علم کو ایک لاکھ امریکی ڈالر کی تحقیقی گرانٹس دی گئی تاکہ اگر وہ کسی کمزور جامعہ میں بھی اپنی تحقیق کا آغاز کرے تو اسے زیادہ مسائل کا سامنانہ کرنا پڑے ۔ اسکے علاوہ ملک کی ہر سرکاری جامعہ کو ایک نہایت طاقتور ڈیجیٹل لائبریری سے منسلک کیا گیا جہاںسے 25,000 بین الاقوامی جرائد اور 65,000 درسی کتب تک تمام سرکاری جامعات کے طلبہ کو مفت رسائی فراہم کی گئی جو اسوقت یورپ، امریکہ اور ایشیا کی بیشتر جامعات میں بھی دستیاب نہیں تھی۔ ایک اور نظام ’’ تحقیقی آلات تک کھلی رسائی‘‘ رائج کیا گیا جس کے تحت ملک بھر کے تمام تحقیقی اسا تذہ و طلبہ ملک کے کسی بھی ادارے میں نصب جدید ترین آلات تک بلامعاوضہ رسائی حاصل کرسکتے تھے ۔ ان بھرپور اور کارآمد کاوشوں کے نتائج اس طرح سامنے آئے کہ 2002ء میںجب اعلیٰ تعلیمی کمیشن قائم ہو ا تھا تو پاکستا ن کی ایک بھی جامعہ کا شمار دنیا کی500 چوٹی کی جامعات میں نہیں ہوتا تھا ۔ 2008ء میں جب میں نے بحیثیت چیئر مین ایچ ای سی سے احتجاجاً استعفیٰ دیا اس وقت پاکستان کی کئی جامعات کا شمار دنیا کی 300 سے 500 چوٹی کی جامعات میں ہوچکا تھا۔ افسوس کہ 2008ء میں سابقہ حکومت کی جانب سے ایچ ای سی کیلئے فنڈز کی رکاوٹ نے مجھے بحیثیت چیئرمین ایچ ای سی استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا افسوس آج ہم پیچھے ہوگئے ہیں۔ اور اس وقت ہماری کوئی بھی جامعہ دنیا کی 700 اعلیٰ جامعات میں شامل نہیں ہے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں