آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں ملک میںسماجی و اقتصادی ترقی کے حصول کے لئے سائنس ،ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے اہم کردار پر زوردیاتھا۔ مضبوط قومی معیشت کے قیام میں قدرتی وسائل کی اہمیت اب کافی حد تک کم ہوگئی ہے اس کی جگہ تخلیقی صلاحیتوں سے آراستہ معیاری افرادی قوّت نے لے لی ہے ۔اسی لئے تیزی سے ترقی کی جانب رواں ترقی پزیر ممالک اپنا بجٹ دیگر شعبہ جات سے گھٹا کر تعلیم ،سائنس اور جدت طرازی کے فروغ کیلئے مختص کر رہے ہیں تاکہ وہ اس نئے چیلنج کا سامنا ڈٹ کرکر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنگاپور جیسا ایک چھوٹا سا ملک جو کسی بھی قسم کے قدرتی وسائل سے آراستہ نہیں ہے ا لیکن اس کی برآمدات پاکستان کی برآمدات سے 20گنا زیادہ ہیں۔ سنگاپور کو یہ کامیابی تعلیم اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعت میں بھاری پیمانے پر سرمایہ کاری سے حاصل ہوئی ہے۔ ان کی تعلیم اور سائنس کی جانب ترجیح کا اندازہ قومی سنگاپور جامعہ کے بجٹ ہی سے ہو جاتا ہے کہ صرف اس ایک جامعہ کا بجٹ پاکستان کی ُکل 160 جامعات کے بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔اس جامعہ کا شمار ایشیاء کی چوٹی کی جامعات میں ہوتا ہے اور2015 ء کےعالمی جامعاتی شمارے (World University Ranking 2015)کے مطابق یہ دنیا کی بارہویں نمبر کی بہترین جامعہ ہے۔
تحقیق و جدت طرازی آج اربوں کھربوں ڈالر کی صنعت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت

رکھتی ہے۔ اسکی ایک اچھی مثال نوکیا کمپنی ہے جو کہ صرف 40 لاکھ افراد پر مشتمل آبادی والے ملک فن لینڈ (Finland) میںواقع ہے ۔فن لینڈ کی حکومت نے ٹیلی مواصلات کے شعبے کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا اور اس کمپنی کو سہولتیں فراہم کیں۔ نتیجتاً اس کمپنی کے فون کی سالانہ فروخت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ 2010ء میں اس کی سالانہ فروخت 45ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی تھی جو کہ پورے پاکستان کی برآمدات سے بھی دگنی ہے۔ اس کے بعد اسی شعبے سے وابستہ ایک اور کمپنی سام سنگ ایک دیو کی طرح ابھر کر سامنے آئی اس کمپنی نے اپنے تحقیق و ترقیاتی بجٹ میں 15ارب ڈالر سالانہ کی کثیر رقم مختص کی جبکہ اس کے مقابلے میںایک دوسری معروفکمپنی کا سالانہ تحقیق و ترقیاتی بجٹ صرف 8 ارب ڈالر ہے۔ لہٰذ ا اسمارٹ فون کی مارکیٹ میں اب سام سنگ عالمی لیڈر ہے۔
تحقیق و ترقی پر سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے درمیان براہ راست تعلق ہے ۔یہ تعلق نہ صرف ملکی ترقی کے لئے بلکہ انفرادی کمپنیوں کی ترقی کے لئے بھی نہایت اہم ہے ۔ مثال کے طور پر ملائیشیا اپنے بجٹ کا 30% حصہ گزشتہ 30سالوں سے تعلیم پر خر چ کر رہاہے ۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عالم اسلامی (57ممالک پر مشتمل )کی 86.5% اعلیٰ تکنیکی بر آمدات اکیلاملائیشیا ہی کرتا ہے۔
کسی بھی ملک کی اچھی سائنسی حالت کا اندازہ وہاں کے مقامی سائنسدانوں یا مقامی کمپنیوں کی جانب سے دائر کردہ پیٹنٹس (patents) سے ہوتا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران ہر سال اپنے مقامی سائنسدانوں کی جانب سے 6000 پیٹنٹ دائر کرتاہے جبکہ پاکستان کے مقامی سائنسدانوں کی جانب سے صرف چند سو پیٹنٹس ہی دائر ہوتے ہیں ۔ یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے۔
آج کی دنیا میں حقیقت خوابوں سے زیادہ اجنبی بن گئی ہے۔ سائنس نے صنعتی شعبے کی کس طرح کا یا پلٹ دی ہے اور کس طرح ہماری زندگیوں کو تبدیل کررہی ہے اس کی چند مثالیں قارئین کے لئے پیش ہیں۔
غیر مرئی سائنس(Science of the Invisible):سائنسدانوں نے ایک خاص مادّہ ’میٹا میٹریل‘ تیا ر کیا ہے جو اشیاء کو پوشیدہ کر دیتاہے، ہم سب اس سے بخوبی آشنا ہیں کہ روشنی اور آواز دونوں لہر کی صورت میں سفر کرتی ہیں جبکہ ذیلی جوہری سطح پر مادہ بھی لہر کی صورت میں سفر کرتا ہے۔یہ میٹا میٹریل اپنی ساخت اور جسامت کی وجہ سے روشنی کی لہروں کواشیاء سے دور جھکانے والی خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ مادہ جس شے پر ڈالاجاتا ہے اسکے گرد روشنی کی لہریں ایسے گھومتی ہیں جیسا کہ بہتا ہوا پانی کسی پتھر کے گرد گھومتا ہے اور آگے جا کر مل جاتا ہے۔اس طرح وہ شےنظروں سے غائب ہوجاتی ہے۔اس قسم کی تحقیق کا استعمال دفاع کے شعبے میں بہت مفید ثابت ہو رہا ہے۔ اسی لئے امریکہ میں تحقیق کیلئے 50% فنڈز امریکی دفاعی ایجنسیاں (NASA, ONR, US Air Force etc.). فراہم کرتی ہیں ۔
بنا تار بجلی اور ذہین دیواریں :عنقریب ہم ایک نئے دور کے آغاز کا مشاہدہ کریں گے جہاں بجلی کے سامان کو چلانے کے لئے تاروں کی ضرورت نہیں ہوگی اور انہیں دیواروں میں لگے سوئچ بورڈ سے منسلک کئے بغیر استعمال کیا جا سکے گا۔ MIT کے پروفیسر مرین سولجاسک نے یہ دریافت کیا ہے۔ان کے مطابق ایک ہی تعدد frequency) (کے دو مقناطیسی لپیٹے ہوئے تار توانائی منتقل کر سکتے ہیں۔ پہلا لپٹا ہوا تار جو توانائی فراہم کرتاہے وہ دیوار میں موجود ڈبّے میںہوتا ہے جو کہ پورے گھر کوبجلی فراہم کرتا ہے supplier coil۔دوسرا وصولی لپٹا ہوا تارrecepient coilبجلی کے سامان مثلاً ٹیلی وژن، کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ وغیرہ میں موجود ہوتا ہے۔ لہٰذا دونوں لپٹے ہوئے تاروں کے تعدد میں مماثلت supplier coilسے توانائی کی منتقلی ’ recepient coil یعنی بجلی کے سامان تک، پہنچ جاتی ہے ۔ یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر محفوظ ہے اس کا صنعتی استعمال ایک امریکی کمپنی نے کرنا شروع کیاہے کہ ہوا کے ذریعے بغیر تاروں کے بجلی کی منتقلی ممکن ہے۔ لہٰذا اب وہ دن دور نہیں جب ہمیںکوئی بلب روشن کرنے کے لئے یا کمپیوٹر چلانے کے لئے کسی قسم کے تاروں یا بیٹریوں کی ضرورت نہیں ہوگی
جینیاتی ترتیب اور مصنوئی زندگی : دنیا کے پہلے انسانی جینوم کی مکمل ترتیب پر 6کروڑ امریکی ڈالر کی لاگت آئی تھی اور تیرہ سالہ کاوشوں کے بعد مئی 2006ء میں یہ ترتیب مکمل ہوئی تھی ۔ پچھلے 9سال کے عرصے میں اس میدان میں نہایت تیزی سے ترقی ہوئی ہے اس کی ایک بہترین مثال جامعہ کراچی میں جمیل الرّحمٰن مرکز برائے جینیاتی تحقیق جو کہ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی سائنسز میں واقع ہے وہاں ایک جدید آلہ نصب ہے۔ اس آلے کی مدد سے ایک انسانی جینوم کی مکمل ترتیب تقریباً دس دن میں معلوم کی جاسکتی ہے جس پر صرف 5,000امریکی ڈالر سے کم لاگت آتی ہے ۔ یہ مرکز تین سال قبل قائم ہوا ہے یہ میرے والد کے نام سے منسوب ہے اور میرے ذاتی عطیے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ مزیدبہت سستی جینیاتی ترتیب جانچنے کی مشینیں ابھی ترقی کے مراحل میں ہیں جو کم وقت اور کم لاگت ، یعنی ہزار ڈالر تک میں انسا نی جینیاتی ترتیب معلوم کر سکیں گی ۔ اس میدان میں ایک اور ترقی یہ ہوئی ہے کہ ایک آسان سا جینیاتی تجزیہ جس پر چند سو ڈالر کی لاگت آتی ہے ایک انسانی ڈی این اے میں موجود نقائص کی معلومات فراہم کردیتا ہے جس سے مستقبل میں آنے والی بیماریوں کے وقوع پزیر ہونے سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں مدد ملتی ہے
بافت کاشت کے ذریعے پودوں کی قلم کاری:اس نئی سائنسی دنیا میںتجارتی بنیادوں پر لاکھوں پودوں کی بیجوں کے بغیر پیداوار ممکن ہے ۔ ایک پودے کی کونپل کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک ٹیسٹ ٹیو ب میں ڈال دیا جاتا ہے جس میں ایک کیمیائی محلول غذائی اجزاء اور نشوونما ہارمونز پر مشتمل موجود ہوتاہے۔ 6-8ہفتوں میں ان میں سے جڑیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں جیسے ہی جڑیں نکل آتی ہیں تو ان کو گرین ہاؤس میں منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ پودوں کی پسندیدہ مطلوبہ خصوصیات مثلاً پھولوں کے رنگ، پھلوں کا ذائقہ اور جسامت وغیرہ کو کئی گنا بڑھایا جا سکتا ہے ۔یہ طریقہ کار پھولوں، کیلوں اور دیگر پودوں کے لئے کافی مفید ثابت ہوا ہے ۔ پاکستان میں آرکیڈ (orchids) کے پھول عام طور پر پیدا نہیں ہوتے لیکن اسی طریقے کے ذریعے جامعہ کراچی میں موجود حسین ابراہیم جمال تحقیقی ادارہ برائے کیمیا میں لاکھوں آرکیڈ کے پھول تیاّر کئے جارہے ہیں۔عالمی سطح پر ترقی کی یہ چند مثالیں تھیں جو کہ عالمی معیشت پرمثبت انداز سے اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ہر دن ہزاروں ایجادات جنم لے رہی ہیں اور وہی ممالک اور ادارے اقتصادی ترقی میںآگے ہیںجو جدت طرازی پر وسیع پیمانے پر لاکھوں اربوں ڈالروں کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔ اس سائنسی دور نے دنیا کو دو قسم کے ممالک میں بانٹ دیا ہے ایک وہ جو اعلیٰ ٹیکنالوجی کے مالک ہیں اور اسے بھاری منافع سے فروخت کرکے اپنی معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں اور دوسرے وہ غریب ممالک ہیں جو ہاتھوں میںکشکول لئے کھڑے ہیں۔ افسوس کہ پاکستان کا شمار بھی ان غریب ممالک میں ہوتا ہے۔ کیونکہ ماضی سے اب تک مسلسل ا س ا ہم ترین شعبے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ خوش قسمتی سے اسوقت ہمارے درمیان ایک اچھے وزیرمنصوبہ بندی و ترقی انجینئر احسن اقبال موجود ہیں ،حکومت کو چاہئے کہ ان کی تعلیم اور سائنس کے منصوبوں میں مدد کرے اور ان کی بھر پور مالی حمایت کرے تاکہ ہم بھی علم پر مبنی معیشت (knowledge-based economy) قائم کرسکیں۔ آسٹریامیں سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر کو معاشی امور کا وزیر اور نائب وزیراعظم بنا کر نہایت طا قتور بنا دیا گیا ہے تاکہ قومی امور میں سائنس اور جدت طرازی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاسکے اسی طرح کوریا نے اپنے تین وزراء یعنی وزیر تعلیم ، سائنس اور خزانہ کے درجات کو بلند کرکے نائب وزیراعظم کا درجہ دے دیا ہے ساتھ ہی تعلیم و سائنس کو اعلیٰ قومی ترجیح قرار دیا ہے۔ ہمیں بھی اگر ترقی کرنی ہے تو آسٹریا یا کوریا کی طرح عمل کرنا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں