سینیٹ میں ایک بار پھر ملکی تعلیمی اداروں میں اسٹوڈنٹس یونیز کی بحالی کی بازگشت سنی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی، جو سینیٹ میں اکثریت میں ہے، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ تنظیموں کے انتخابات کا سلسلہ پھر سے بحال کر کے اسٹوڈنٹس یونینز قائم کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے پی پی کے سینیٹرز کی کوئی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جو اس مقصد کے لئے قانونی مسودہ تیار کرے گی۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے باری پوری کرنے والے اپنے دور (2008-13) کے آغاز پر ہی اسٹوڈنٹس یونینز بحال کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ اس کا فوری ردعمل سنجیدہ تعلیمی حلقوں میں بہت شدید تھا۔ ماسوائے روایتی طلبہ تنظیموں کے جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی ذیلی تنظیمیں ہیں، سو، ایچ ای سی، ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی تنظیموں خصوصاً وائس چانسلرز کے قومی فورم نے اس پر منفی ردعمل کا فوری اظہار کیا۔ ملک بھر کے وائس چانسلر صاحبان نے ایچ ای سی کے اشتراک سے پی پی حکومت کے اعلان کو حکومتی اقدامات میں تبدیل ہونے کے لئے کوششیں شروع کردیں۔ اس حوالے سے ملک بھر کی پبلک یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر صاحبان کی جو نیشنل ایکشن کمیٹی بنی، خاکسار کو پنجاب یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس ایڈوائز کی پوزیشن میں اس کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ یوں مجھے اس ضمن میں ایچ ای سی اور وائس چانسلرز کے نیشنل فورم پر ہونے والی برین سٹارمنگ میں شرکت اور اسے ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔ اس بھرپور اجتماعی کاوش کالب لباب یہ ہی تھا کہ اسٹوڈنٹس یونین کسی طور اپنی پہلی پوزیشن میں بحال نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ ان سے یونیورسٹیوں کا تعلیمی امن برباد ہو کر رہ گیا تھا، حتیٰ کہ ان پر پابندی کے ’’بعدازاثرات‘‘ کے طور مخصوص طلبہ کی تنظیمیں مختلف یونیوسٹیوں میں اپنی اجارہ داری قائم کئے ہوئے تھیں اور وہ کسی دوسری طلبہ تنظیم کو اپنی یونیورسٹی میں برداشت کرنے کو تیار نہ تھیں۔ سب ہی تنظیمیں مختلف سیاسی جماعتوں کی ذیلی تھیں، یوں یونیورسٹیوں میں سیاسی جماعتوں کی مداخلت نے بھی مختلف نظریات کی تقسیم اور بحث مباحثے کو مکمل طور پر عملی سیاست کے رنگ میں رنگ دیا تھا، جس سے ملکی جامعات کا تعلیمی امن اور کلچر دونوں بری طرح متاثر ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب ایچ ای سی کی نئی اور مالدار پالیسیوں کے باعث تحقیق اور تعلیم کا ایک نیا کلچر ان جامعات میں تیزی سے جگہ بنا رہا تھا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس پس منظر میں پنجاب یونیورسٹی جس میں 70ء کے عشرے کی نظریاتی کشمکش اور پھر اسٹوڈنٹس یونینوںکے پرتشدد انتخابی عمل کے باعث یہ ملکی قدیم ترین جامعہ ملکی عملی سیاست کے رنگ میں تیزی سے رنگی گئی۔ بدقسمتی سے یہاں بھی ایک طلبہ تنظیم مکمل اجارہ دار بن گئی تھی۔ رائٹ لیفٹ اساتذہ کی تقسیم عملاً ختم ہو کر انتظامیہ کا غیر معمولی بینی فشری گروپ وجود میں آیا جو طلبہ تنظیم کے ساتھ اور تنظیم ان کے ساتھ ہم رنگ ہوگئے اور یونیورسٹی کا کیلنڈر اور قاعدے قانون ثانوی بھی نہ رہے۔ پیشتر اس کے کہ اس کا منفی اثر نئی قائم ہونے والی ضلعی پبلک یونیورسٹیوں پر پڑتا ملکی حالات میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی، اس سے قبل ایچ ای سی، یونیورسٹیوں کی بہتر اور مطلوب مینجمنٹ کے لئے بہترین وائس چانسلر کی تقرری کو ممکن بنانے کے لئے ’’وی سی سرچ کمیٹی‘‘ کا ڈھانچہ اور تقرری کا طریقہ کار تشکیل دے کر اسے صوبائی حکومتوں سے تسلیم کرا چکی تھی۔ واضح رہے کہ پنجاب یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی، تینوں ایسی پبلک یونیورسٹیاں تھیں جن کے مجموعی ماحول کا اثر دیگر تمام پبلک یونیورسٹیوں اور کالجوں تک تیزی سے سرایت کرتا تھا۔ ایسے میں ’’وی سی سرچ کمیٹی‘‘ کے ذریعے پنجاب یونیورسٹی میں پہلے وائس چانسلر کا تقرر ہوا جو اس یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران ہیں جن کی مطلوبہ معیار اور مکمل میرٹ کی بنیاد پر تقرری نے پنجاب یونیورسٹی کے کھوئے تشخص اور اس کی بحالی کا عمل تیزی سے شروع کردیا۔ فیکلٹی کی میرٹ پر تقرری، ریسرچ پر فوکس اور مالی امور میں ڈسپلن اور ٹرانسپرنسی سے بگڑے امور میں بہتری کا عمل شروع کردیا جو تیز تر ہوتا گیا۔ انتظامی امور کو فعال اور سب کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے ڈاکٹر مجاہد کامران نے کمال حکمت عملی اختیار کی جب انہوں نے ہر دھڑے کے اساتذہ کو حصہ بقدر جثہ انتظامی امور میں نمائندگی دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ کسی کی دل شکنی نہیں ہونے دی اور نہ کسی کو سر چڑھنے دیا۔ اس توازن نے اساتذہ کے گروپس کو اپنے اصلی کام سے تحقیق و تدریس کی طرف واپس لوٹانے میں جادو کا کام کیا اور وہ طلبہ کو استعمال کرنے سے بھی بعض آگئے، طلبہ کی صحت مند غیر نصابی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ کیا گیا، خاکسار نے پہلی مرتبہ بہترین طلبہ مقرر کا وفد تیار کر کے بین الاقوامی مقابلوں کیلئے یورپ بھیجا جنہوں نے یورپی یونیورسٹیوں میں پاکستانی یوتھ کی دھوم مچا دی اور پنجاب یونیورسٹی کا امیج بڑھایا۔ پی ایچ ڈی اسکالرز پیدا کرنے کا عمل تیز تر ہوا جس کا اعتراف ٹھوس حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ حال ہی میں ملک کے نامور علم دوست تجزیہ نگاروں نے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے پنجاب یونیورسٹی کے تمام مثبت منفی پہلوئوں سے اپنی گہری واقفیت اور اپنی اعلیٰ درجے کی تعلیمی اور انتظامی استعداد کے باعث مالی ڈسپلن کو یہاں تک بہتر کیا کہ انہوں نے یونیورسٹی کے اپنے وسائل سے بچت اور اس سے قائم ہونے والے اینڈونمینٹ فنڈ سے ہونے والی سرمایہ کاری کی رقم ایک ارب 85 کروڑ سے بڑھا کر 6 ارب 18 کروڑ تک بڑھا دی۔ جس سے یونیورسٹی کی اپنی ریسرچ گرانٹ، 2008 میں اسی مد کیلئے 20 لاکھ سے بڑھ کر 11 کروڑ روپے سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پنجاب یونیورسٹی اپنے تمام ریٹائرڈ اساتذہ کو پنشن اپنے ہی وسائل سے دے رہی ہے، اس کی کوئی مثال کسی دوسری پبلک یونیورسٹی میں نہیں ملتی۔ یونیورسٹی کے ہی وسائل سے بیرون ملک کانفرنسز میں اساتذہ کی شرکت کے لئے سالانہ رقم اتنی ہے کہ شرکا کی تعداد 2008 کی تعداد 20 سالانہ کے مقابلے میں 241 تک پہنچ گئی ہے۔
ڈاکٹر مجاہد کامران کا یونیورسٹی کو قومی استحکام کا ذریعہ بنانے کا یہ کارنامہ تاریخی ہے کہ جب بلوچستان میں دہشت گردی اور سیاسی انتشار سے وہاں کی یونیورسٹیاں اجڑ گئیں تو انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے ہر شعبے میں بلوچستان کے طلبہ کی ایک ایک سیٹ مختص کردی جنہیں قیام و طعام کی فری سہولت کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی میں مدعو کیا گیا۔ یہیں تک نہیں بلوچستان کے سیاست دانوں، دانش وروں اور صحافیوں کو بار بار پنجاب یونیورسٹی میں مدعو کر کے انہیں پوری آزادی سے اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کا ماحول فراہم کیا، یوں مجاہد صاحب نے بلوچستان اور لاہور کو علمی ڈوری سے باندھ کر وہاں پنجاب یونیورسٹی کی قدر دلوں میں پیدا کی، جس سے بلوچستان کو دوبارہ قومی مین اسٹریم میں لانے میں بہت مدد ملی۔ یہ مالی ڈسپلن بہتر بنانے اور وی سی کی قومی سوچ اور وژن کے بغیر ممکن نہ تھا۔ امید کی جاتی ہے کہ حکومت پنجاب، پنجاب یونیورسٹی کے گہرے قومی مزاج اور اس کے تاریخی تشخص کی بحالی اور سب سے بڑھ کر مقررہ ترقیاتی اہداف پورے ہونے کے ناگزیر تسلسل کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اپنی ذمہ داری پورے کرے گی، جیسا کہ اب جناب شہباز شریف صوبے کی تعلیمی صورتحال پر متوجہ ہو چکے ہیں۔ جہاں تک اسٹوڈنٹس یونینوں کی بحالی کی سینیٹ میں ہل جل کا معاملہ، معلوم دیتا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک بار پھر تعلیمی اداروں کو صوبے میں اپنی سیاست چمکانے کا ذریعہ بنانے کی منفی سوچ پر عمل پیرا ہے۔ طلبہ کی تنظیم سازی کا آئینی حق فائق ہے۔ اس کے لئے وائس چانسلر فورم کی سفارشات کی روشنی میں قانونی مسودہ بھی تیار کیا گیا تھا، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔ پنجاب یونیورسٹی میں تعلیمی امن اور تحقیق و تدریس کے عمل میں تیزی اور وسعت۔ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں ہے۔ پرانی طرز پر اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کا مطلب، صوبے کو ایک انتشار میں مبتلا کرنے کے مترادف ہوگا کہ روایتی طلبہ تنظیمیں، نئی جماعتوں کے اسٹوڈنٹس ونگ کو ہرگز برداشت نہ کریں گی جبکہ اضلاعی سطح پر بھی پبلک یونیورسٹیاں وجود میں آچکی ہیں۔ ہوشیار خبردار۔