asghar.nadeem@janggroup.com.pk
جب سے کالم یہاں منتقل ہوا ہے، ہم تو جیسے کرنٹ افیئرز سے دور ہی ہوگئے ہیں۔ ایسے میں اپنا دال دلیا تو کلچر، ادب، ادیب، امن پسندی وغیرہ وغیرہ سے چل جاتا ہے۔ کبھی کبھی دل بہت مچلتا ہے کہ اطہرشاہ خان جیدی اور فاروق قیصر کے چھابے میں ہاتھ ماریں۔ لیکن دونوں ہمارے بہت اچھے دوست ہیں اور انہوں نے اپنے چھابے بھی بہت محفوظ مقام پر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی حفاظت کے لئے دونوں نے باقاعدہ ملازم بھی رکھے ہوئے ہیں۔ یوں بھی کہتے ہیں کہ سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے کہ مصداق میرے دونوں دوست اپنے چھابوں پر شکرے کی نظر رکھتے ہیں۔ ایسے میں میرے جیسا عاجز وہاں کیا ہاتھ مارے گا۔ سو میں نے اپنا چھابہ بنانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی ہے۔ بقول حالی #
مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اکثر بے خبر
شہر میں کھولی ہے حالی نے دکاں سب سے الگ
اب اکثر دوست کہیں گے کہ میں نے اپنی تعریف یا تعلّی کی ہے۔ تعلّی کا مطلب ہوتا ہے شاعر اپنی تعریف شعر میں کھل کھلا کے کرے۔ ویسے تمام کلاسیکی شاعروں میں سب سے مسکین، صابر، منکسرالمزاج اور دھیمے قسم کے شاعر الطاف حسین حالی تصور کئے جاتے ہیں۔ جب وہ اپنی تعریف کرنے سے باز نہیں آئے تو میں اکیسویں صدی کا چھٹا ہوا، گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والا، شاعر مزاج حالی سے کیسے پیچھے رہ سکتا تھا اس لئے ان کے شعر کا سہارا لے لیا۔ اب میں نے جب انٹرنیشنل منظرنامے پر نگاہ کی تو پتہ چلا کہ اس وقت پوری دنیا میں ایک فلم کا چرچا ہے "SLUMDOG MILLIONAIRE" جس کا اردو ترجمہ بنتا ہے ”جھونپڑی کا کروڑپتی“ یہ فلم ”جیو فلمز“ پاکستان میں ریلیز کر رہی ہے۔ لیکن اس فلم کو شاید پوری دنیا کسی نہ کسی طرح دیکھ چکی ہے۔ اس فلم کو آٹھ آسکر ایوارڈ مل چکے ہیں اور ان میں جھونپڑ پٹی کے وہ بچے بھی شامل ہیں جنہوں نے اس میں کام کیا۔ بات یہ نہیں ہے کہ فلم نے اتنے ایوارڈ کیسے لے لئے، بات یہ ہے کہ دنیا میں غربت بھی بک سکتی ہے اور اتنے مہنگے داموں بک سکتی ہے کہ آسکر ایوارڈ کوئی خریدنا بھی چاہے تو نہیں خرید سکتا۔ لیکن انڈیا کی جھونپڑ پٹی اور غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی زندگی نے خود کو بیچ کر آسکر ایوارڈ حاصل کرلیا ہے۔ میرے حساب سے یہ اکیسویں صدی کا وہ واقعہ ہے جو اس سے پہلے بنگلہ دیش کے محمد یونس کو نوبل انعام ملنے کے واقعے کے برابر ہوسکتاہے۔ کیونکہ محمدیونس نے بھی غربت کی پٹی کے نیچے بسنے والوں کے لئے کوئی خواب دیکھا تھا جسے نوبل انعام کی کمیٹی نے پسند کیا۔ اس فلم کو میں نے کئی بار دیکھا ہے، اس لئے ایک سنجیدہ سوال سامنے آگیا ہے کہ کیا غربت اور اس کی پٹی کے نیچے بسنے والوں کی زندگی کو مارکیٹ کیا جا سکتا ہے اور اگر کیا جا سکتا ہے تو شاید چکاچوند والی دنیا کے لئے اس سے بہتر لذتِ کام و دہن کے لئے کوئی اور مال نہیں ہوسکتا۔ میں خود بھی غربت کو قریب سے دیکھنے کا دعویدار ہوں لیکن جس طرح انڈیا نے اپنی غربت کو مارکیٹ کرنے کے لئے طرح طرح کے طریقے اختیار کئے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انڈیا کے پاس ایکسپورٹ کرنے کے لئے سب سے کھرا مال ان کی غربت ہے۔ یہ کھرا مال وطن عزیز میں بھی وافر مقدار میں موجود ہے لیکن ہم اسے خاطرخواہ طریقے سے ایکسپورٹ نہیں کر سکے۔ 1998ء تک دہلی کے فٹ پاتھوں، ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارموں، پارکوں اور پھر تاریخی عمارات میں جھونپڑ پٹیوں کا جال بچھا تھا۔ لگتا تھا بھارت کی راجدھانی پر جھونپڑ پٹی میں رہنے والوں کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اسی حوالے سے وہاں کے ایک دانشور سے ہم نے پوچھا بھئی کیا اس کا اہتمام حکومت نے خود کیا ہے یا غریبی مافیا نے یہ قبضہ اپنی طاقت سے کیا ہے۔ اس پر وہ دانشور پہلے رویا اور پھر ہنسا۔ رویا اس لئے کہ حکومت میں یہ مافیا پیدا ہوچکا ہے جس کی آشیرباد سے دہلی کا کونہ کونہ بک چکا ہے، ہنسا اس بات پر کہ حکومت غربت کی یہ نمائش جان بوجھ کے لگائے بیٹھی ہے تاکہ دولت مند دنیا کو اپنی طرف راغب کرکے انسانیت کے نام پر کروڑوں ڈالر ملک میں این جی اوز کے بہانے منگائے جا سکیں۔ آج دہلی میں یہ صورتحال نہیں ہے آج بہت کم جگہوں پر جھونپڑ پٹیاں سامنے نظر آتی ہیں لیکن کلکتہ، ممبئی اور بڑے شہروں میں تھوک کے بھاؤ غربت کی منڈی سجی ہے۔
ایک بار میں نے سماجیات کے ایک ماہر سے پوچھا بھارت میں اگر اتنی غربت ہے تو انقلاب کیوں نہیں آتا اس نے جو تجزیہ کیا وہ یہ تھا کہ یہاں کبھی کسی صورت انقلاب نہیں آ سکتا کیونکہ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جمہوریت ہے۔ یہاں سب کو بولنے کی آزادی ہے۔ گالی دینے کی آزادی ہے۔ سیاستدان کی دھوتی اتارے کی آزادی ہے۔ عزت نفس کی ضمانت موجود ہے۔ ہر شہری کو ایک جیسا حق حاصل ہے۔ تفریح کے لئے دس روپے میں مادھوری ڈکشٹ اور ایشوریہ رائے کو خواب میں محبوبہ بنانے کی آزادی ہے۔ موج مستی کے لئے دو روپے کی سستی شراب موجود ہے۔ کھانے میں انتہائی سستا کھانا سب کے لئے موجود ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کو پتہ ہے ان کا مقدر ایسے ہی رہے گا، اس میں تبدیلی کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اس سائیکی کے ساتھ غربت کی پٹی کے نیچے رہنے والے پوری طرح اطمینان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے بھارت میں غربت کا فلمی سیٹ لگا ہوا ہے۔ سب اس میں ایکٹرز ہیں۔ بات ہو رہی تھی ’سلم ڈاگ ملینئر‘ کی جس نے آٹھ اکیڈمی ایوارڈ اٹھائے ہیں۔ اس بات پر بھارت میں خوشی کی جگہ بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ بھارت کی فلم انڈسٹری روزِ اول سے غربت بیچنے کا دھندا کر رہی تھی۔ ان کے نصیب میں آٹھ اکیڈیمی ایوارڈ نہیں تھے۔ دوسری یہ کہ ایک برطانوی ڈائریکٹر اور کمپنی نے سات سمندر پار سے آ کر ان کے چھابے میں ہاتھ ڈالا اور ان کی قیمتی ترین متاع غربت کو بیچنے میں کامیاب ٹھہرا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ان کا بھید دنیا پر کھل گیا کہ وہ غربت کو کس طرح سرعام بیچنے کے کاروبار میں ملوث رہے ہیں۔ بھارت کی فلم انڈسٹری نے بے حد اعلیٰ درجے کی فلمیں غربت کے پس منظر میں بنائی ہیں۔ چونکہ یہ عوامی موضوع ہے اس لئے ان کی اکثر فلمیں باکس آفس پر بے حد کامیاب ٹھہرتی رہی ہیں۔ ان کی کامیابی یہ رہی ہے کہ وہ سچ بولتے ہیں۔ ان کی یہ حقیقت پسندی ان کی ایسی فلموں میں بھی ہے جو وہ انڈرورلڈمافیا پر بناتے ہیں۔ سنا ہے کہ ان فلموں میں مافیا کے لوگ خود پیسے لگاتے ہیں اور اپنی طاقت اور اپنے نیٹ ورک کو خود ہی دنیا کے سامنے لاتے ہیں تاکہ ان کا گلیمر دنیا کو متاثر کرسکے اور ان کی حیثیت کو تسلیم کیا جا سکے۔ وہ اپنے آپ کو Glorify کرکے اپنی دہشت لوگوں پہ بٹھاتے ہیں۔ اسی طرح غربت کی فلموں کا بھی یہی مزاج ہے کہ وہ لوگوں کو کیتھارسس کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ بھارت میں سب کو کیتھارسس کے برابر کے مواقع حاصل ہیں۔ خود جمہوریت کا مذاق بھی وہ ایک منصوبہ بندی کے تحت اڑاتے ہیں۔ سیاستدانوں کی تمبی بھی وہ ایک منصوبے کے تحت اتارتے ہیں تاکہ لوگوں کا کیتھارسس ہوتا رہے۔ اب رہ گئی بات سلم ڈاگ ملینئر کی تو اس پر تبصرہ میں نہیں کروں گا کیونکہ تبصرے کے لئے بھارت میں تبصرہ نگار بھاری معاوضے لیتے ہیں۔ میں مفت میں تبصرہ نہیں کر سکتا۔