آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
چین کے حکمرانوں نے شاہراہ ریشم کی تعمیر نو پر 130کھرب روپے سے زیادہ خرچے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلیا ہے۔ اس قدر خطیر رقم کےبرابر خرچے سے صرف شاہراہ ریشم ہی تعمیر نہیں ہوگی چین، پاکستان اقتصادی راہداری کے سارے علاقے کی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کا انتظام بھی ممکن ہوگا اور اس منصوبے میں وسط ایشیائی ریاستیں بھی شامل ہوں گی۔ چین، پاکستان، وسط ایشیا ئی ریاستوں کو ریلوے کے ذریعے ملانے اور ان کے درمیان تجارت، صنعت اور حرفت کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا کام ایک عظیم انقلابی عمل کی ذمہ داری قبول کرے گا جس کے اندر سے کئی اور انقلابی سرگرمیوں کا آغاز ہوسکتاہے۔ انقلابی عمل کے آغاز سے انجام تک کا سفر تاریخ کے نئے صفحات تحریر کرنے کےبرابر اہمیت رکھتا ہے جس میں بے شمار اور ان گنت مثبت تبدیلیاں وجود میںآتی ہیں۔ابھی محض اندازہ ہی لگایا جاسکتاہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی نے اقتصادی راہداری فراہم کرنے کا تحفہ اس خطے کے سامنے رکھا ہے وہ محض چین اور پاکستان کے علاقے کے لوگوں اور دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی میں کس قدر خوشگوار تبدیلیاں لاسکتا ہے۔ لاتعداد فائدے اس منصوبے پر عملدرآمد کےدوران اس علاقے کے لوگوں کے سامنے آسکتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ نہر سویز اور نہر پانامہ کے منصوبوں پرعملدرآمد کے دوران معلوم

ہوا کہ پوری دنیا کی آبادی کو ایک گائوں کی آبادی میں تبدیل کیاجاسکتاہے اور اس آبادی کی اہلیت، قابلیت اور ہنرمندی میں حیران کن تک اضافہ کیا جاسکتاہے۔ چین، پاکستان اقتصادی راہدای کا منصوبہ صرف دو تین براعظموں کوآپس میںملانے کاکام ہی نہیں کرے گا دنیا کی آبادی اور خلق خدا کو امن و آشتی کی نعمتوں کی دولت بھی فراہم کرے گا ۔ جنگوں اور دہشت گردی و تخریب کاری کی سرگرمیوں سے تنگ آئے ہوئے دنیا کے لوگوں کو معلوم ہےکہ امن، آشتی، انصاف اور عدل کی فضا زندگی کی مثبت سرگرمیوںاور مصروفیتوں کو برقرار رکھنے کے لئے کس قدر ضروری ہیں۔ ان سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ کارآمد بنانے کےلئے نہر سویز اور نہر پانامہ جیسے منصوبے بھی بے پناہ اہمیت رکھتے ہیں اور یہ اہمیت صرف دو ملکوں اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کی آبادی کے لئے ایک نعمت بن جاتی ہے اور یہ نعمت اتنی بڑی نعمت ہے کہ 130کھرب روپے کاخرچہ اس نعمت کے سامنے کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ ہنستے مسکراتے اور زندگی کی نعمتوں سے کھیلتے ہوئے لوگوں کی خوشی کی مالیت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور زیادہ سے زیادہ مخلوق ِ خدا کو خوشیاں دینے والے ایسے منصوبوں کو بہت زیادہ تعداد میں مکمل کرنے اور کرہ ارض کو خوشیوں کا گہوارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ انسانی ضرورت زمین پرجنت تعمیر کرنے کی ضرورت بھی ہوسکتی ہے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں