مجھے یقین ہے کہ 133 سال قبل سیالکوٹ میں پیدا ہونے اور 71 برس پہلے شاہی مسجد کے میناروں کے سائے تلے آسودئہ خاک ہو جانے والا دانائے راز زندہ ہوتا تو آج بھی اپنے اس سے خفا اور بیگانے نا خوش ہوتے کیونکہ وہ زہر ہلاہل کو قند کہنے کا ہنر نہیں جانتا تھا۔ وہ آج بھی موروثی گدیوں پہ فروکش استحصال پیشہ ارباب جبہ و عمامہ کو للکار رہا ہوتا
ہم کو تو میسّر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
شہری ہو دیہاتی ہو مسلمان ہے سادہ
مانند بتاں پجتے ہیں کعبے کے برہمن
نذرانہ نہیں سود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقہٴ سالوس کے اندر ہے مہاجن
میراث میں آئی ہے انہیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
وہ آج بھی شاہ کی مصاحبت پر ناز کرنے والے صاحبان جبہ و دستار سے کہہ رہا ہوتا ہے #
فتنہٴ ملتِ بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلمانں کو سلاطیں کا پرستار کرے
وہ آج بھی مفتیان نکتہ تراش کی تصویر کشی ان الفاظ میں کر رہا ہوتا
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدلتے دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
وہ آج بھی ” صوفیان خود نگر “ کو یاد دلا رہا ہوتا کہ #
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیّری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
ترے دین و ادب سے آرہی ہے بوئے رہبانی
یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالمِ پیری
وہ آج بھی دانش بیمار کے تاجروں کے بارے میں کہہ رہا ہوتا کہ
عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیّل ان کا
ان کے اندیشہٴ تاریک میں قوموں کا مزار
موت کی نقش گری ان کے صنم خانوں میں
زندگی سے ہنران برہمنوں کا بیزار
چشمِ آدم سے چھپاتے ہیں مقامات بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ بدن کو بیدار
وہ آج بھی ” غیرت لابی “ کی حزب اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہا ہوتا #
شاعر بھی ہیں پیدا علماء بھی حکماء بھی
خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ
مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک
ہر ایک ہے گو شرحِ معانی میں یگانہ
بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضا مند
تاویل مسائلِ کو بناتے ہیں بہانہ
وہ آج بھی مغرب زدگان سے سوال کر رہا ہوتا کہ #
باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگزر؟
اقبال یقیناً اندھی تقلید، کور مغزی، فکری افلاس، ملائیت، جہالت، اسلام بیزار روشن خیالی، مردہ دلی، بے چارگی، گدایانہ فطرت، فدویانہ انکساری، جہد مسلسل سے عاری رہبانیت، عزت نفس سے محروم شکم پروری اور اسلام کے جامد تصور حیات کا زبردست ناقد ہوتا۔ لیکن مجھے کامل یقین ہے کہ آج بھی خودی اور غیرت و حمیت اس کی فکر کا محوری نکتہ ہوتا۔ وہ آج بھی ” معرکہٴ روح و بدن “ کا فلسفہ بیان کر رہا ہوتا۔ وہ آج بھی یاد دلا رہا ہوتا
دل کی آزادی شہنشاہی شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم
مثنوی اسرار خودی کے باب پنجم کا عنوان ہے۔ ” در بیانِ ایں کہ خودی از سوال ضعیف می گردد “۔ ( اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی کمزور ہو جاتی ہے )
فارسی کا ذوق اب باقی نہیں رہا۔ میں اس نظم کا ترجمہ ” غیرت لابی “ کی حزب اختلاف کی نذر کر رہا ہوں۔ علامہ فرماتے ہیں۔
” اے مردِ مسلماں ! تو نے کبھی شیروں سے خراج حاصل کیا تھا لیکن آج حاجت مندی کی وجہ سے تیری فطرت لومٹری جیسی ہو گئی ہے۔ تیرے کمزور و ناتواں ہونے کا سبب تیری غربت و ناداری ہے۔ یہی بیماری تیرے درد کا باعث ہے۔ غربت و ناداری کا مرض فکر بلند کی رفعتیں چھین لیتا ہے شمع خیال کی لو بجھا دیتا ہے۔ تو اپنی جدوجہد کے زور پر زندگی کی صراحی سے شراب سرخ حاصل کر۔ زمانے کی جیب سے اپنی تگ و دو کے ذریعے نقد و زر نکال۔ عمر فاروق کی طرح زمین پر پڑا کوڑا اٹھانے کے لئے بھی کسی سے سوال نہ کر۔ خود اونٹ کی پیٹھ سے نیچے اتر۔ دوسروں کا احسان کبھی کسی قیمت پر ہر گز ہر گز نہ اٹھا۔ تو کب تک عہدہ و منصب کی گداگری کرتا رہے گا اور کم سن بچوں کی طرح کب تک سرکنڈوں سے گھوڑے بناتا رہے گا۔ وہ فطرت بلند جس کی رسائی آسمانوں تک ہو، دوسروں کا احسان اٹھانے سے پست اور کمتر ہو جاتی ہے۔ دوسرے کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے خودی اور عزت نفس کے اجزاء درہم برہم ہو جاتے ہیں اور صحرائے خودی کا نخل اپنی تجلی کھو دیتا ہے۔ سوال کرنے سے مفلسی کی ذلت، ذلیل تر ہو جاتی ہے اور گدائی، گداگر کو اور بھی زیادہ نادار کر دیتی ہے۔ اے مرد مسلماں ! اپنی مشت خاک کو اب اور زیادہ خوار و پریشاں نہ کر۔ اگر تیرا رزق تنگ ہو جائے، بد نصیبی تیرا احاطہ کر لے اور تو مصیبتوں کے سمندر میں گھر جائے تو بھی دوسروں کے دسترخوان سے رزق مت تلاش کر تاکہ کل میدان حشر میں تو حضور اکرم کی بار گاہ میں شرمندہ نہ ہو۔ چاند سورج کے دستر خوان سے روشنی کا رزق حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے دل پر سورج کے احسان کا سیاہ داغ پڑ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہمت و کوشش کی توفیق مانگ اور اپنی تقدیر کا ڈٹ کر مقابلہ کر۔ کسی طور اپنی ملت کی آبرو کو بٹہ نہ لگانا۔ کعبے کو بتوں کے خس و خاشاک سے پاک کرنے والے نبی کریم کا فرمان ہے۔ ” الکا حسب حبیب اللہ “ ہاتھ سے کمائی کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ افسوس صد افسوس اس شخص پر جو غیروں کے دسترخوان سے رزق کھاتا اور دوسروں کے احسان کے سامنے گردن جھکاتا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو دوسروں کی مہربانی کی برق سے راکھ کر لیا اور ایک کوڑی کے عوض اپنی غیرت کو بیچ دیا۔ وہ شخص کتنا عظیم ہے جو دہکتی دھوپ میں پیاس سے بلک رہا ہو، لیکن حضرت خضر سے بھی پانی کا طلب گار نہ ہو۔ جس کی پیشانی پر کبھی گداگری کی ندامت کا داغ نہ لگے۔ جو آدمی کا تفاخر برقرار رکھے اور مشت خاک بن جانے سے انکار کر دے۔ ایسا بلند ہمت نوجوان بن جو صنوبر کی طرح سر اٹھا کر کھڑا ہوتا ہے، اگر وہ غریب و تہی دست ہو تو اور زیادہ خوددار ہو جاتا ہے۔ اس کا نصیب سو جائے تو وہ بیدار تر ہو جاتا ہے۔ گدائی کا کشکول سمندر سے بھر جائے تو بھی یہ آگ کا سیل ہے اور اپنے دست و بازو سے حاصل کی گئی شبنم بھی اس سے کئی گنا اچھی ہے۔“
نظم کا آخری شعر ہے #
چوں حباب از غیرت مردانہ باش
ہم بہ بحر اند رنگوں پیا نہ باش
” پانی کے بلبلے کی طرح اپنی غیرت مردانہ پہ آنچ نہ آنے دے جو بھرے سمندر کے اندر بھی اپنا پیالہ الٹا رکھتا ہے اور بوند بھر پانی کا طلب گار بھی نہیں ہوتا۔ “
قیاس کیا جا سکتا ہے کہ آج وہ ” دانائے راز “ زندہ ہوتا تو اسے ” غیرت لابی “ کا سرخیل قرار دے کر کیسی کیسی کمین گاہوں کے تیر اس کے سینے میں پیوست ہو رہے ہوتے۔