• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سری لنکا کی ہمبنٹوٹا بندرگاہ 99 سالہ لیز پر چین کےحوالے

کولمبو(جنگ نیوز) سری لنکا نے ہمبنٹوٹاکی بندرگاہ کو ایک ارب10کروڑ ڈالر کے عوض چینی کمپنی کو 99 سال کی لیز پر دینے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ کولمبو حکومت نے یہ فیصلہ چین کی جانب سے دیئے گئے قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ سے نکلنے کے لیے کیا ہے۔سری لنکا کے وزیرِ پورٹ مہندا سماراسنگھے نے ہمبنٹوٹاکی مصروف بندرگاہ کو چینی کمپنی چائنا مرچنٹ پورٹ ہولڈنگز کو بیچنے کی تصدیق کی ہے۔ معاہدے کے تحت چین کی سرکاری کمپنی نے 70فیصد شیئرز خرید لیے ہیں۔سری لنکا کے وزیر نے معاہدے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا نے اس منصوبے سے متعلق تمام خدشات کو دور کر دیا ہے اور اس پورٹ کو سری لنکا کے قوانین کے تحت ہی چلایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کے  ملک میں کسی ملک کا فوجی اڈا نہیں بنے گا۔اس پورٹ کے قریبی علاقے میں ایک صنعتی زون میں بنایا جائے گا جہاں چینی کمپنیوں کو فیکٹریاں تعمیر کرنے کی دعوت دی جائے گی۔کولمبو میں اعلیٰ چینی اور سری لنکن حکام کی موجودگی میں سری لنکا کے سرکاری ادارے سری لنکا پورٹس اتھارٹی (ایس پی اے) اور چینی کمپنی چائنا مرچنٹس پورٹ ہولڈنگ کارپوریشن نے معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق چینی کمپنی سری لنکن پورٹ میں 1 ارب 12 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گی تاہم معاہدے کے اصل فریم ورک کے مطابق چین کو مذکورہ بندرگاہ کا 80 فیصد قبضہ دیا جاچکا ہے۔سری لنکا پورٹ اتھارٹی اور چینی کمپنی برابری کی بنیاد پر بندرگاہ کے امور چلائیں گی، جس کے تحت چینی کمپنی پورٹ کے تجارتی آپریشنز چلائے گی جبکہ سری لنکن حکام اس کی سیکورٹی کے امور سنبھالیں گے۔یاد رہے کہ سری لنکا کے سابق صدر راجہ مہندا راجا پکسے کی انتظامیہ نے چینی قرضے سے بندرگاہ کو تعمیر کیا تھا، تاہم 2011 میں بندر گاہ کا آغاز ہونے کے باوجود سری لنکن حکام قرضے کی ادائیگی میں ناکام رہے۔سری لنکا کی حکومت کے مطابق بندرگاہ کے قرض کی ادائیگی 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سالانہ ہے جبکہ 2016 کے اختتام پر بندگاہ کو پہلے ہی 30 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔سابق سری لنکن صدر مہندا راجا پکسے اپنے ملک کی ترقی کے لیے چین پر زیادہ انحصار کیا کرتے تھے، ان کے دور حکومت میں چین نے سری لنکا کو ایئرپورٹ، بندرگاہیں، ہائے ویز اور بجلی کے پاور پلانٹس بنانے کے لیے قرضے فراہم کیے اور سری لنکا میں سب سے بڑا سرمایہ کار بن گیا۔سری لنکا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پڑوسی ملک بھارت میں بے چینی پائی جاتی ہے تاہم سری لنکا کے صدر مائی تھری پالا سریسینا دونوں ممالک کو توازن میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔واضح رہے بھارت اور امریکا نے سری لنکا کو گہرے پانیوں کی اس بندرگاہ کو چینی کمپنی کے حوالے کرنے پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

تازہ ترین