23 مارچ 1940 وہ تاریخ ہے جب قراداد پاکستان پاس ہوئی اور23 مارچ 1956 کی تاریخ ہے ، جب پاکستان ڈومنین سے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا ، آزاد ملک کے طور پر تو وہ 14 اگست 1947ء کو معرض وجود میں آچکا تھا مگر برطانیہ سے مکمل آزادی اس وقت نصیب ہوئی جب پاکستان کا پہلادستور بنا۔ 90 سالہ جدوجہد کے بعد یہ آزادی انتھک جدوجہد اور بیش بہا قربانیوں کاحاصل تھی۔نوجوان نسل کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس آزادی کے کسقدر کاوش، کسقدر جدوجہد ہوئی، صبح سے شام اور شام سے سحر تک ، ایک دن نہیں 90 سال یہ تحریک چلتی رہی۔
آزادی کے حصول کا دورانیہ تین ادوار پر مشتمل ہے ۔ پہلا دور 48 سال تک محیط ہے یہ دور مسلمانوں کے دباؤ اور برہمن ہندؤں کے قابض برطانوی فوج اور حکومت کے درمیان رومانس کا دور ہے ، دوسرا دور میں 1906ءء میں شروع ہوا ، اور 1940 چلا،، اس دور میں انگریز اور برہمن رومانس میں رفنہ پڑا اور مسلمانوں نے انگریز کے ساتھ راہ ورسم بڑھائی اور ساتھ ہندوستان کی جنگ آزادی کیلئے آل انڈیا کانگریس کے ساتھ مل کر جدو جہد کی، اس دور میں کانگریس نے مسلمانو ں کو دبانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو ہندوستان سے بیدخل کرنے اور فرقہ وارانہ فسادات میں ریکارڈ اضافہ ہوا، اور تیسرا دور 1940ء میں شروع ہوا جب ہندوستان کا مسلمان اس نتیجہ پر پہنچا کہ برہمن قابض کانگریس مسلمانوں کے حقوق کاتحفظ نہیں کرسکتی ، وہ مسلمانوں سے ہندوستان پر آٹھ سو سالہ حکمرانی کا بدلہ جمہوریت کے نام پر لے گی تو انہوں نے ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ءء کو مسلمانوں کی ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کردیا اور سات سالہ جدو جہد آزادی کے بعد وطن عزیز پاکستان کا حصول ممکن ہوا۔ یہ برصغیر کے مسلمانوں کے خوابوں کی سرزمین اُن کی امیدوں کا مرکز اور عزائم کی تکمیل کی مملکت قرارپائی۔
1857 ء ء کے بعد پہلا دور مسلمانوں کیلئے انتہائی پر آشوب دور تھا، مسلمانوں سے حکمرانی چھین لی گئی تھی وہ غلام بنالئے گئے تھے اور ہر طرح سے ان کو دبا یا جارہا تھا ۔ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے اور مسلمان انگریز کی حکومت کو قبول کرکے نہیں دے رہا تھا اسکی اصلاحات کو بھی شک و شبہات کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا ، ٹیلیگراف سروس شروع ہوئی تو کہا گیا کہ انھیں تاروں سے باندھ کے لے جانے کی تیاری ہورہی ہے ، بکھرے ، بپھرے مسلمان انگریزی سیکھنے کو تیار نہ تھے اور فارسی و اردو کے استادوں جوحکومتی نظام چلانے کے ماہر بھی تھے مگر ان کیلئے کوئی جگہ نہ تھی تو اس محاورہ نے جنم لیا کہ پڑھو فارسی بیچو تیل۔ اسوقت ایک دانا آواز سر سید احمد خاں کی اٹھی جنھوں نے مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کے حصول کی طرف توجہ دلائی اور نئے علوم سے تعصّب نہ برتنے کا سبق دیا۔ انہوں نے انتہائی مشکل حالات کاسامنا کیا مگر ہمت نہ ہاری ،جس کے بعد مسلم علی گڑھ کالج اور پھر آگے چل کر مسلم علی گڑھ یونیورسٹی بنی، جہاں مسلمان بچوں کو انگریزی و اُردو تعلیم کے ساتھ ساتھ اُن کو تربیت بھی دی جاتی تھی کہ وہ کس طرح سے بدلتے ہوئے حالات میں اپنے آپ کو ممتاز بناسکتے ہیں یا کم از کم عزت و آبرو کے ساتھ جی سکتے ہیں۔ پہلے مسلماں امراء اور پھر عام مسلمان انگریزی کی تعلیم حاصل کرنے پر رضا مند ہوئے ، انہوں نے علاقائی و صوبائیت ہم آہنگی پیدا کرنے کے بھی اسباب پیدا کئے کہ ہاسٹل میں کسی بھی کمرے میں ایک ہی صوبے کے افراد نہیں بلکہ مختلف صوبوں کے طالب علموں کو رہائش دی جاتی تھی۔ 1857ء کے فوری بعد مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی ان کے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی توہین اور ان کے بچوں کو ان کے سامنے ذبح کیا گیا، یہ بات یقینی بنائی گئی کہ شہزادیوں کو طوائف بنا دیا جاے ، مسلمانوں کو خصوصاً اور ہندستان کی دیگر اقوام کو غلام بنائے رکھنے کیلئے پولیس کا ظالم نظام ترتیب دیا گیا جن کی تنخواہ کم اور اختیارات لا محدود دیکر ظلم کی مشین بنادی گئی۔ غضب خدا کا یہ نظام آج بھی لاگو ہے جسکی وجہ سے آج بھی ہمیں چھترول سے لیکر دیگر پولیس مظالم دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔ پولیس کے تھانے عقوبت خانے کے طور پر مانے اورجانے جاتے ہیں۔قدرت کے اپنے انتظامات ہوتے ہیں اس پر آشوب دور میں دو بڑی شخصیات نے جنم لیا وہ تھے علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح جنھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو جگانے اور مسلمانوں کو آزادی سے ہمکنار کرنے کا اہم کام سر انجام دیا ۔
دوسرا دور اس وقت شروع ہوا جب انگریز اور ہندو اتحاد میں رخنہ پڑا جب انگریز نے 1905ء میں انتظامی وجوہات کی بناء بنگال کو مشرقی و مغربی بنگال میں تقسیم کر دیا اس پر ہندو انگریز رومانس ٹوٹ گیا۔ ہندو برہمن چراغ پا ہو گیا کیونکہ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہاں ان کو راحت ملی اور اقتدار میں حصہ بھی ‘ ہندوؤں نے اس کے خلاف تحریک چلائی۔
یہ وقت تھا جب مسلمانوں کے ایک وفد نے سر آغا خان کی سربراہی میں 1906ء میں شملہ میں اس وقت کے وائسرائے لارڈ منٹو سے ملاقات کی اور مشرقی بنگال کے صوبہ کے قیام کی حمایت کی اور الیکشن کیلئے علیحدہ ووٹ کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا چنانچہ لارڈ منٹو نے یہ دونوں مطالبات مان لئے اس سے مسلمانوں کو تقویت ملی اور اس ملاقات کے فوری بعد وفد کے ارکان دسمبر 1906ء میں ڈھاکہ میں پھر ملے اور مسلمانوں کی ایک جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے بنانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 30 دسمبر 1906ء کو یہ جماعت معرض وجود میں آ گئی۔ سر سلیم الله نے اس جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی اور حکیم اجمل نے اس کی تائید کی جن معروف لوگوں نے ان اجلاسوں میں شرکت کی ان میں سر سلیم الله ‘ محسن الملک ‘ نواب وقار الملک ‘ سید نواب علی چوہدری ‘ جسٹس شاہ دین ‘ مولانا ظفر علی خان ‘ مولانا محمد علی جوہر ‘ حکیم اجمل شامل تھے۔ واضح رہے کہ آل انڈیا کانگریس پارٹی 1885ء میں معرض وجود میں آ چکی تھی اور 1891ء میں کانگریس نے اپنے آپ کو تمام حکومتی معاملات میں دخیل کر لیا تھا کیونکہ انگریز حکومت نے ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے تھے اس سے مسلمانوں میں شدید احساس محرومی پیدا ہو چکاتھا۔
1906ء سے لیکر 1940ء تک مسلمانون نے کانگریس کے ساتھ ملکر ہندوستا ن کو آزاد کرانے کی جدوجہد کی اور کوئی دقیقہ فرواگزاشت نہیں کیا کہ ہندوستان ایک رہے مگر ہندو اپنی بالا دستی چاہتا تھا اور جمہوری طاقت سے مسلمانوں کے اقلیت ہونے کی وجہ سے غلام بنائے رکھنا چاہتا تھا۔ وہ صوبے جہاں مسلمان آباد تھے وہ پسماندہ تھے ان کو پسماندہ ہی رکھنا چاہتا تھا۔ مسلمانوں کو کھلے دل کے ساتھ اپنا ہندوستانی ساتھی بنانے کو تیار نہ تھا۔ ہر کام میں ڈنڈی مارنے کو تلا رہتا تھا ‘ ہر موقع پر مسلمانوں کو پیچھے اور ان کے حقوق کو غصب کرنے کو تیار رہتا تھا۔ طویل جدوجہد ‘ بحث و مباحثہ اور گفت و شنید ‘ مذاکرات اور مشترکہ حکومت میں مسلم لیگ اور کانگریس کی شمولیت کے باوجود وہ ہندو برہمن کو قائل نہیں کرسکا کہ وہ برابر کے اتحادی ہیں، اسکے بعد ہی مسلمان اس نتیجہ پر پہنچا کہ کیونکہ ہندو ؤں کا اعلی طبقہ خصوصا برہمن جمہوریت کے نام پر مسلمانوں کو غلام بنانا چاہتا ہے تو انہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا کہ ہندوستان میں د وقومیں بستی ہیں اور ان دونوں کے مذہب الگ دونوں کے رسم و رواج میں فرق ہے ،یہاں تک کہ وہ ساتھ بیٹھ کر کھا بھی نہیں سکتے۔ اس لئے ہندوستان کو تقسیم کر دیا جائے ۔ یہ مطالبہ 23 مارچ 1940ء کو منٹو پارک لاہور میں قائد اعظم کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں ہوا۔ اس اجلاس کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے وہ تاریخی جدوجہد کی جس کے بعد یہ خوبصورت ملک معرض وجود میں آیا۔ اس کے حصول میں جو قربانیاں دی گئیں جو سر کٹے‘ جو عصمتیں لٹیں ‘ جو بے گھر ہوئے وہ تاریخ کا حصہ ہے مگر پاکستان قائم ہو گیا اور قائم بھی ہے اور انشاء اللہ قائم رہے گا۔ اس تاریخی جدوجہد پر کتابوں پر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ خلاصہ بیان کیا جاتا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ وہ صبح ابھی نہیں آئی ‘ یہ درست تو ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طرف پیش قدمی جاری ہے۔ چاہے اس کی رفتار کچھوے کے مانند ہی کیوں نہ ہو۔ سفر جاری ہے اور ہمیں یقین کامل ہے کہ پاکستان خطہ ارض پر ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھرے گا اور مسلمانوں کے نشاط ثانیہ کا خواب پورا ہو کر رہے گا۔ انشاء اللہ