سعودی مجلس شوریٰ نے سائبر کرائم کے قوانین کو مزید سخت کرنے سے متعلق ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔

عرب ٹی وی کے مطابق ترمیم شدہ قانون کے تحت سائبر کرائم میں ملوث افراد کے خلاف سزائیں سخت کردی گئی ہیں، اسلامی عقیدہ اور بنیادی اصول، حکمران کے خلاف اکسانے، ملک کی اندرونی وبیرونی سلامتی،معیشت اور ساکھ کو خطرات میں ڈالنے، بیرونی مفادات کے لئے کام کرنے پر دس سال قید اور پچاس لاکھ جرمانہ کی سزا مقرر کردی گئی ہے۔

جبکہ مفتی اعظم ودیگر علماء کی ذات کو نشانہ بنانے اور توہین کرنے، فرقہ ورانہ نعرے اور فرقہ واریت کے فروغ پر پانچ سال قید،30لاکھ ریال جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا پر دوسرے صارفین کی غیر قانونی طریقے سے جاسوسی کرنا، یا اس پر موجود مواد کا ناجائز استعمال کرنے پر ایک سال قید پانچ لاکھ جرمانہ مقرر کی گئی ہے۔
ملکی ساکھ کو بدنام،لادینیت کی ترغیب، جادوٹونے کی تشہیرکرنے پر پانچ سال قید، 30لاکھ ریال جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے۔