اقبال کا یہ مصرعہ تو مدت سے زبان زد خاص و عام ہے کہ،
” جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی “
انہوں نے یہ بھی فرمایا،
ہوئی جب سے دین و سیاست میں دوری
ہوس کی امیری ہوس کی وزیری
انڈین نیشنل کانگریس کی سیکولر وطنی قومیت کی بنیاد پر سیاست کے مقابلے میں آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست کی بنیاد مذہب اور عقیدے پر تھی۔
مصطفی کمال نے جب ترکوں کی دینی حمیت کو ابھار کر استنبول کے دفاع کی جنگ جیتی اور اس کے بعد وہ لاطینی رسم الخط اور لادینیت (سیکولرزم) میں الجھ گئے تو اقبال نے انہیں خبردار کرتے ہوئے فرمایا،
لادینی و لاطینی کس پیچ میں الجھا تو
دارو ہے ضعیفوں کا لا غالب ا لَّاھُوْ
آل انڈیا مسلم لیگ قائد اعظم اور علامہ محمد اقبال کی قیادت میں وطنی قومیت اور لادینیت کے مقابلے میں عقیدہٴ اسلام کی بنیاد پر مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کے علمبردار تھے علامہ اقبال نے واشگاف الفاظ میں وطن کی بنیاد پر قومیت کی نفی کرتے ہوئے فرمایا،
ان تازہ خداوٴں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے
قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے
بازو تیر ا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے
نظارہٴ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے
یو پی اور سی پی میں تحریک پاکستان کے دوران میں جو نعرہ قبولیت عام حاصل کر گیا وہ یہی تھا ،
پاکستان کا مطلب کیا ، لاالہ الا اللہ۔
تحریک پاکستان بنیادی طور پر مذہب کے نام پر ہندوستان کی تقسیم کی تحریک تھی ۔ اس بنا پر پاکستان بننے کے بعد یہ مطالبہ اٹھایا گیا کہ جب اسلام کے نام پر ملک بنا ہے تو اب اس کو فقط نعرے کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے اس ملک میں عملی طور پر اسلامی دستور اسلامی قانون اور اسلامی نظام تعلیم رائج کر دیا جائے۔
مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کا نہ جغرافیائی محل وقوع مشترک تھا نہ زبان دونوں کے درمیان مشترک رشتہ اسلام تھا اور یہ اس صورت میں اکٹھے رہ سکتے تھے کہ یہاں فی الحقیقت اسلام زندگی کے تمام شعبوں میں بالا دست نظر آتا۔ کچھ لوگوں نے یہ اعتراض اُٹھایا کہ کون سا اسلام ،شیعہ اسلام یا سنی اسلام، بریلوی اسلام یا دیوبندی اسلام، اہلحدیث کا اسلام یا تقلید کرنے والوں کا اسلام در حقیقت جو لوگ یہ سوال اُٹھارہے تھے وہ اسلام کے نفاذ کے مخالف تھے۔ان کا جواب مختلف مکاتب فکر کے 31 علماء نے اپنے 22 مشترکہ نکات میں دیدیا تھا اور یہ سب لوگ1956 کے دستور پر بھی متفق ہو گئے تھے اور 1973 کے دستور پر بھی متفق ہیں بلکہ دستور کے مطابق جو اسلامی نظریاتی کونسل قائم ہے اور اس میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی موجود ہے۔ اس نظریاتی کونسل نے 28 جلدوں پر مشتمل اپنے تفصیلی سفارشات پیش کی ہیں۔ان سفارشات پر بھی تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام متفق ہیں۔ ایک مرتبہ جب سینیٹ میں انہی لادین معترضین کے ایک نمائندے نے پھر یہ سوال اٹھایا کہ ہم کس مکتب فکر کی شریعت نافذ کریں تو میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ ہمیں ”انگریز کی شریعت سے نجات دلا دیں اور مسلمانوں میں جس مکتب فکر کی شریعت بھی نافذ ہوگی ہم مل جل کر اس کی قبولیت کا راستہ نکال لیں گے کیونکہ سب کی مشترکہ بنیاد قرآن و سنت ہے“لیکن علماء کی طرف سے مسکت جواب اور عملی راستہ نکالنے کے باوجود یہ لوگ یہی گھسا پٹا سوال بار بار دہراتے ہیں۔
اس وقت جب کہ باقی ماندہ پاکستان کے مختلف علاقوں (صوبوں)میں علیحدگی پسند متعصب قوتوں نے اغیار کی شہ پر ملک عزیزکو مزید حصوں بخروں میں بانٹنے کی تحریک کھڑی کی ہے ملک کو ایک رکھنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ دینی رشتے کی بنیادکو مضبوط بنایا جائے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔مغربی اور ہندوانہ تہذیب کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام کرنے کا نتیجہ ملک میں فکری انتشار کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔بعض لوگ اس مطالبے کی نسبت جماعت اسلامی کی طرف پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس مطالبے کو متنازع بنایاجائے حالانکہ یہ مطالبہ تحریک پاکستان کا منطقی نتیجہ ہے۔مدراس ، یوپی، سی پی اور بمبئی کے مسلمانوں کو خوب علم تھا کہ وہ پاکستان میں شامل نہیں ہوں گے انہوں نے صرف اس لئے مطالبہٴ پاکستان کی حمایت میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا کہ وہ روئے زمین پر ایک ایسے خطے کی آرزو کر رہے تھے جس میں اسلام کا نظام عدل پورے آب و تاب کے ساتھ ایک بار پھر نظر آئے۔
مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا بھی یہی طریقہ ہے کہ ان کی توجہ نظری اور غیر اہم فروعی اختلافات سے ہٹا کر انہیں ان بنیادی مشترکات پر متحد کیا جائے جو دین میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں اور جو اپنی اہمیت کے باوجود دورِ انحطاط میں پس منظر میں چلے گئے ہیں۔مثال کے طور پر اسلام کا معاشی نظام ہے جس میں بنیادی اہمیت حلال و حرام کی ہے۔ اگر ریاست کے تمام کل پرزے عوام کی اخلاقی تربیت اس نہج پر کریں کہ لوگ حلال کمائی پر قناعت کریں اور حلال طریقوں پر ہی خرچ کریں تو ملکی دولت سب کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی ہو سکتی ہے۔
اقبال نے اپنی مشہور نظم ابلیس کی مجلس شوریٰ میں ابلیس کی زبانی اسلام کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اسلام ایسا نظام ہے جو مال داروں اور دولت مندوں سے کہتا ہے کہ تم مال و دولت کے مالک نہیں بلکہ اس کے امین ہو اور مالک نے جس طرح حکم دیا ہے اس کے مطابق مال و دولت میں تصرف کرو تو یہ مال و دولت پورے معاشرے کے لئے باعث خیر و برکت بن جاتا ہے۔ فرمایا،
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امین
ایک دوسرے مقام پراقبال نے اسلامی معاشی نظام کی برکتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا،
” زرفزایدالفت زر کم کند “
اسلام کا معاشی نظام دولت بڑھاتا ہے اور دولت کی محبت کو کم کردیتا ہے۔
حلال کمائی میں زراعت ترقی کرے گی۔صنعت و حرفت میں ترقی ہوگی،تجارت میں ترقی ہوگی، ذہین طبقہ اپنی مہارت میں ترقی کرکے خود بھی ترقی کریگا اور ملک و قوم کی ترقی میں بھی حصّہ دار بنیں گے۔
سود،جوئے،خیانت،غصب،غبن اور رشوت ستانی کے ذریعہ کمائی کا راستہ بند ہوگا۔
اس طرح حلال طریقوں سے خرچ کرنے سے اسراف یعنی ضرورت سے زائد خرچ کرنے سے لوگ گریز کریں گے۔ تبذیر یعنی فضول خرچی کا راستہ بند ہوگا۔ فحش سرگرمیوں سے کمانے اور خرچ کرنے کے راستے بند ہوں گے ۔
غرض حلال و حرام کی تمیز کے نتیجے میں معاشرے میں حلال کمائی کے راستے کھلیں گے اور ملک ترقی کرے گا اور حرام سرگرمیوں کے انسدادکے نتیجے میں قومی دولت تمام باشندوں میں خودبخود تقسیم ہوجائے گی۔
اسلام کے معاشی نظام پر تمام مکاتب فکر کے علماء آپس میں متفق ہیں۔صوم و صلوٰة اور زکواةو حج کی تفصیلات میں اگرچہ اختلافات ہیں لیکن تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام توحید و رسالت صوم و صلوٰہ ۔زکوٰہ اور حج کی پانچ بنیادوں کو تسلیم کرتے ہیں اس وجہ سے ہمارے قومی شاعر نے اتحادامت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا ہے،
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہے سب کا بنی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
موجودہ دور میں فرقہ بندی، مذہبی تعصبات، تشدداور باہمی کشت و خون کا سبب اسلامی تعلیما ت سے دوری ہے اور اس کا علاج بھی اسلامی تعلیمات کو عام کرنا ، اسلامی نظام تعلیم کا نفاذ، اچھے اخلاق والے دیانتداراور دیندار مسلمانوں کی حکمرانی ہے۔خرابی کی جڑ یہ ہے کہ بددیانت اور اقتدار پرست لوگوں نے مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا اور ملک حاصل ہونے کے بعد برصغیر ہندو پاک کے مسلمانوں کے ساتھ کئے ہوئے وعدے بھول گئے۔ انگریز کے شاگردوں سے ملک کے عنان اقتدار کو عوام النا س اور عوام الناس کی خیر خواہ قیادت کی طرف لوٹانا ملک کے مسائل کا حل ہے۔