آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی معیشت اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے، یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اس کا یہ حال کیا ہے ۔ ہمارے بعض کمزور اور بدعنوان اداروں نے مل کر قائداعظم محمد علی جناح کی کو ششو ں اور قر با نیوں کو ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل کردیا ہے۔
اپنے گزشتہ مضمون میں میں نے تکنیکی ماہرین کی حکومت کی ضرورت پر زور دیا تھاتا کہ ہماری معیشت علم پر مبنی ہوسکے تاہم اس مقصد کے لئے گورنینس کے حوالے سے کلیدی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ایک حقیقی جمہوریت قائم کی جاسکے ۔اسں کے لئےبدعنوانی پر سزائے موت کا قانون نافذ کرنا ہوگا جیسا کہ چین میں کیا جارہا ہے تاکہ وزرا اور بڑے افسران پرفوجی عدالتوں کے ذریعے مقدمہ چلایا جاسکے ۔ اس حوالے سے بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ایشیامیں سنگاپور نے ایسی شاندار مثال قائم کی ہے جس کی آسانی سے تقلید کی جاسکتی ہے۔ سنگاپور نے مختصر عرصے میں خود کو ایک غریب ترقی پذیر ملک سے انتہائی ترقی یافتہ جدید معیشت میں تبدیل کیا ہے۔سنگاپور نے یہ منزل قدرتی وسائل نہ ہونے کے باوجود سماجی ومعاشی ترقی صرف تعلیم ،سائنس و جدت طرازی پر بھر پور توجہ سے حاصل کی ہے۔اس ترقی کا سب سےاہم اور مرکزی کردار’ لی کوان یو‘ ہیں، جو حقیقت میں ایک صاحب بصیرت قائدتھے جنہوں نے ایک طاقت ور علمی معیشت کے حصول کے لئے

انتہائی تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ انسانی وسائل کی اہمیت کو سمجھا ۔1965ء میں جب سنگاپور آزاد ہوا تو یہ ایک چھوٹا سا غریب جزیرہ تھا جس کا رقبہ 2،700 کلومیٹرتھا ۔یہاں بے شمار مذہبی گروہ تھے جن کے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں تھااور اکثر تنازعات کا شکار رہتے تھے۔ سنگاپورمیں نہایت قلیل قدرتی وسائل تھے وہاں آبادی کی شرح میں تیز رفتاری سے اضافہ ہورہا تھا ، صاف پانی کمیاب تھا، گھریلو سہو لتیں ناپید تھیں ، اوروہ لسانی تنازعات سے بھرپور ملک تھا۔ 1965 ءمیں آزادی کے وقت سنگاپور کی دو ملین آبادی کی اکثریت ناخواندہ اورغیر ہنر یافتہ تھی۔ ترقی کے حصول کے لئے سنگاپور کو یہ چیلنج پاکستان کو اس وقت کے درپیش چیلنجوں سے کہیں زیادہ بڑا تھا ۔صاحب بصیرت ’لی کوان یو‘ کی قیادت میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ تکنیکی ماہرین پر مشتمل کابینہ تشکیل دی گئی۔ بالکل ابتدا ہی سے اس بات کا عزم کیا گیا کہ بیرونی تجارت میں سستی مصنوعات پر سرمایہ کاری کے لئے کوئی ترغیب نہیں دی جائے گی، تاکہ سنگاپور میں موجود سستے مزدوروں کا فائدہ اٹھا ئیں ۔ سنگاپورکوایک اوسط شہری کی آمدنی میں تیز رفتاراضافہ کرنا تھاتاکہ سنگاپور اوسط اور اعلی درجے کی ٹیکنالوجی کی صنعتیں قا ئم کر سکے اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کے میدان میں تیز تر ین ترقی حاصل کرسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے ہر سطح پراعلیٰ معیاری تعلیم اور تربیت کو اپنا ہدف بنایا۔تعلیم کے حوالے سے اس کی بے مثال کامیابیوں کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں ہے، سنگاپور نے جارحانہ انداز میں تعلیم اور دوسرے اہم میدانوں میں ترقی کی جانب پیش قدمی کی اورتعلیم کے حوالے سے ہر میدان میں اس نے اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سنگاپور کا تعلیمی نظام گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں کی فہرست میں شا مل ہے۔اس کا مقصدمعیاری انسانی وسائل تخلیق کرنا تھا تاکہ یہ منتخب میدانوں میں مثلاً برقیات ، با ئیوٹیکنالوجی اور انجنیئرنگ کے شعبوں میں معاشی ترقی کے لئے طاقت ور انجن کا کام انجام دےسکیں۔
انہیں اس بات کا بھی ادراک تھا کہ امن کے ساتھ ترقی کرنے کے لئےلسانی ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ چنانچہ ہاؤسنگ اسکیمیں اس طریقے سے ترتیب دی گئیں کہ ایک علاقے میں تمام لسانی گروہوں کو ایک جگہ پر بسایا گیاتا کہ آبادی لسانی بنیا دوں پر تقسیم نہ ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح کی لسانی تقسیم ہمیں ہندوستان، میانمار اور کئی اسلامی ممالک میں نظر آتی ہے سنگا پور میں اس کا وجود نہیں ہے۔
افسوس کہ پاکستان میں بعض بدعنوان حکومتوں نے جو کہ جاگیرداروں کے مضبوط شکنجے میں ہیں تعلیم کو سب سے نچلے درجے کی ترجیح میں رکھا جبکہ سنگا پور نے انسانی وسائل کوہمیشہ سب سے قیمتی سرمایہ سمجھا۔ معاشرے میں ہر سطح پر جن اقدار کو پروان چڑھا گیا ان میں ایمانداری، بہترین معیار کی ضمانت، اہلیت کا نظام، تنظیم، انسانیت، جاں نثاری اور معاشرے کے حوالے سے سماجی ذمہ داریوں کی اقدار شامل ہیں ۔ پہلے1978ء تک کے زمانے میں ان کاہدف تعلیم کا پھیلاؤ اور خواندگی میں اضافہ تھا۔ 1979ء تا 1996 ء تک کے زمانہ میں ان کا ہدف سنگاپور کو تیسرے درجے کی صرف مزدوری پر مبنی معیشت سے دوسرے درجے کی اعلیٰ ہنر پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا تھا۔اس مقصد کے حصول کے لئے ابتدائی جماعتوں سے ہی اسکول کی سطح پر اصلاحات کی ضرورت تھی۔ اس حقیقت کومد نظر رکھا گیا کہ بچوں کی تعلیمی نشونما مختلف رفتار اور مختلف درجوں میں ہوتی ہے، چنانچہ تین طرح کے اسکول کے نظام متعارف کرائے گئے ، (اول)اکیڈمک ہائی اسکول ، جو کہ طلباء کو کالج کی تعلیم کے لئے تیار کرتے ہیں (دوم) پولی ٹیکنک ہائی اسکول ، جو کہ طلباء کو اعلیٰ درجے کی تکنیکی تربیت کے لئےتیار کرتے ہیں یہ تعلیم بھی کالج کی سطح تک جاری رکھی جا سکتی ہے اور (سوم)تکنیکی ادارےجن کا ہدف اسکول کی آخری پانچویں کلا سو ں کے طلباء کو تکنیکی اور فنی تعلیم فراہم کرنا تھا ۔ سنگاپور کا مقصد ایک مضبوط کمپیوٹر انڈسٹری ،silicon wafar chips) کا قیام تھا چنانچہ اس مرحلے کا ہدف معیاری سائنس اور ریاضی کی تعلیم کو بنایا گیا تاکہ معیاری تکنیکی عملہ تیار کیاجا سکے اور غیر ملکی صنعت کو راغب کیا جاسکے۔انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیکنکل ایجوکیشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور بڑی تعداد میں ان کے کیمپس قائم کئے گئے جہاں فراہم کی جانے والی سہو لتوںکا مقابلہ دنیا کے کسی بھی چوٹی کے ادارے سے کیا جاسکتا ہے۔ جلد ہی سنگاپور صنعتی ترقی کے حوالے سے ایک بین الاقوامی مرکزکے طور پر نمایاں ہواجس نے غیر ملکی اداروں کو اپنے صنعتی پلانٹ یہاں قائم کرنے کی طرف راغب کیا۔سنگاپور کا نیا تعلیمی نظام قو می مسا ئل کو سمجھنے اور حل کرنے کے تصور پر قائم کیا گیاجس نے اس کو دنیا کی ایک طاقتوررمعیشت میں تبدیل کرنے میں مدد دی۔اس نظام نے تخلیقی سوچ اورپوری زندگی سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنے کی فکر کو تقویت دی۔ دو سالہ قومی خدمت کے نظام کو متعارف کروایا گیااور نظام تعلیم کو اس طرح تیار کیا گیا کہ طلباء کی دلچسپی تعلیم سے قائم رہے۔ انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو بنیادی ضرورت کے طور پر اعلیٰ ترین ترجیح دی گئی۔ تیسرے مرحلے یعنی 1997 ءسے تاحال کے مرحلے میں سنگاپور کو عالمی علمی معیشت کا لیڈر بنانے پر توجہ دی گئی۔ یہ کام حکومت کی سائنس ،ٹیکنالوجی اور تحقیق کی ایجنسی (اے اسٹار) کے ذریعے انجام دیا گیاجس نے اس مقصد کے لئےکثیر رقوم فراہم کیں اور دنیا بھر کے سائنس دانوں اور سائنسی کمپنیوں کو سنگاپور کی جانب راغب کیا، اس کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائدسائنسی ، تکنیکی یا انتظامی مہارت کے حامل غیر ملکی افرا اور بین الاقوامی کمپنیاں تحقیقی اداروں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کام کرنے کے لئے سنگاپور کی جانب راغب ہوئے ۔ سنگاپور کی قومی جامعہ مسلسل دنیا کی تیس بہترین جامعات میں مقام حاصل کرتی رہی ہے۔
اس کے ساتھ نین یانگ تکنیکی جامعہ کے بائیو انفارمیٹکس، انفارمیشن سائنس، طبی تکنیکیات اور دوسرے اہم میدانوں میں دنیا کی بہترین جامعات کے ساتھ تحقیقی ادارے قائم ہوئے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اس وقت سنگاپور کی برآمدات 300ارب ڈالر سا لا نہ ہیں جو کہ پاکستان کی برآمدات سے سترہ گنا زیادہ ہیں۔
اب وقت کی اشد ضرورت یہ ہے کہ پاکستان میں نظام حکومت کو مکمل طو ر پر تبدیل کیا جائے، تکنیکی ماہرین کی حکومت قائم کی جائے، بدعنوانی کے خاتمے کے لئے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں پیش کیا جائے اور ترقیاتی پروگرام کی سمت کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے جیسا کہ سنگاپور نے خود کو علمی معیشت میں تبدیل کیا ہے۔تاہم اس کے لئے ہمیں اپنا’ لی کوان یو‘خودتلاش کرنا ہوگا۔
(معزز کالم نگار یو این کمیشن برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت برائےUNESCAPریجن کے چئیرمین ہیں اور سابق وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنا لو جی ؍ چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن ہیں )

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں