آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مستقبل کا سعودی شہر ’نیوم‘ مصنوعی ذہانت کا شاہکار

Neom Saudi City Of Future Masterpiece Of Artificial Intelligence

سعودی عرب میں 5 سو ارب ڈالرز سے تعمیر کیا جانے والا مستقبل کا شہر’نیوم‘ بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت کا شاہکار ہوگا جس میں نیوم ایپلیکیشن بھی شامل ہوگی۔

اس منصوبے کے ماسٹر مائنڈ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ اس شہر کی ہر چیز نیوم ایپلیکیشن سے منسلک ہوگی اور شہری اس ایپلیکیشن کے ذریعے جو چاہیں گے، کرسکیں گے۔

بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس شہر میں کوئی سپرمارکیٹ نہیں ہوگی بلکہ جو کچھ بھی آپ کو چاہئے ہوگا، وہ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے آپ کے گھر پہنچادی جائے گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر چیز مصنوعی ذہانت یعنی انٹرنیٹ سے منسلک ہوگی، میڈیکل فائل سے لے کر گاڑی اور خاندان کی تفصیلات دیگر فائلوں سے منسلک ہوں گی اور یہ نظام آپ کو بہتر چیزوں کی فراہمی کیلئے خود کو تیار کرے گا۔

سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ آج جتنے بھی کلائوڈز دستیاب ہیں وہ سب علیحدہ علیحدہ ہیں، گاڑی سے لے کر ایپل واچ تک سب کچھ الگ الگ ہے جبکہ نیوم میں سب کچھ ایک دوسرے سے جڑا ہوا یا منسلک ہوگا، لہٰذا نیوم میں کوئی بھی شخص نیوم ایپلیکیشن کے بغیر نہیں رہ سکے گا۔

نیوم ’نیو مستقبل‘ کا اختصار ہے جو کہ لاطینی و عرب اصطلاح ہے جس کے معنی ’نئے مستقبل‘ کے ہیں، اس شہر کو عملی جامہ 2020ء میں پہنایا جائے گا جبکہ مرکزی شہر 5 سال بعد کھولا جائے گا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے بلوم برگ کو بتایا کہ اس بڑے منصوبے کا پہلا مرحلہ نیوم خلیج ہوگا جو نیو یارک کے ہیمپٹنس کی طرح کا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں ایک پُل بحیرہ احمر سے گزرے گا جو مجوزہ شہر کو مصر اور افریقہ سے ملائے گا، مصر اور اردن تک پھیلنے والے شہری علاقے کی ترقی کیلئے 10ہزار مربع میل کا حصہ مختص کیا گیا ہے۔

سعودی شہزادے کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی سب کچھ بدل کر رکھ دے گی جبکہ امیزون، ایئربس، علی بابا اور دنیا بھر کی بڑی و معروف کمپنیوں نے اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ اس منصوبے سے دبئی سمیت کسی بھی خلیجی ریاست کو نقصان پہنچے گا، ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ اس شہر میں رہنے کیلئے تمام اقوام کو خوش آمدید کہا جائے گا مگر یہاں بھی دیگر خلیجی ممالک کی طرح شراب پر پابندی ہوگی۔

خاص رپورٹ سے مزید