آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مختلف اداروں کی نسبت سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے کا ہونا فطری بات ہے ۔انسانی سوچ بھی فطرت کے اسی نکتےکے گرد گھومتی ہے۔ہمارے ملک میں موجود سیاسی جماعتوں میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ پارٹی کے اندر دھڑے بندی پائی جاتی ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اور اس پارٹی میں دو طرح کی آرا رکھنے والے موجود ہیں۔مسلم لیگ ن میں بہت سے لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ درست نہیں تھا اس لئے پارٹی کو محاذ آرائی سے کام لینا چاہیے خواہ اس کے لئے پارٹی قیادت کو کسی بھی طرح کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے جبکہ بعض لوگ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ اداروں سے محاذ آرائی نقصان دہ ہوگی لہٰذاکسی قسم کے ممکنہ اور منفی نتائج کا سامنا کرنے کی بجائے آئندہ انتخابات کے لئے پارٹی کو منظم اور فعال کیا جائے،مصلحت پسندی کا مظاہرہ کرنے والے سیاسی رہنمائوں کاایک موقف یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ن کو آئندہ الیکشن کے لئے ملک بھر میں اپنے اپنے حلقوں میں سیاسی اثرورسوخ اور مضبوط پوزیشن رکھنے والے امیدواروں سے رابطوں میں تیزی لانی چاہیے تاکہ پارٹی آئندہ بھی اکثریت حاصل کرے اورا سے

حکومت سازی کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے،مسلم لیگ ن میں دو آرا رکھنے والے سیاسی رہنمائوں میںاختلاف رائے تو موجود ہے مگر یہ کہنا قطعی طور پردرست نہیں کہ یہ قدآور سیاسی جماعت دھڑوں میں تقسیم ہونے جارہی ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اختلاف رائے کرنے والے بھی اس بات سے مکمل طور پر اتفاق کرتے ہیں کہ میاں نواز شریف عوام میں سب سے زیادہ مقبول ترین شخصیت ہیں اور ن لیگ کی کامیابی کا دارومدار انہی کی ہدایات کی روشنی میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے لئے بنائی گئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ سی پیک منصوبہ لانے پر مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف سازشیں شروع ہوجائیں گی کیونکہ عالمی طاقتیں اور ملک دشمن عناصر ہمیشہ سے پاکستان کی ترقی ،خوشحالی اور معاشی استحکام کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے آئے ہیں لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی حکمت عملی میاں نوازشریف کی پالیسیوں پر غالب آچکی ہے۔
شہباز شریف نہ صرف شریف فیملی کی ساکھ بچانے کے خواہاں ہیں بلکہ وہ اپنی سیاسی پارٹی کو انتشار سے بچانا بھی چاہتے ہیں تاکہ سالہا سال سے پارٹی سے وابستہ رہنما اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل نہ کرسکیں۔اس ضمن میں سب سے پہلے مریم نواز نے اپنے والد کی ہدایت پراپنے چچا شہباز شریف اور حمزہ شہبازشریف سے ملاقات بھی کی ۔اس ملاقات کے دوران مریم نواز کو مفاہمتی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ہوئے میاں شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اداروں کے خلاف مخالفانہ بیان بازی سے نہ صرف پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ملک میں انارکی کا سا ماحول بھی پیدا ہوسکتا ہے۔شہباز شریف ،مریم نواز اور حمزہ شہباز کے درمیان اس اہم ملاقات کے بارے میں اب سننے میں آیا ہے کہ حمزہ شہبازشریف کو پنجاب کی سطح پر سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے اور وہ آئندہ چنددنوں میں پنجاب سمیت ملک کے تمام شہروں میں جلسے جلوسوں کا آغاز کردیں گے۔یہاں پر ایک واقعہ اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ گزشتہ دنوں ورکرز کنونشن کے دوران نوازشریف جب اپنے خطاب میں حمزہ شہباز کا نام لینا بھول گئے تو ہال حمزہ شہبازشریف کے حق میں بلند ہونے والے نعروں سے گونج اٹھا جس پر سابق وزیراعظم کو فوری طور پراحساس ہوا اور انہوں نے پارٹی کے لئے حمزہ شہباز کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔اب چلتے ہیں ایک اور نکتے کی طرف،بعض بااثر شخصیات کے ذریعے شریف برادران کو واضح طور یہ پیغام دیا گیا کہ کوئی ریاستی ادارہ مسلم لیگ ن کے خلاف کوئی کردار ادانہیں کرے گا۔
اس وضاحتی پیغام کو پی ایم ایل این کے ذریعے نیک شگون قرار دیا جاسکتا ہے۔معروف کالم نویس اور ہمارے سینئر صحافی دوست میاں نوازشریف سے ہونے والی ایک ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی تمام سازشوں اور ان کے پس پردہ اپنے دوستوں سے بھی آگاہ ہیں مگر وہ ابھی اس معاملے میں لب کشائی نہیں کریں گے۔دوسری جانب وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ سمیت چند دیگر لیگی رہنمائوں اور ممبران پارلیمنٹ کا دوٹوک موقف ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کی ذمہ داری اب میاں شہباز شریف کو سونپ دی جائے اس طرح پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے بچ جائے گی اور پانامہ لیکس کے بعد تمام متنازع امور کو احسن اندازسے نمٹانے کا موقع بھی مل سکے گا ۔یہی نہیں بلکہ شہباز شریف کی قیادت میں پارٹی آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں بھی ہوگی۔وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بیان بھی دیا تھا کہ میاں نوازشریف کو خود پر لگائے گئے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کا حصہ بنے رہنا چاہئے ، کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز اور کلین چٹ ملنے تک پارٹی معاملات سے دور رہنا چاہیے اسی میں سب کی بہتری ہے۔
مصدقہ اطلاعات ہیں کہ کچھ اہم ریاستی اداروں کے لوگ ن لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور ممبران اسمبلی سے مل رہے ہیں جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو آئندہ الیکشن سے پہلے تحلیل کرایا جائے تاکہ اگلے سال مارچ میں سینٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل نہ ہوسکے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نادیدہ قوتوں اور شریف خاندان کے درمیان میچ میں فتح کس کا مقدر بنتی ہے ۔بحر کیف گنتی شروع ہوچکی ہے اور آنے والے چند دنوں میں صورت حال مزید واضح ہوجائے گی کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔مسلم لیگ ن متحد رہنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے یا پھر ماضی کی طرح اس کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں