• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گورکھ دھندہ .....ذرا ہٹ کے…یاسر پیرزادہ

ملتان سے راجن پور تک کا سفر تھا ،سڑک ٹوٹی پھوٹی اور نہایت شکستہ،ہمسفر ایک بزرگ دوست ،گاڑی کرائے کی اور کام سرکاری …ایسے آئیڈیل ماحول میں سوائے فنون لطیفہ پر گفتگو کرنے کے اور کوئی کام نہیں ہو سکتا تھا سوہم نے بھی یہی کیا ۔تاہم تھوڑی دیر بعد اندازہ ہوا کہ یہ موضوع خاصا دقیع و وسیع ہے چنانچہ گفتگو کا دائرہ صرف موسیقی تک محدود کردیا اور اس کی فوری وجہ نصیبو لعل کے وہ روح پرور گانے تھے جو ڈرائیور نے اپنا حق خود ارادی استعمال کرتے ہوئے گاڑی کے ڈیک میں لگا رکھے تھے ۔کچھ دیر تک تو ہم نے بھی ان پر سر دھنا لیکن جب اچھی طرح دماغ کی لسی بن گئی تو اچانک میں نے اپنے بزرگ دوست سے پوچھا کہ کیا انہوں نے نصرت فتح علی خان کی گائی ہوئی قوالی ”تم اک گورکھ دھندہ ہو“ سنی ہے ؟بزرگوار نے نفی میں سر ہلایا تو حیرانی سے میرے ”ہاتھ پاؤں پھول گئے“ ۔میرے خیال میں اگر کسی ذی ہوش نے یہ قوالی نہیں سنی تو اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں ،اوّل،وہ مولانا جنید جمشید کا پیروکار ہے ،دوم،وہ اکبری منڈی میں آڑھت کا کام کرتا ہے ۔میرے یہ بزرگ دوست چونکہ ان دونوں خصوصیات سے محروم تھے اس لئے میں نے فوری طور پر گاڑی رکوائی اور بازار سے ”گورکھ دھندہ“ کی سی ڈی لا کر ڈرائیور کو اس ہدایت کے ساتھ دی کہ اب راجن پور تک فقط یہی قوالی چلے گی ۔اور پھر یہی ہو ،نہ صرف جاتے ہوئے بلکہ واپسی پر بھی ہم ”گورکھ دھندہ“ ہی سنتے آئے ۔
عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ جو بھی گیت ،غزل یاقوالی عوام میں مقبول ہوتی ہے ،اس کی دھن ،گائیکی اور شاعری تینوں ہی معیاری ہوتی ہیں اور تب جا کر اسے شہرت ملتی ہے ۔”گورکھ دھندہ“ پر بھی بلا شبہ یہی کلیہ لاگو ہوتا ہے،اس قوالی کی دھن روح میں اتر جانے کی حد تک پر تاثیر ہے اور نصرت فتح علی خان کی گائیکی تو بلاشبہ سونے پر سہاگا ہے۔ لیکن مجھ ناچیز کے خیال میں دھن اور گائیکی،دونوں سے کہیں بڑھ کر اس کی شاعری ہے جو نہ صرف تخلیق کے اعلیٰ ترین پیمانوں پر پورا اترتی ہے بلکہ اس کا ایک ایک لفظ سننے والے پر وجد طاری کر دیتا ہے۔ میں جب بھی یہ قوالی سنتا ہوں توشاعر کے تخیل پرواز کا اندازہ کرکے دم بخود رہ جاتا ہوں اور مجھے اس تخلیق کار کی صلاحیتوں پر رشک آتا ہے جس نے یہ لافانی اشعار لکھے ۔لیکن قدرت کا ”گورکھ دھندہ“ دیکھئے کہ نصرت فتح علی خاں کی گائی ہوئی یہ قوالی پوری دنیا میں مقبول ہوئی ،کروڑوں لوگوں نے سنی ،اس کی کئی ملین کاپیاں فروخت ہوئیں ،یو ٹیوب پر اس قوالی پر لاکھوں ہٹس ہیں مگر بد قسمتی سے اس قوالی کے خالق کو کوئی نہیں جانتا۔پچھلے دنوں اس کا انتقال نہایت کسمپرسی کی حالت میں فیصل آباد کے قریب ایک چھوٹے سے شہر میں دوائی نہ ملنے کی وجہ سے ہو گیا ۔اس غریب شاعر کے پاس اپنی دوائی خریدنے کے پیسے نہ تھے ۔شاعر کا نام ناز خیالوی تھا اور یہ اسی کے لا زوال شعر ہیں جو ”گورکھ دھندہ “ میں خاں صاحب نے گائے ہیں:
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے ،وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی ،طور ہی بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل،خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے ،اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری ،تم اسے جھنگ کے میلے میں رلا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی ،اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے ،تم اسے تپتے ہوئے تھل میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو مہینوال تصور کر لے ،اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب ،ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو …!
کسی شخص کی اس سے بڑھ کر کیا بد قسمتی ہو سکتی ہے کہ اس میں ٹیلنٹ ہو،اس کی تخلیق کی ہوئی چیز مقبولیت کے ریکارڈ بھی توڑ دے ،اس سے وابستہ تمام لوگوں کی زندگیاں سنور جائیں مگر وہ خود گمنامی کی حالت میں دوائی کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے ۔یہ نوحہ صرف ناز خیالوی یا ہمارے ملک کا ہی نہیں بلکہ یہ ہراس شخص کی کہانی ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں ہے مگر بد قسمت ہے۔ایسے شخص کی زندگی میں تمام تدبیریں الٹی ہوجاتی ہیں ،وہ ہنر مند ہونے کے باوجود بے کار رہتا ہے ،وہ محنت کرنے کے باوجود کامیاب نہیں ہو پاتا ،اس میں کسی قسم کی کوئی اخلاقی ،معاشرتی یا مذہبی برائی بھی نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہ دنیا میں ٹھوکریں کھاتا رہتا رہتا ہے ۔زیادہ دور کیوں جائیں ،اپنے ہی ملک میں دیکھ لیں…یہاں کیسے کیسے مرد ود(میں نے ”مردود“ لکھا ہے ،اسے ”مرد“ نہ پڑھا جائے) ٹائپ کے لوگوں کو بھاگ لگے ہوئے ہیں ،ان کی قسمت چمکی ہوئی ہے ،وہ جو احمقانہ کام بھی کریں ،اس کا نتیجہ فائدے میں نکلتاہے اوراپنی واجبی سی عقل کے باوجود لوگ انہیں ان کی دولت کی وجہ سے آئن سٹائن سے کم نہیں سمجھتے ۔ ان تمام باتوں کی وجہ بڑی سادہ ہے اور وہ یہ کہ ان پر قسمت کی دیوی مہربان ہے ۔ دوسری طرف ناز خیالوی جیسے لوگ ہیں جن کی (دنیاوی )ناکامی کی صرف ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے ان کی بد قسمتی !
پاکستان کی آبادی تقریباً سترہ کروڑ ہے جبکہ کرکٹ ٹیم میں صرف گیا رہ کھلاڑی ہوتے ہیں ۔سترہ کروڑ آبادی کے اس ملک میں یقینا ایسے بے شمار لوگ ہوں گے جو ان گیارہ کھلاڑیوں سے کہیں زیادہ ٹیلنٹڈ ہوں گے ،ان سے کہیں زیادہ محنت کرتے ہوں گے ،کرکٹ ٹیم میں شامل ہونا ان کا خواب ہوگا ،مگر ٹیم میں صرف وہی کھلاڑی شامل ہوتے ہیں جن کا مقدر ساتھ دیتا ہے ۔یہ کلیہ صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ کم و بیش ہر جگہ یکساں طور پر کار فرماہے ۔چند سال پہلے کی بات ہے ،ایک بھارتی فلم آئی جس کا نام ”ستیا “ تھا ۔فلم نہ صرف سپر ہٹ ہوئی بلکہ اس نے بھارتی سنیما میں انڈر ورلڈ مافیا پر فلم بنانے کا ایک نیا انداز بھی دیا ۔فلم کے گانے بھی بے حد مقبول ہوئے جبکہ فلم کے ایک کردار ”بھیکو مہاترے“ کو تولازوال شہرت ملی اور اس کا ایک ڈائیلاگ ”ممبئی کا کنگ کون…بھیکو مہاترے “ ایسا مقبول ہوا کہ لوگ” شعلے “کے گبر خان کو بھول گئے ۔صرف ایک بد قسمت شخص ہٹ نہ ہو سکا اور وہ تھا فلم کا ہیرو ”ستیا“جس کے نام پر فلم بنائی گئی تھی ۔اس ہیرو کا کیا کیا نام تھا ،یہ شائد کسی کو بھی یاد نہیں ،اسے کہتے ہیں بد قسمتی !
کچھ لوگ بد قسمتی کا توڑ تعویذ دھاگے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کچھ دانشور اس کا یہ حل بتاتے ہیں کہ بد قسمت شخص کو چاہئے کہ کسی کامیاب شخص کے ساتھ اپنے آپ کو نتھی کرلے ،آخر کاروہ بھی کامیاب ہو جائے گا۔یہ کہنا آسان ہے مگر کرنا تقریباً نا ممکن کیونکہ بد قسمت شخص یا تو اپنے ساتھ اسے بھی لے ڈوبے گا یا پھر باقی تمام لوگ کامیاب ہو جائیں گے اور وہ اکیلا منہ تکتا رہ جائے گا۔یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ زندگی میں صرف اچھی یا بری قسمت ہی اپنا کردار ادا نہیں کرتی بلکہ اس کے علاوہ بھی بے شمار عوامل فیصلہ کن نوعیت کے ہوتے ہیں تاہم جس کسی کی قسمت خراب ہو ،اس کے کیس میں کچھ بھی کام نہیں آتا ۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی میں ٹیلنٹ ہو،بات کرنے کا گر جانتا ہو ،محنت سے نہ گھبراتا ہو ،بے خوف ہو،تو ایسے شخص کو کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔اگر کسی میں یہ سب باتیں موجود ہیں تو یہ اس کی خوش قسمتی ہے لیکن اس کے باوجود اگر وہ کامیاب نہیں ہو پاتا تو پھر یہ اس کی بد قسمتی ہے اور یہی ’گورکھ دھندہ “ ہے !!!
تازہ ترین