حضرت جابرؓ پریشان تھے مسلسل سفر کی وجہ سے انکا اونٹ تھک ہار کر زمین پر بیٹھ چکا تھا۔ اب اس میں نہ ہی سفر کرنے کی ہمت تھی اور نہ ہی اٹھنے کی سکت۔ حضرت جابرؓ بہت پریشان تھے اور بار بار یہی سوچ رہے تھے کہ اونٹ تو جواب دے چکا اب مدینہ کیسے پہنچے گے۔ انہی پریشانیوں میں ڈوبے تھے کہ اچانک جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور پوچھنے لگے کہ اے جابرؓ تمہیں کیا ہوا، کیوں اتنے پریشان ہو۔ حضرت جابرؓ عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ جواب دے چکا ہے سفر بہت طویل ہے یہی سوچ سوچ کر پریشان ہورہا ہوں کہ اب مدینہ کیسے پہنچوں گا۔ نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ سے نیچے اترے اور اس کمزور اور ناتواں اونٹ کو اپنے پائوں مبارک سے ٹھوکر ماری بس پھر کیا تھا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ کو ٹھوکر مارنا تھا کہ کمزور اور نحیف اونٹ اچھل کر کھڑا ہوگیا اور پھر اتنا تیز چلنے لگا کہ باقی سب اونٹوں کو پیچھے چھوڑدیا۔ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابرؓ سے پوچھا کہ بتائو جابرؓ تمہارے اونٹ کا کیا بنا۔ حضرت جابرؓ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے سفر میں میرا اونٹ تو سب اونٹوں سے آگے ہی رہا پھر پوچھنے لگے کہ جابرؓ تم نے یہ اونٹ کتنے کا لیا تھا حضرت جابرؓ نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ دینار کا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابرؓ اتنی ہی قیمت میں تم یہ اونٹ مجھے دے دو تمہیں البتہ مدینہ تک اس اونٹ پر سفر کرنے کی اجازت ہے۔ حضرت جابرؓ نے کہا بہت اچھا، سفر مکمل ہوا اور جب حضرت جابرؓ مدینہ پہنچے تو انہوں نے چونکہ یہ اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا تھا اس لئے اس اونٹ کو نکیل ڈالی اور اسے لےکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگئے لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو تیرہ دینار بھی دے دیئے اور ساتھ ہی انکو انکا اونٹ بھی دے دیا۔ امت کے غمگسار نے اپنے امتی کے سارے دکھ درد ختم کردیئے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کیلئے ساری زندگی اسی طرح رحمت اور شفقت کا باعث بنتے رہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ سفر کررہے تھے جب حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم کا قافلہ بنونجار کے باغ کےپاس پہنچا حضرت جابرؓ فرمانے لگے ہمیں بتایا گیا ہے کہ بنو نجار کے باغ میں ایک اونٹ ہے جو باغ میں داخل ہونے والے ہر انسان پر حملہ کردیتا ہے اس سے لوگ بہت خوفزدہ ہیں اور کوئی اس باغ کی جانب جانے کی ہمت نہیں کرتا جب اس خوفناک حملہ کرنے والے اونٹ کی خبر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں تشریف لائے اور دیکھا کہ وہ خطرناک اونٹ وہاں باغ میں موجود تھا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطرناک اونٹ کی طرف نگاہ مبارک اٹھائی اور اس خطرناک اونٹ کو اشارہ کیا کہ میرے پاس آئو، اونٹ اشارہ پاتے ہی سمجھ گیا کہ مجھے جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بلارہے ہیں بس پھر کیا تھا، دوسروں پر حملے کرنے والا سرکش اونٹ نہایت ادب و احترام اپنی گردن جھکائے ہوئے سرکاردوعالم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگیا اور بڑے ادب و احترام سے زمین پر بیٹھ گیا۔ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسکی لگام لائو اور پھر لگام اسکے منہ میں ڈال کر اس اونٹ کو اسکے مالک کے حوالے کردیا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ہی نگاہ کرم سے سرکش اونٹ بالکل بدل چکا تھا وہ ایک سراپا مطیع و فرمانبردار اونٹ بن چکا تھا اور باغ کے آس پاس رہنے والے تمام لوگ اب امن و امان کی زندگی گزار رہے تھے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو اس کے مالک کے حوالے کرنے کے بعد فرمایا کہ سوائے سرکش جنوں اور انسانوں کے سب جانتے ہیں کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔حضرت جابرؓ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ میرے والد تو شہید ہوگئے ہیں اور وہ اپنے ترکے میں صرف دو باغ چھوڑ گئے ہیں اور جو قرض انہوں نے یہودی کو دینا ہے وہ اسقدر زیادہ ہے کہ اگر دونوں باغوں کی ساری کھجوریں بھی یہودی کو دے دوں تو اسکا قرض نہیں اترے گا۔ وہ یہودی میری اس بات کو بھی نہیں مان رہا کہ اسے آدھا قرض اب دے دیا جائے اور آدھا اگلے سال۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جابرؓ سے فرمانے لگے کہ جب کھجوریں کٹنے کا وقت آئے تو مجھے بلالینا۔ حضرت جابرؓ نے ایسا ہی کیا جب کھجوریں کٹنے کا وقت آیا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بلالیا۔ حضور تشریف لے آئے ان کے ساتھ حضرعمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ بھی تھے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پہلے چھوٹے باغ میں تشریف لائے اور حکم دیا کہ تمام قرض خواہوں کو بلالو اور کھجوریں ناپ ناپ کر دینی شروع کردو اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں مصروف ہوگئے۔ رحمت دوعالم دعا مانگتے گئے، کھجوریں تقسیم ہوتی رہیں یہاں تک کہ تمام قرض خواہ اپنی اپنی کھجوریں لے گئے اور حضرت جابرؓ کا سارے کا سارا قرض ادا ہوگیا۔ حضرت جابرؓ کا یہ تو چھوٹا باغ تھا ابھی تو حضرت جابرؓ کا بڑا باغ باقی تھا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے چھوٹے باغ ہی سے یہودی کا قرض بھی اترگیا اور بھی جس جس نے حضرت جابرؓ سے قرض لینا تھاسب لے گئے۔ حضرت جابرؓ تمام قرض سے فارغ بھی ہوگئے اور بڑا باغ سارے کا سارا حضرت جابرؓ کے پاس بچ گیا۔ رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظرمبارک جس جس جانب اٹھتی گئی امت کے دکھ درد دور ہوتے گئے ان کا یہ جہاں بھی سنور گیا اور اگلا جہاں بھی۔
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
بزرگوں سے سنا ہے کہ اگر آپ حشر کے روز حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت چاہتے ہیں تو ان پر درود شریف کثرت سے پڑھتے رہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ ہر نماز عشاء کے بعد 1100بار درودشریف پڑھ لیا کریں، انشاء اللہ آپکے دونوں جہاں سنور جائیں گے۔