• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

6 حملے ناکام ایک کامیاب...قلم کمان …حامد میر

کچھ مناظر انسان کی یادداشت میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی ایک ایسا منظر ہے جو مجھے کبھی نہیں بھولتا۔ یہ 1990ء کی بات ہے۔ ایک دوپہر میں روزنامہ جنگ لاہور کے رپورٹنگ روم میں کام کررہا تھا کہ اچانک چیف رپورٹر انجم رشید صاحب نیوز روم کی طرف سے بھاگتے ہوئے آئے اور مجھے کہا کہ تم بھاٹی گیٹ چلے جاؤ وہاں تھوڑی دیر پہلے بم دھماکہ ہو گیا ہے۔ بم دھماکے کی رپورٹنگ کرائم رپورٹر کاکام تھا لیکن اُس دن ہمارے کرائم رپورٹر جمیل چشتی کی ہفتہ وار چھٹی تھی اور اُن کا متبادل رپورٹر کسی اور اسائمنٹ پر تھا۔ میں انجم رشید کا آل راؤنڈر رپورٹر تھا لہٰذا انہوں نے مجھے بم دھماکے کی رپورٹنگ کا حکم دے دیا۔ میں فوٹو گرافر کے ساتھ ڈیوس روڈ سے بھاٹی گیٹ کی طرف روانہ ہوا تو راستے میں ایک اور فوٹو گرافر نے بتایا کہ دھماکہ بھاٹی گیٹ پر نہیں بلکہ ریلوے اسٹیشن کی طرف ہوا ہے۔ دھماکے کی آواز اتنی زیادہ تھی کہ آدھے شہر نے سمجھا کہ دھماکہ آس پاس ہوا ہے۔ کچھ ہی دیر میں ہم دھماکے والی جگہ پر پہنچ گئے۔ ہر طرف گوشت کے لوتھڑے بکھرے ہوئے تھے۔ میری نظریں بجلی کی تاروں میں لٹکے ہوئے ایک انسانی سر پر ٹک گئیں۔ یہ سر کسی عورت کا تھا کیوں کہ سر پر لمبے لمبے بال نظر آرہے تھے۔ چند ہی لمحوں میں میرا دل گھبرانے لگا‘ متلی ہوئی اور میں نے الٹیاں شروع کردیں۔ ساتھی فوٹو گرافر نے مجھے کہا کہ اپنے آپ کو سنبھالو‘ تم یہاں رپورٹنگ کرنے آئے ہو اُلٹیاں کرنے نہیں آئے۔ میں نے آس پاس کھڑے لوگوں سے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں اور دوبارہ بجلی کے تاروں میں لٹکے انسانی سر کو دیکھنے لگا۔ ایک چھابڑی والے نے بتایا کہ یہ عورت کوئین میری اسکول سے اپنی بیٹی کو چھٹی کے بعد گھر لے جارہی تھی۔ دھماکے سے تھوڑی دیر پہلے میں نے اس عورت کو دیکھا کہ ایک ہاتھ میں اُس نے بچی کا اسکول بیگ اُٹھا رکھا تھا دوسرے ہاتھ میں بچی کی انگلی تھی۔ میں بچی کو تلاش کرنے لگا تو بتایا گیا کہ زخمی ہے اور میو اسپتال بھیج دی گئی ہے۔ اس دھماکے میں سات افراد مارے گئے تھے۔ اسپتال پہنچے تو وہاں بچی جاں بحق ہوچکی تھی اور مردہ خانے میں بچی کی لاش کے ساتھ اُس کی ماں کا دھڑ پڑا تھا۔ اس ایک دن کی کرائم رپورٹنگ کے باعث میں کئی دن تک کھانا نہ کھاسکا۔ اُس دن کے بعد سے میں نے اپنے ساتھی کرائم رپورٹر جمیل چشتی سے بار بار پوچھا کہ یہ بم دھماکے کون کرتا ہے؟ ہمیں دھماکے کرنے والوں کا پتہ کیوں نہیں چلتا؟ میں نے کئی پولیس افسروں سے کہا کہ میری کسی دہشت گرد سے ملاقات کرائیں میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ بم دھماکے کرنے والے کیسے ہوتے ہیں؟۔
1993ء میں بھارت کے شہر ممبئی میں بم دھماکے ہوئے جن میں دو سو سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ ان دھماکوں کے چند دن بعد ایک بیوروکریٹ نے مجھے وفاقی حکومت کی طرف سے پنجاب حکومت کو لکھی گئی ایک چٹھی دکھائی جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت نے لاہور میں بم دھماکوں کے لئے آدمی بھیج دیئے ہیں۔ میں نے اس چٹھی کی نقل حاصل کی اور لاہور میں بم دھماکوں کی سازش کے متعلق خبر دے دی۔ خبر نیوز ڈیسک پر پہنچی تو نیوز ایڈیٹر جواد نظیر صاحب نے علیحدگی میں بہت سے سوالات کئے۔ آخر کار میں نے اُنہیں وہ چٹھی دکھا دی جو خبر کی بنیاد تھی۔ اگلے دن جنگ اخبار میں یہ لیڈ اسٹوری تھی۔ صبح رپورٹرز کی میٹنگ میں انجم رشید صاحب نے سر پکڑ رکھا تھا۔ وہ پرویز بشیر صاحب سے کہہ رہے تھے کہ حامد میر نے آج اپنے لئے بڑی مصیبت کھڑی کرلی ہے۔ میٹنگ جاری تھی کہ لاہور میں بم دھماکے شروع ہوگئے۔ ریلوے اسٹیشن اور رینجرز ہیڈ کوارٹر کے پاس آگے پیچھے دھماکے ہوئے اور ایک دھماکہ ہائی کورٹ کے پاس ہوا۔ اب مجھے یقین ہوچکا تھا کہ بھارت ہمارے ملک میں اور ہمارے ملک کے کچھ لوگ بھارت میں دھماکے کررہے ہیں لیکن دھماکے کرنے والوں سے ملاقات نہیں ہورہی۔
1996ء میں لاہور پولیس نے شوکت خانم کینسر اسپتال اور لاہور ایئرپورٹ پر دھماکے کرنے والے ایک نوجوان اسحاق کو گرفتار کرلیا۔ وہ لاہور کے ایک سرحدی گاؤں کا رہنے والا تھا۔ ذات کا میراثی تھا۔ گاؤں کے چوہدری نے اُس کے باپ کو سرعام تھپڑ مارا۔ چوہدری سے بدلہ لینے کے لئے اسحاق نے اسمگلروں کا ایک گروہ جائن کیا۔ ایک دن الائچی اسمگل کرتے ہوئے بھارتی فوج نے اُُسے گرفتار کرلیا اور یوں اسحاق اسمگلر سے دہشت گرد بن گیا۔ لاہور پولیس کے ایک افسر شفقات احمد نے اسحاق کو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے حوالات میں اس دہشت گرد سے میری ملاقات کرادی۔ میں نے اُس کا انٹرویو کرلیاتو یقین نہ آیا کہ ایک چوہدری کے ظلم کے ردعمل میں کوئی نوجوان دہشت گرد بن سکتا ہے۔ میں مزید تحقیق کے لئے اُس کے گاؤں گیا تو پتہ چلا کہ چوہدری نے اسحاق کے باپ کے گلے میں رسی ڈال کر گاؤں میں گھمایا تھا اور اُس دن اسحاق نے قسم کھائی تھی کہ وہ چوہدری کے گلے میں رسی ڈالے گا۔ مجھے افسوس اس بات کا تھا کہ اسحاق مسلمان بھی تھا اور پاکستانی بھی تھا لیکن دشمن کے ہاتھوں میں جانے کے بعد چوہدری کی بجائے عام پاکستانیوں کو ماررہا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہم نے اُسامہ بن لادن کا نام نہیں سنا تھا اور ہمیں نہیں معلوم تھا کہ خود کش حملہ کیا ہوتا ہے۔ پھر گیارہ ستمبر 2001ء آیا۔ ہم نے پاکستان بچانے کے لئے افغانستان پر بمباری کے لئے امریکا کوا پنے فوجی اڈے دیدیئے۔ لیکن افسوس کہ ہم پاکستان کو محفوظ نہ بناسکے۔ امریکا نے پاکستان کی مدد سے افغانستان پر قبضہ کیا اور جب سے امریکا نے وہاں قدم جمائے ہیں پاکستان میں ہر طرف بم دھماکے ہورہے ہیں۔ ہر بم دھماکے کے بعد مجھے بہت سال پہلے بجلی کے تاروں میں لٹکا ہوا ایک انسانی سر اور اسحاق میراثی یاد آجاتا ہے۔
کراچی میں مہران نیول بیس پر حملے کے بعد قندھار سے ایک افغان صحافی دوست نے فون کیا۔ کہنے لگا کہ 15اگست 2009ء کو طالبان نے کابل میں نیٹو ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا تو چند ہفتوں بعد راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ ہوگیا۔ 19/مئی 2010ء کو طالبان نے بگرام ایئر بیس پر حملہ کیا اور 4 گھنٹے کی لڑائی کے بعد حملہ ناکام ہوگیا۔ 22/مئی 2010ء کو قندھار ایئربیس پر حملہ ناکام ہوا۔ 30/جون 2010ء کو جلال آباد ایئرپورٹ پر حملہ ناکام ہوا۔ 3/اگست 2010ء کو ایک دفعہ پھر قندھار ایئربیس پر حملہ ناکام ہوا 13/نومبر2010ء کو جلال آباد ایئر بیس پر خود کش حملے کے بعد طالبان نے 2/گھنٹے لڑائی کی اور 30/اکتوبر 2010ء کو پکتیکا میں نیٹو کے فوجی اڈے پر حملے میں 80لوگ مارے گئے۔ اس نے کہا کہ ایک سال میں افغانستان کے مختلف ہوائی اڈوں پر چھ حملے ہوئے جو ناکام رہے لیکن مہران بیس پر ایک حملہ ہوا جو کامیاب رہا کیونکہ آپ کے دو جاسوس طیارے تباہ ہوگئے۔ میں نے افغان صحافی سے کہا کہ کھل کر بات کرو۔ اُس نے کہا کہ افغان حکومت کے اہلکار آف دی ریکارڈ بہت خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے چھ ہوائی اڈوں پر حملے کا بدلہ لے لیا ہم کس قسم کے اتحادی ہیں ہم تو ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ یہ بات سن کر مجھے اسحاق میراثی یاد آگیا جو پاکستانی اور مسلمان تھا، گھر سے نکلا تھا چوہدری سے بدلہ لینے کیلئے اور بے گناہوں کو مار کر دشمن کو خوش کرتا رہا۔
تازہ ترین