غیروابستہ ممالک کی تنظیم ”نام“ (NAM) کے 16/ویں دو روزہ سربراہی اجلاس نے ایران کے دارالحکومت تہران کو اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔ 100 سے زیادہ ملکوں کے اس اجتماع میں صدر آصف علی زرداری سمیت 30 سے زائد ملکوں کے سربراہان اور اعلیٰ حکام شریک ہیں۔ کانفرنس کا رسمی افتتاح جمعرات 30/اگست کو ہوا ہے لیکن اس سے قبل وزارتی سطح کے دو روزہ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جن کے پہلو بہ پہلو وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایران، کویت، سوڈان، کیوبا اور اریٹریا کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کی ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ علی اکبر صالحی سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ قیادت کی سطح پر تسلسل سے ملاقاتوں کے ذریعے درست سمت میں آگے بڑھنے والے پاک ایران تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ دوسرے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی مفید اور نتیجہ خیز رہی ہیں۔ سربراہی کانفرنس کے اس موقع پر صدر آصف علی زرداری کی بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ، ایرانی صدر احمدی نژاد ، افغان صدر حامد کرزئی سمیت مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں خاصی اہمیت کی حامل ہیں۔
غیروابستہ تحریک کی تنظیم 1961ء میں اس وقت قائم ہوئی تھی جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ اس کے قیام میں وہ ممالک پیش پیش تھے جو دونوں کے متحارب بلاکوں سے خود کو آزاد قرار دیتے تھے۔ 120 ارکان پر مشتمل یہ تنظیم اقوام متحدہ کے بعد سب سے بڑی عالمی تنظیم ہے جس میں ترقی پذیر ممالک کی تعداد زیادہ ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے اور امریکہ کے واحد سپر پاور کی حیثیت اختیار کرنے کے بعد اس کا جھکاؤ امریکہ مخالف رجحانات کی طرف نظر آتا ہے جس کا اظہار تہران میں روس اور چین کے وفود کی موجودگی سے ہوتا ہے ۔ جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے تو تہران میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کی بطور مبصر موجودگی پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کی دستاویزات میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اس سے ایران ، کیوبا اور فلسطین کے بارے میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کا تاثر ابھرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ”نام“ تنظیم کے ملکوں کی غالب تعداد کے باعث بعض حلقے اسے سلامتی کونسل کے اختیارات کے بے محابا استعمال کی روک تھام کے ذریعے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ تہران میں اس تنظیم کی سربراہ کانفرنس کے انعقاد کو بعض مبصرین ایران کے عالمی دھارے میں واپس آنے کی ایک بڑی کوشش سمجھتے ہیں جبکہ پچھلے تین عشروں سے ایران کو امریکہ کی طرف سے تنہا کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ آئندہ تین برسوں تک ایران غیر وابستہ تحریک کا چیئرمین ہو گا ۔
سوویت یونین کے زوال کے بعد چونکہ دنیا اس توازن سے محروم ہو چکی ہے جو دو عالمی طاقتوں کی موجودگی سے قائم تھا اس لئے ایک ہی طاقت کو دوسرے ممالک کے داخلی امور سمیت بہت سے معاملات میں من مانی کرنے کے مواقع حاصل ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض خطوں میں اصلاحات کے نام پر تبدیلیاں لانے اور دنیا کے نقشے کو تبدیل کرنے کے واضح عزائم تک کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ ان حالات میں، کہ دنیا کے بیشتر ممالک عدم تحفظ کی کیفیت سے دوچار ہیں، ”نام“ تنظیم کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ پاکستان امریکی یا مغربی بلاک سے وابستگی کے باعث شروع میں غیر وابستہ تنظیم سے لاتعلق تھا اور خاصے عرصے بعد اس میں شامل ہوا ہے۔ وطن عزیز جس خطے میں واقع ہے اس کی موجودہ کیفیت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، جسے تیسری عالمی جنگ کی حیثیت حاصل ہے، اس کے پڑوس میں لڑی جا رہی ہے اور پاکستان بھی اس سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ اس لئے اسلام آباد کو غیر وابستہ ملکوں اور غیر وابستہ ممالک کو اسلام آباد کے اخلاقی تعاون کی شدید ضرورت ہے۔ یک قطبی نظام کے تحت واشنگٹن کے بعض اقدامات کے تناظر میں غیر جانبدار ملکوں کی اخلاقی حمایت پاکستان کے لئے بعض چیلنجوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان پر ایک طرف واشنگٹن اور نیٹو کا دباؤ ہے۔ دوسری طرف شدت پسندوں کی سرگرمیاں ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنی بقا و سلامتی کے لئے جہاں سے بھی مدد ملنے کا امکان نظر آئے، اس طرف دیکھے۔ یہ بہرحال موجودہ عالمی صورت حال کا ایک مفید پہلو ہے کہ پاکستان نے روس کے ساتھ رابطے بڑھائے ہیں جس سے سرد جنگ کے زمانے میں اس کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔ اسی طرح حالیہ دنوں میں بھارت سے تجارت بڑھانے اور باہمی رابطے بہتر بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ شنگھائی تعاون کونسل، آسیان اور سارک تنظیموں کے توسط سے مختلف ملکوں سے کئی سطحوں پر تعلقات مضبوط بنائے جا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ”نام“ تنظیم کے وزارتی اجلاس میں عالمی برادری کو درپیش مسائل اور خطے کی صورت حال کے حوالے سے جو خطاب کیا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے غیر وابستہ ممالک کی تنظیم میں موثر کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو یک طاقتی نظام کی خرابیوں کی شکار دنیا میں توازن لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ جیسا کہ وزیر خارجہ نے کہا،غیر وابستہ تحریک کے ممبر ملکوں کے سامنے بہت سے مسائل ہیں جنہیں مل جل کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں انرجی کی بڑھتی ہوئی لاگت، قدرتی وسائل کا بیرونی ملکوں کی طرف سے استحصال، آبی وسائل کی تیزی سے سکڑتی ہوئی صورت حال، ترقی پذیر ملکوں سے مزدوروں اور فنی ماہرین کی ترقی یافتہ ملکوں کی طرف منتقلی، ماحولیاتی آلودگی کے خطرات اور ترقی یافتہ ملکوں کی طرف سے ٹیکنالوجی کو خود اپنے تک محدود رکھنے کے امور شامل ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خطے اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات روس اور چین سے اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ اپنے عالمی کردار کو زیادہ فعال بنائیں۔ غیر وابستہ ممالک کی تنظیم، جو عرصے تک غیر فعال رہی ہے، اگر ایران کی قیادت میں فعال ہو جائے تو اس سے عالمی امن کے مقاصد کو تقویت ملے گی۔ اس وقت بیشتر ملکوں کو جنگ، بیرونی مداخلت اور اقتصادی بدحالی کی جس صورت حال کا سامنا ہے اس میں پر امن بقائے باہمی اور خودمختار ملکوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کو فروغ دینے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
تہران اگر غیر جانبدار تنظیم کو فعال بنا کر ان اصولوں کی سر بلندی کے لئے کوئی نمایاں کردار ادا کرنے میں کامیاب رہا تو ایک جانب 2014 میں افغانستان سے نیٹو افواج کی واپسی کے بعد امن قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔ دوسری طرف علامہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر سامنے آنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔
تہراں ہو اگر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرئہ ارض کی تقدیر بدل جائے
روز روز کے ٹریفک جام اور حکمرانوں کی بے حسی
ہر دوسرے تیسرے روز کسی بھی چھوٹے موٹے واقعے کے بعد کراچی کی سڑکوں کو جس طرح جگہ جگہ سے بند کرکے پورے شہر کا ٹریفک جام کردیا جاتا ہے اور لوگوں کو پندرہ بیس منٹ کا سفر کئی کئی گھنٹوں میں کرنا پڑتا ہے اس کا ایک خوفناک بدھ کی سام کراچی کی بڑی بڑی سڑکوں پر دیکھنے میں آیا۔ کسی علاقے میں جرم کی کوئی واردات ہوگئی تو اسے فوری طور پر اور موثر طریقے سے کنٹرول کرنا چاہئے تھا۔ بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف شریف شہریوں کا اشتعال اور احتجاج بالکل بجا ہے اور اگر حکومت اور اس کی ایجنسیاں بروقت موثر کارروائی کریں تو عام شہریوں کو سڑکیں بلاک کرکے احتجاج کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ سندھ کی حکومت جس انداز میں چلائی جارہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمرانوں کو عام شہریوں کی تکلیف یا پریشانی سے کوئی سروکار ہی نہیں۔ لوگ پانچ پانچ چھ چھ گھنٹے ٹریفک میں پھنسے رہیں، بچے بلبلاتے رہیں، مریض پریشان ہوں تو حکمرانوں کو اس کی ذرا بھی پروا نہیں۔ وہ ٹریفک پولیس کو سڑکیں بند کرنے کا آرڈر دے کر اپنے عشرت کدوں میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بے بس عورتیں بچے اور بوڑھے سڑکوں پر خوار ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں۔ حکمرانوں کی جانب سے اس قسم کی بے حسی اور بے رحمی کا عملی مظاہرہ کیوں کہ ہر دوسرے تیسرے روز بھگتنا پڑتا ہے اس لیے اب تو کراچی کے ہر شہری کی زبان پر بار بار یہ سوال آنے لگا ہے کہ کیا کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا لوگوں کے ساتھ محض مذاق کیا جارہا ہے۔