• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرا مردہ ضمیر اور میری زندہ قیادت...چوراہا…حسن نثار

”میرے مطابق“ کی میزبان ماریہ میمن نے غیر متوقع طور پر اک ا یسا سوال پوچھ لیا جو زہر بجھے خنجر کی طرح میری روح میں پیوست ہوگیا۔ چند لمحوں کے لئے میں سن سا ہوا لیکن جلد ہی یہ زہریلا سوال مجھے مکمل تاریکی سے مکمل روشنی میں لے آیا۔ واقعی … ”آتے ہیں غیب سے ہی مضامین خیال میں“۔ چینیوں کے ہزاروں برس پرانی دانش کا نچوڑ یہ ہے کہ ”عمدہ ترین خیال د ماغ نہیں دل پر اترتے ہیں“۔ ماریہ کے بے ساختہ سوال پر میرا بے ساختہ جواب خود میرے لئے بھی اجنبی اور اچھوتا تھا لیکن اندھیرے سے اجالے میں آتے ہی میں کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا… میں بھی مدتوں سے اسی بیہودہ، بوگس، بے بنیاد، بے معنی، بدصورت، مکروہ، غیر منطقی، غیر تاریخی، غیر حقیقی اور لایعنی قسم کے تھیس میں پھنسا ہوا تھا کہ……
”عالم اسلام کو رسوائی و پسپائی کا سامنا صرف اس لئے ہے کہ وہ قیادت کے قحط میں مبتلا ہے“۔
ماریہ کا سوال یہی لیکن الفاظ مختلف تھے جب اچانک مجھے اپنی تاریخ کی تلخ ترین حقیقت دکھائی دی جیسے کسی اندھے پر اچانک کوئی خاص منظر عیاں و عریاں کر دیا جائے۔
مسلمان اور قیادت کا قحط؟؟؟ ناممکن ہے۔
ایسی سوچ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے کہ مسلمانوں کو تو صدیوں سے محمد رسول اللہ کی زندہ قیادت نصیب ہے۔ ایسی مکمل، بھرپور اور جامع قیادت جو اس کرہٴ ارض پر بنی نوع انسان کی تاریخ میں نہ کبھی کسی قبیلے ، قوم، گروہ کو پہلے نصیب ہوئی نہ آئندہ ہوگی۔ انسانی تاریخ میں انتہائی عالیشان شخصیات پوری آن بان سے موجود اور محفوظ ہیں لیکن یہ سب کے سب یکجہتی یعنی ”سنگل ڈائمینشنل“ لوگ تھے۔ نیوٹن اور آئن سٹائن سائنس کے باپ لیکن باقی سارے خانے خالی، ایڈیسن ایجادات کی انتہا لیکن باقی خلاء ہی خلاء، ہومر سے لے کر شیکسپیئر تک ادب کے کوہ گراں لیکن زندگی کے باقی ایریاز میں ذرے بھی نہیں، بیتھوون سے لے کر نوشاد اعظم تک موسیقی کے امام باقی صفر، مائیکل اینجلو سے صادقین تک اپنے فن میں طاق باقی ہر پہلو ادھورا یا شرمناک، ہنی بال اور اٹیلا سے لے کر سکندراعظم، تیمور اور نپولین تک سپہ سالار غضب کے لیکن ”انسان“ عجب سے، ایلوس پریسلے سے لے کر محمد رفیع، مہدی حسن، مائیکل جیکسن، مادام گوگوش تک گائیک درجہ اول لیکن باقی؟ پیٹر دی گریٹ سے لے کر بسمارک تک ایڈمنسٹریٹر اعلیٰ ترین، باقی فارغ… مستقل مزاجی میں رابرٹ بروس لیکن باقی پہلو؟ صبر میں حضرت ایوب، حسن میں حضرت یوسف ، جلال میں حضرت موسیٰ  …… بغاوت میں ویواز پاٹا اور سپارٹکس… مختصراً یہ کہ ہر شعبہ زندگی میں بے شمار پرشکوہ شخصیات بنی نوع انسان کا ورثہ ہیں لیکن جو جس کی وجہ شہرت ہے اس کے علاوہ قابل ذکر کچھ نہیں کہ سب کے سب بنیادی طور پر ”سنگل ڈائمنشینل“ ہستیاں ہیں لیکن مسلمانوں کے قائد مسلمانوں کے استاد، مسلمانوں کے راہبر، مسلمانوں کے باپ کی تو لوگو! بات ہی کچھ اور ہے کہ… بطور بچہ بہترین، بطور بیٹا بہترین، بطور شہری بہترین، بطور دوست بہترین، بطور پڑوسی، بطور مسافر، بطور مہمان، میزبان اعلیٰ ترین، بطور مجروح طائف میں عالیشان بطور فاتح مکہ میں مہربان، بطور کمانڈر فاتح ہی فاتح، بطور سٹیٹسمین میثاق مدینہ کا خالق، بطور مہربان اور نشان رحمت ہند کو معافی، بطور استاد لامحدود و بے کراں، بطور جنگجو بے مثال، بطور مصنف لازوال، بطور لیڈر بے مثال، بطور قانون دان حرف آخر،فصاحت و بلاغت کی معراج، کمزوروں کی لاج، واحدانیت کا تاج، انسان کی مکمل آزادی کی علامت۔ جسے شہہ شش جہات دیکھوں اسے غریبوں کے ساتھ دیکھوں ہم صدیوں سے اپنے ساتھ جھوٹ بول رہے ہیں، ہم صدیوں سے خود کو مسلسل دھوکہ دے رہے ہیں کہ ہم مسلمان قیادت کے قحط کا شکار ہیں کہ ہم جیسی قیادت تو کسی کے پاس موجود ہی نہیں۔ لیڈر ہوتا کیا ہے؟ لیڈر دراصل ٹیچر ہوتا ہے اور ہمارا لیڈر ہی تو تاریخ انسانیت کا وہ اکلوتا ٹیچر ہے جس نے پوری انسانیت کو اللہ اور بندے کے ساتھ ساتھ انسان کے انسان کے ساتھ رشتے کے رموز سکھائے۔ ہمیں اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، جینا مرناسکھایا… کھانا کیسے ہے؟ پہننا کیسے ہے؟ فاقہ کیسے کرنا ہے؟ باپ ہو تو کیسا؟ بیٹا ہو تو کیسا؟ بھائی ہو تو کیسا؟ پڑوسی ہو تو کیسا؟ قیدی ہو تو کیسا؟ جیلر ہو تو کیسا؟ مفلس ہو تو کیسا؟ دولت مند ہو تو کیسا؟ تاجر ہو تو کیسا؟ ا ٓجر ہو تو کیسا؟ چھینک آئے تو کیا کرنا ہے؟ بیمار ہو تو کیا کرنا ہے؟علی ہذالقیاس:
رخ مصطفےٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ نگاہ آئینہ ساز میں نہ دکان آئینہ ساز میں
دنیا کا کوئی شخص انسانی زندگی کا کوئی ایک پہلو ایسا بتائے جس کے لئے رسول اللہ  کی واضح ہدایات موجود نہ ہوں۔ پھر بھی اگر کوئی کہے کہ ہم مسلمانوں کے پاس قیادت کی کمی ہے تو ہم سے بڑا دروغ گو یا منافق کوئی نہیں۔لیڈر کیا ہوتا ہے؟ بکھرے ہووؤں متحارب و متصادم لوگوں کو متحد کر دیتا ہے۔ لیڈر منظم کرتا اور ڈسپلن سکھاتا ہے۔ Dos اور Dontsکی تمیز عطا کرتا ہے۔ لیڈر آدرش، ٹارگٹ اور ڈائریکشن دیتا ہے، لیڈر خواب دیتا ہے اور پھر خواب کی تعبیر پانے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ حکمت بھی لیڈر موٹی ویٹ کرتا ہے، ایجوکیٹ کرتا ہے، موبلائز کرتا ہے۔ لیڈر موم کو لو ہا اور لوہے کو سونا کر دیتا ہے، لیڈر ریت کے ذروں کو موتیوں کی مالا بنا دیتا ہے، لیڈر آوارہ، بدمزاج، اکھڑ، بے سمت بدوؤں کے سامنے قیصر و کسریٰ کو جھکا دیتا ہے۔
اپنے اپنے سینوں پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ کیا تمہارے قائد نے یہ سب کچھ نہیں کیا؟ بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ نہیں کیا؟ اور اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ بتاؤ کہ وہ قرآن کی شکل میں زندہ ہمہ وقت ہمارے درمیان موجود نہیں؟ تو پھر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس قیادت کا قحط ہے۔
رب العزت کی قسم، پہلی مسجد کی قسم، پہلے شہید کی قسم، پہلی ہجرت کی قسم، فتح مکہ کے بعد مکہ کی مٹی پر رکھے گئے پہلے مسلمان قدم کی قسم کہ ہم جیسی قیادت نہ کسی کو کبھی نصیب ہوئی… نہ نصیب ہے… نہ کبھی ہوگی تو پھر اس کا شکوہ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ سمجھو۔
رو زمرہ کے معاملات چلانے کے لئے معمولی سے منیجرز یعنی وزرائے اعظم اور صدور وغیرہ کی بات اور کہ مخصوص مدت کے لئے عوام کی خدمت کریں اور گم ہو جائیں کہ یہ تو قائد نہیں دراصل ”کمی“ ہوتے ہیں۔ رہا قائد اور قیادت… تو ہم جیسا قائد اور ہم جیسی قیادت، ایسی مکمل، بھرپور، کثیر الجہت اور جامع قیادت تو تاریخ انسانی کے کسی مرحلے پر کسی کو کبھی نصیب ہی نہیں ہوئی تو آئندہ قیادت کے فقدان اور قحط کا ماتم کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا، اپنے گریبان میں گہرا جھانک لینا کہ کہیں ہم خود ہی تو مجرم نہیں؟

















تازہ ترین