• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جب ایوب خان نے روٹی پلانٹ لگانے کے لئے کہا تو ہم جیسی خواتین بہت خوش ہوئیں کہ ایک بڑا بوجھ سر سے اتر گیا۔ اب روٹیاں پیکٹ میں لائیں گے اور سب کو کھلائیں گے۔ کچھ دن ہمارا یہ دلاسہ چلا پھر آوازیں اٹھیں کہ اس روٹی کا تو نوالہ نہیں بنتا، بھلا قورمہ اور آلو گوشت کیسے کھائے جائیں۔ چلو اس کو بھی برداشت کرلیا گیا۔ اب ہمارے مردوں کی جانب سے آوازیں آئیں کہ جب تک آٹا گوندھتے ہوئے عورتوں کی چوڑیوں کی آواز نہ آئے، بھوک نہیں چمکتی اور جب تک پھولی ہوئی روٹی ہاتھ میں نہ آئے، لقمہ بنانے کا لطف نہیں آتا۔ یہ کہانی اتنی لمبی چلی کہ آخر کو روٹیاں بکنی کم ہوتی گئیں اور روٹی پلانٹ بند کردیئے گئے۔
ساری دنیا میں سوائے برصغیر کے لوگ تنوروں سے روٹی خریدتے ہیں۔ یورپ میں فرنچ بریڈ کی اتنی عادت ہے کہ جب بھی میں نے ہاتھ سے گرم گرم روٹی بنا کر پیش کی مقامی لوگوں نے اسے ناپسند کیا اور پراٹھوں کو تو قطعی طور پر کھانے کے ناقابل قرار دیا کہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ البتہ کبھی کبھی ٹھنڈی روٹی کو لقمہ در لقمہ کھانے کو ترجیح دی گئی۔
گرم روٹی کا تصور اور رواج صرف برصغیر میں ہے۔ ایران ہو کہ افغانستان، عراق ہو کہ اردن، سب جگہ روٹیاں تنور کی کھائی جاتی ہیں کہیں گرم روٹی کا تصور نہیں ہے۔ مصر میں تو سر پہ چھابہ رکھے روٹیاں لئے لوگ سائیکل پہ جا رہے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے آج سے بیس برس پہلے لاہور میں سائیکل پہ لوگ آتے تھے اور آوازیں لگاتے تھے ”گرم کلچے“ بالکل اسی طرح کہ سردیوں میں شام بڑھتے ہی ٹوکرا لئے لوگ آوازیں لگانا شروع کرتے تھے”گرم انڈے“ اور اب تو بے چارہ مرغ ٹنگا ہوتا ہے۔ اس کے اوپر پانی ڈال ڈال کر پتیلے میں”سوپ“ بنتا رہتا ہے اور لوگ پیتے رہتے ہیں۔ معصوم لوگوں کو اس کمزور سے چکن پر ترس بھی نہیں آتا۔ اسی طرح چکن کارن سوپ ہر کونے میں فروخت ہو رہا ہوتا ہے۔ سردیوں میں گرم مونگ پھلیاں بھی بہت فروخت ہوتی ہیں۔ ایک زمانے میں جب اچھے دن تھے تو ہم چلغوزے بھی کھاتے تھے مگر اب چلغوزوں کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اس لئے قیمت پوچھ کر اور شکل دیکھ کر اور کبھی کبھی ہاتھ لگا کر چھوڑ آتے ہیں۔ بالکل ایسے جیسے زیتون کو بوتلوں میں دیکھ کر خوش ہو لیتے ہیں اور تلاش کرتے پھرتے ہیں ویسا کائج چیز جیسا کہ ہندوستان میں ملتا ہے۔ ہمارے یہاں تو سینڈوچ بنانے والا پنیر ملتا ہے۔ وہ پنیر ملتا ہی نہیں جو پالک میں یا مٹر میں ملا کر پورے ہندوستان کیا جموں میں بھی پکایا جاتا ہے۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اتنا دودھ ہوتا ہے ہمارے ملک میں پنیر صرف سینڈوچ والا کیوں بنتا ہے، سالن میں پکانے والا کیوں نہیں بنایا جاتا جبکہ اس کی کافی مانگ ہے۔ اسی طرح جیسے دال یا کڑھی اور چاول تو ہم بناتے ہیں مگر تھالی جس کی مانگ بہت ہے، وہ کم کم ہی ملتی ہے۔ اسی طرح ہم دوسا تلاش کرتے ہیں اس کا بنانا بھی اتنا آسان ہے وہ بھی نہیں ملتا۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر ملک کی شناخت ہوتی ہے۔ آخر ہمارے یہاں ہریسہ بنتا ہے، ہندوستان میں تو نہیں بنتا۔اسی طرح پشاوری روٹی تو ہندوستان میں نہیں بنتی۔ جیسا کہ مچھلی بنگلہ دیش میں بنتی ہے ویسی ہندوستان، پاکستان میں نہیں بنتی ہے۔ جیسے سوجی کے گول گپے بنگالی مارکیٹ میں ملتے ہیں ویسے کہیں بھی نہیں ملتے۔ ہندوستان کے ہوٹل کے شیف ، لکشمی چوک کے ٹکاٹک بنانے کے طریقے سیکھنے کے لئے ایک مہینے کے لئے یہاں سے شیف لیکر گئے تھے اور پھر سیکھا تھا۔
یہاں سے بھی شیف جائیں اور جاکر ملائی کوفتے، سبزی کے کوفتے اور پنیر بنانا سیکھ کر ہندوستان سے آئیں۔ اسی طرح ہندوستان کے شیف ہریسہ بنانا اور قیمے والے نان بنانا سیکھ کر آئیں اور یوں کھانے کے سلسلے میں تو ایک دوسرے سے کچھ تو میل ملاپ ہو۔ اب جبکہ تجارت کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے مابین ذرائع فروغ پا رہے ہیں۔ ہندوستان میں واہگہ تک تجارت کے لئے خاص سڑک بنائی جا رہی ہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہندوستان کی طرح ہماری طرف بھی کم از کم ایک ریسٹورنٹ تو ایسا ہو کہ جہاں ٹکاٹک بن رہا ہو، تکے بن رہے ہوں اور آنے والے لوگ کھا کر خوش ہوں۔ تنور لگا ہو، ماش کی دال بن رہی ہو کہ اتنے سارے ڈرائیور یہاں سے گزریں گے تو کم از کم ان کو پیٹ بھرنے کو کچھ تو ملے۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ مرغ چنے اور تنوری روٹی لوگوں کا دل کھینچ سکتی ہے۔
پھر گرم روٹی کی بات آگئی ہر چند 6روپے کی روٹی ہے مگر کھاتے ہوئے ہمیں ہی مزا آتا ہے۔ ہمیں گرم سالن اور گرم مصالحہ کا سالن اور بھی لذیذ لگتا ہے جبکہ یورپی ملکوں کو یہ مصالحہ زبان جلانے والے لگتے ہیں۔ آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں۔ چاہے امریکہ یا آسٹریلیا سہی۔ گورے بھی گرم روٹی اور شوربہ بڑے شوق سے ہمارے ریسٹورنٹ میں کھاتے ہیں۔ البتہ اپنے گھروں میں وہی فرنچ بریڈ ان کا کھانا ہوتی ہے۔
میں گرم روٹی کا ذائقہ لیتے ہوئے، یہ بھی سوچ رہی ہوں کہ گھر میں عورتوں کو اس گرم روٹی کے چکر سے کیسے چھڑایا جائے کہ وہ زندگی کے دوسرے دائروں میں سرگرم ہو سکیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تنوروں کی تعداد بڑھا دی جائے یا پھر عورتوں کو زیادہ نوکریاں دی جا سکیں۔ وہ اتنی مصروف ہو جائیں کہ گھر یہ روٹی پکانے کے لئے وقت ہی نہ ملے۔ آخر ہمارے دیہاتوں میں عورتیں صبح صبح روٹی بنا کر مرد کے ساتھ کھیت میں کام کرنے چلی جاتی ہیں۔ بچوں کو بھوک لگتی ہے تو چھابے سے روٹی نکال کر کبھی روکھی تو کبھی چینی کے ساتھ کھا کے خوش رہتے ہیں۔ ہمارے بچوں کو چاہے بیس روپے کا برگر ہو کہ سو روپے کا، ٹی وی دیکھ کر اس کا مزا آتا ہے۔میں اپنی بہنوں سے مخاطب ہوں۔ خود کو گرم روٹی کی زنجیروں سے آزاد کرو۔
تازہ ترین