ڈاکٹرآصف فرّخی
کہانی کھوگئی، یہ دعوت مجھے ایک خبر کے طورپر ملی۔مجھے خیال آیا کہ یہ بولنے کی نہیں، سوچنے کی دعوت ہے، اگر کہانی کو کچھ ہوگیا ہے تو یہ مضمون کا عنوان نہیں، ایک سانحہ ہے، اس پر مقالہ نہیں ، صدمے کا اظہار ہونا چاہیے۔
کہانی کے ساتھ یہ ماجرا پیش آیا ہے تو پھر ہم کو عملی طورپر کچھ نہ کچھ کرنا بھی تو لازم ہے۔ کہانی گم ہوجائے اور ہم جلسے کے حاضرین بن کر بیٹھے رہ جائیں۔ ہمیں کچھ تو کرنا ہوگا، چاہے ہماری سمجھ میں بھی نہ آرہا ہو کہ ایسے سانحے کے سامنے اب کیا کیا جائے،کس کے سامنے فریاد کی جائے، کس تھانے میں رپٹ لکھوائی جائے، اگر شکایت کریں تو کس طرح کہیں کہ واردات کیا ہوگئی، کہانی کھوگئی، لیکن کہانی کا کھوجانا ، خود ایک کہانی ہے۔اس طرح کہ یہ واقعہ پیش آیا اور اگر ایسا ہوا تو کہانی بن گئی، اگر یہ کہانی ہے تو پھر کہانی مل گئی۔ گئی کہاں تھی۔
کہاں جاسکتی تھی۔ ایسا ممکن ہی نہیں تھا۔ کہانی کا کھو جانا صرف ایک صنف ادب کے روبہ زوال کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ کہانی کی گم شدگی پوری انسانیت کا اپنے ایک بنیادی جوہر سے محروم ہوجاتا ہے۔ کہانی انسان کی بنیادی سرشت کا ایک حصہ ہے۔
میں جو یہ بات کہ رہا ہوں، میں بھی کہانی ہوں اور آپ جو یہ بات سن رہے ہیں، آپ بھی افسانہ ۔ ہماری زندگیوں کا ہر عمل کہانی کے مرحلے کی طرح آگے بڑھتا ہے۔ ہمارا کھانا پینا، سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا سب کہانیاں ہی تو ہیں۔ ہم ہیں تو کہانی اور جب نہیں رہے گے تو کہانی۔
زندگی کی تعبیر کی خاص وضع کہانی ہے، اس لیے اس میں زندگی کو جاننے، سمجھنے اور غور کرنے کے لیے بہت بڑا موقع ہے۔ ’’کہانیاں کہتے رہو کہ لوگ کچھ تو سوچ بچار کریں۔‘‘
قرآن شریف کی یہ مقدس آیت انتظار حسین نے اپنے رجحان ساز افسانوی مجموعے ’’آخری آدمی‘‘ کے سرنامے کے طورپر درج کردی اور یوں افسانے کے بنیادی منصب کی طرف اشارہ کیا، جس کو ہم بڑی حد تک بھولتے جارہے ہیں۔ کہانی کی افادیت اور اہمیت پر اس اصرار کے پس منظر کے ساتھ میں افسانے کی بات آگے بڑھانا چاہوں گا۔
اصل میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ اردو افسانے کی اپنی کہانی کو ہم نے اپنے عجز بیان اور حد سے بڑی ہوئی سادہ بیانی کی بدولت چند ایک رجحانات کے جائزے تک محدود کرکے رکھ دیا ہے۔ نقادوں کے مضامین میں یہ کہانی اس طرح سنائی جاتی ہے کہ مغرب کے زیر اثر افسانہ ایک ادبی صنف کے طورپر متعارف ہوا ہے، نشر و اشاعت کی مشینی شکلوں کی سہولت کے ساتھ اس کو فروغ حاصل ہوا۔ پڑھنے والے بہت سارے اور بہت جلدی مل گئے، اس لیے افسانہ معرض وجود میں آگیا۔
پہلے رومانی دور آیا، اسی کے بیچ میں سے واقعیت نگاری کا شگوفہ پھوٹا۔ ادب لطیف اور انشائیے کے سے انداز میں حد سے زیادہ جذباتی اور مصنوعی افسانوں کی جگہ زندگی کے کڑوے کسیلے پہلوئوں پر توجہ دی جانے لگی۔ نیاز فتح پوری اور مجنوں گورکھ پوری کی جگہ پریم چند کا افسانہ اقبال مند ٹھہرا۔
افسانے کی اس نئی خود آگہی کے زیر اثر چند ہی برسوں میں ایسے افسانہ نگار سامنے آئے، جنہوں نے زندگی کی تلخ ، ترش، شیریں حقیقتوں کو موضوع بنایا۔ زندگی کے بہت قریب رہ کر ایسے افسانے لکھے، جو زندگی کی قاشیں معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے بیانیے کو ترقی دی اور چند صفحات میں زندگی کے معنی خیز لمحے صفحات پر اتارنے کا ڈھنگ سیکھا۔
یہ گویا افسانے کا سنہرا دور تھا، جس میں اہم لکھنے والوں کی پوری کہکشاں سجی نظر آتی ہے۔ اس دور میں عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی کے نام فوراً ذہن میں جگمگااٹھتے ہیں،لیکن ان کے آس پاس اور بہت سے قابلِ ذکر نام ہیں اوپندر ناتھ اشک، غلام عباس، بلونت سنگھ ، عزیز احمد، حیات اللہ انصاری، احمد ندیم قاسمی، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، یہ نام تو فوری طورپر ذہن میں آتےہیں۔
افسانے کے عروج کا یہ بیان بھی ٹھیک ہے، لیکن اُسی دور میں دیکھا جائے تو واقعیت پسندی میں دراڑ سی پڑنے لگی تھی اور بعض افسانہ نگاروں نے زندگی کو سیدھی، سپاٹ لکیر کے بہ جائے باطن کی حقیقت کی تلاش و جستجو کاجو کشٹ اٹھایا۔ فسادات کے بارے میں لکھے جانے والے افسانے اگر واقعیت نگاری کے اس رجحان کا نقطہ منتہا تھے تو اس اسلوب کے ناکافی یا ادھورے ہونے کی طرف اشارہ کرنے لگے۔
تقسیم اور آزادی کے بعد معاشرے نے جو رخ اختیار کیا وہ شکست خواب کا احساس لے کر سامنے آیا۔ فرد کے اندر شکست وریخت کی ایک داستان رقم ہوتی چلی گئی، اس گہری، اندرونی حقیقت کی عکاسی کے لیے افسانے نے علامت اور تجرید کا سہارا لیا۔ کئی ایک اچھے افسانہ نگار سامنے آئے، لیکن افسانہ قاری سے دور ہوتا گیا اور چیستاں بنتا چلا گیا، جب یہ انداز حد سے بڑھنے لگا تو اس کے خلاف رد عمل ہوا اور لوگ اس روش سے بیزار آکر کہانی کی واپسی کی خواہش کرنے لگے، پھر جلد ہی کہانی واپس آگئی، نقادوں نے اس کا خیر مقدم کیا، پھر جیسا کہ داستانوں میں ہوتا ہے، سب ہنسی خوشی رہنے لگے،اگر یوں ہوتا تو پھر کیا بات تھی۔ اردو افسانے کو اگر اس طرح بیان کیا جائے تو کہانی میں کئی جھول آجاتے ہیں، ان سے بھلا کس طرح نمٹا جائے۔ میں چند ایک کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا۔
رجحانات کے دائرے میں چلتے رہنے سے یہ بات پوری طرح واضح نہیں ہوتی کہ افسانہ نسبتاً مختصر عرصے میں اتنا طویل سفر کیسے طے کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ ایک رجحان کی جگہ دوسرا رجحان ایک آدھ نسل کے بہ جاے چند برس میں کیسے قائم ہوگیا۔ تبدیلی کی رفتار اس قدر تیزکیوں تھی، پھر افسانے کو بے اندازہ مقبولیت کیسے مل گئی۔ مثال کے طورپر کرشن چندر کے چند ابتدائی افسانے شائع ہوئے تو پڑھنے والوں کے حلقے میں دھوم مچ گئی اور یہ احساس ہونے لگا کہ کوئی بڑا فن کار طلوع ہونے کو ہے۔
پشاور سے راس کماری تک پڑھنے والوں کے حلقے میں ان کو پذیرائی ملی اور ان کے زیر اثر افسانے میں دور رس تبدیلیاں نمودار ہونے لگیں۔ یہ اور بات ہے کہ آگے چل کر خود کرشن چندر اس انداز کو قائم نہ رکھ پائے۔ہمیں یہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پڑھنے والوں کی ذہنی جذباتی زندگی کے وہ کون سے پہلو تھے، جن کی وجہ سے افسانے کو اتنی مقبولیت ملی کہ غزل کے بعد مقبول ترین صنف اور ذریعۂ اظہار بن گیا۔
کرشن چندر سے پہلے افسانے کے ایک اور سنگ میل کا ذکر مجھے لازمی معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ ہے ’’انگارے‘‘ چار باہمت اور جوشیلے نوجوانوں کی ابتدائی کوششوں کا ہنگامہ خیز مجموعہ، جس نے افسانے کا چلن بدل کر رکھ دیا۔ انگارے کی تاریخی اہمیت پر تو بات ہوتی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم اس کی ادبی اہمیت کے دل سے قائل نہیں ہیں۔
شاید ہم اس دلیری اور باغیانہ روش سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ہم ہر طرح کی قدغن سے ڈرتے ہیں، چاہے وہ حکومت کی طرف سے آئے یا علمائے کرام کے طبقے سے۔ یہ بات بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انگارے اردو میں اپنی اصل شکل میں آسانی سے دستیاب نہیں۔ آپ اگر اسے پڑھنا چاہیں تو ایک چھوڑ دو انگریزی ترجمے حاضر ہیں۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس کتاب نے اردو افسانے کے لیے اظہار کی آزادی کا راستہ کھولا، وہ اردو کے بہ جائے اس زبان میں دست یاب ہے، جس میں اس کے خلاف پابندی عائد ہونے کا حکم نامہ جاری ہوا تھا۔اسی طرح علامتی، استعاراتی افسانے کو بہ یک جنبش قلم مسترد کردینا بھی درست نہیں۔
اس دور کے چند ایک افسانے کئی اعتبار سے قابل ِذکر ٹھہرتے ہیں، پھر ان کے ذریعے سے واقعات کی جکڑ بندی سے نجات حاصل ہوئی، تخیل کی آزادہ روی اور تاریخ کے مسلسل جاری رہنے والے عمل کی کارفرمانی نظر آئی۔ کہانی کی گم شد گی کا اعلان جتنی عجلت میں کیا گیا تھا، کہانی کی واپسی کا شہرہ بھی جلدی ہوگیا، اس شور میں ایک آواز دب گئی، جو مجھے اپنے طورپر ایک باقاعدہ رجحان معلوم ہوتی ہے، اسی زمانے میں افسانے میں ایک نئی صورت پیدا ہوئی، جب چند ناراض نوجوانوں کے بہ جاے ایسے لوگ افسانے میں سامنے آئے، جو عمر کی کئی منزلیں طے کرچکے تھے۔ نیّر مسعود نے افسانہ لکھنے کا آغاز کیا۔ حسن منظر نے چند برس کی خاموشی کے بعد اپنا مجموعہ شائع کیا۔
اسد محمد خان نے شاعری کے بہ جاے افسانے پر زیادہ توجہ دینی شروع کی۔ محمد سلیم الرحمان نے مٹھی بھر یاد گار افسانے لکھے۔ ہمارے نقادوں نے اس پورے دور اور اس کے ان اہم افسانہ نگاروں کی طرف تنقیدی توجہ نہیں دی۔ یہ افسانہ نگار بھی ایک متوازی رو کی طرح اپنی تخلیقی منزلیں طے کرتے رہے، لیکن ہمارے اہم تر نقادوں نے، چاہے وہ گوپی چند نارنگ ہوں یا شمس الرحمان فاروقی، اس پورے دور پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی، جس طرح انہوں نے تجریدی، علامتی افسانے کے لیے تکنیکی تجزیے لکھے تھے اور نظریاتی بنیاد فراہم کی تھی۔
اردو افسانے کا یہ پورا دور، جو ہم سے نزدیک تر ہے، خاطر خواہ تنقیدی توجہ حاصل نہیں کرسکا۔ اس کی روشنی میں ہمیں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ افسانہ اب کس مقام پر آگیا۔ ہم عصر افسانے کی بات کرتے ہوئے قاری کی کم یابی کا گلہ شکوہ کرنے کے بجائے میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ معاصر ادب کو ہم ایک زندہ اور اپنے گرد و پیش سے جڑی ہوئی حقیقت کے طورپر دیکھنےاور پرکھنے کے عادی نہیں رہے۔
د رس گاہوں میں جو نصاب عام طورپر رائج ہے، اس میں سیدھے، سادے، سچےاور معصوم ادب کی گنجائش ہے، اس ادب کے لیے دروازے بند ہیں، جو زندگی کی کڑوی حقیقتوں کو شکر میں لپیٹ کر دینے کا قائل نہیں۔ عصری ادب کی معنویت ہماری درس گاہوں کے لیے بھولا ہوا سبق بن کر رہ گئی ہے۔ نئے قاری کے ذوق کی تربیت ہو تو کیسے؟
ہم نے اس بات پر داد کے ڈونگرے بہت برسائے کہ اردو افسانہ عالمی سطح پر پہنچ گیا۔ اس قسم کے بیانات میں خود تحسینی کے علاوہ اور کیا ہوتا ہے؟ مغز تو ہوتا نہیں، اس طرح کے بیانات سے ایک طرح کی سہل پسندی اور تسکین کی کیفیت آگئی اور ہم نے عالمی ادب کی طرف سے آنکھیں پھیرلیں، چناں چہ عالمی ادب سے ترجمے کم ہوگئے۔ اردو افسانے کا سنہرا دور جس زمانے کو کہا جاسکتا ہے، وہ ترجموں کا بڑا اہم دور تھا۔
بہت اچھے ترجمے خود افسانہ نگاروں نے کیے۔ منٹو نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز روسی اور فرانسیسی افسانوں کو اردو میں منتقل کرنے کے کام سے کیا۔ قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین اردو کے نمائندہ افسانہ نگار ہی نہیں، افسانوی ادب کے عمدہ مترجم بھی ہیں۔ تراجم کا دور ختم تو نہیں ہوا، لیکن اس کام کو اتنی سنجیدگی ا ور باضابطگی سے نہیں کیا گیا، جس کا یہ تقاضا کرتا ہے اور جس طرح یہ کام دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں ہوتا ہے۔
وہ جو کہتے ہیں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، ہم نے عالمی ادب کی طرف سے آنکھیں موند لیں۔ بند آنکھوں سے افسانہ کیسے پڑھا جاسکتا ہے؟ بند آنکھوں کے پیچھے تو صرف اندھیرا ہوتا ہے، بڑھتا پھیلتا اندھیرا۔ اور ہم پھر بھی کہے جاتے ہیں۔ کہانی کھو گئی!