آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپرز

کرکٹ کے کھیل میں بیٹس مین اور بالر کے بعد وکٹ کیپر کا کردار انتہائی اہم ہوتاہے۔ وہ فیلڈ میں وکٹوں کے عقب میںکھڑے ہوکر بالر کے گیند پھینکنے اور بلے باز کے ہٹ لگانے کامنتظررہتا ہے۔ پیڈ اور گلووز پہننا بیٹس مین کی ضرورت ہوتا ہے لیکن فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کا وہ واحد رکن ہوتا ہے جو بلے باز کی طرح ہاتھوں میں گلووز اورلیگ گارڈ پہن کر میدان میں کھڑا ہوتا ہے۔ وکٹ کیپنگ کا شعبہ کرکٹ میں انتہائی حساّس نوعیت کاحامل ہوتا ہے لیکن اسے تھینک لیس جاب کہا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ میچ کے دوران وکٹ کیپر کو سارا دن جھکے ہوئے انداز میں کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ 

فیلڈر،مس فیلڈنگ کرتے ہوئے جتنے چاہےکیچ ڈراپ کرے،اس کی سرزنش نہیں ہوتی مگر یہی غلطی وکٹ کیپر سے سرزد ہو جائے تو اسے معاف نہیں کیا جاتا۔ فرسٹ کلاس میچ چار روزہ ہو یا ٹیسٹ میچ ،وکٹ کیپر کوہر حال میں ایک دن میں90اوورز تک اپنے فرائض کی انجام دہی پوری تندہی کے ساتھ کرنا ہوتی ہے۔ اس دوران اسے تقریباً 600مرتبہ اٹھک بیٹھک کرنا پڑتی ہے ۔ 

دن بھر وہ دھوپ کی تمازت میں کھڑا ہوکرکیچ پکڑنے اوربیٹس مین کو آؤٹ کرنے کی تگ و دو کرتا ہے۔ اس کی نگاہیں بالر اور بلے باز کی حرکات و سکنات پر مرکوز رہتی ہیں، لیگ بائی کی صورت میں گیندکو باؤنڈری لائن کی جانب جانے سےروکنے کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے جب کہ وہ بلے باز کو رن آؤٹ کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔محدوداوورز کی کرکٹ ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں کیوں کہ کافی تیز کھیل ہوتا ہے اس لیے اسے مسلسل وکٹوں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دوڑنا پڑتا ہے۔ 

ذرا سی توجہ ہٹنے سے کیچ ڈراپ یا اسٹمپ مس ہو سکتا ہے۔ اس کوشش میں کبھی فاسٹ بالر کی تیز گیند لگنے سے منہ اور ناک بھی تڑوا لیتا ہے۔ ماضی میں وکٹ کیپرکا کام صرف وکٹ کیپنگ ہوتی تھی، مگرگزشتہ چند عشرے سے’’ وکٹ کیپر؍بیٹس مین‘‘ کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے، اب زیادہ تر کھلاڑی ، وکٹوں کے عقب میں گیند روکنے کے علاوہ بلے بازی کے جوہر بھی دکھاتے ہیں ۔ ذیل میںماضی کے ایسے ہی چند وکٹ کیپر ز کا تذکرہ نذرقارئین ہے، جنہوں نے اس شعبے میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

حنیف محمد

پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپرز

کرکٹر حنیف محمد دنیا کے ایک عظیم بلے باز کے طور پر معروف ہیں لیکن یہ بات شاید کم لوگوں کو معلوم ہو کہ قومی کرکٹ ٹیم میں ان کا چناؤ وکٹ کیپر کے طور پر کیا گیاتھا۔ انہوں نے فرسٹ کلاس میچوں میں وکٹوں کے پیچھے178بلے بازوں کو کیچ آؤٹ،جب کہ 12کو اسٹمپڈ آؤٹ کیا تھا۔ پاکستانی ٹیم، ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے کے بعد جب1952میں پہلی مرتبہ بھارت کے دورے پر گئی توسیریزکے پانچ میچوں میں سے دو میں حنیف محمدنے وکٹ کیپنگ کے فرائض انجام دیئے تھے۔دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں انہوں نےوکٹوں کے پیچھے بھارتی کھلاڑی گل محمد کو کیچ آؤٹ کیا، یہ قومی کرکٹ ٹیم کی تاریخ کا پہلا کیچ تھا۔ 

دوسرا ٹیسٹ میچ لکھنؤ میں کھیلا گیا جس میں انہوں نے غلام احمد کو کیچ آؤٹ کیا ۔ دہلی ٹیسٹ میں انہوں نےپاکستان کی طرف سے اولین نصف سنچری بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ تیسرے ٹیسٹ میچ میں وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری حنیف سےلے کر امتیاز احمد کو سونپ دی گئی،کیوں کہ کپتان عبدالحفیظ کاردارکا خیال تھا کہ حنیف محمد کے ہاتھ چھوٹے ہیں جس کی وجہ سے ان کو گیند پکڑنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

امتیاز احمد

پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپرز

قومی کرکٹ ٹیم کے ابتدائی ایام کے دوسرے وکٹ کیپر امتیاز احمد تھے جنہیں حنیف محمد کی جگہ یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔پچاس کی دہائی میںفضل محمود کی بالنگ اور امتیاز احمد کے کیچز کو خاصی شہرت ملی۔1952میں پاکستان ٹیم کے دورہ بھارت کے موقع پر ممبئی ٹیسٹ میچ میں انہوں نے وکٹوں کے پیچھےاپنے کیرئیر کا پہلا شکاربالر محمود حسین کی گیند پر ’’مدھاؤ ایپتے‘‘ کو کیچ آؤٹ کرکے کیا ،جب کہ مدراس ٹیسٹ میچ میں انہوں نے لالہ امرناتھ کو کیچ آؤٹ کیا۔ 

سیریز کے پانچویں اور آخری ، کلکتہ ٹیسٹ میچ میں انہوں نے پہلی اننگز میں دیپک شودھن اور دتو پھاڈکر کے کیچ پکڑے۔ وکٹوں کے پیچھے امتیاز نے 41ٹیسٹ میچوں میں 77کھلاڑیوں کو کیچ آؤٹ ، 16کو اسٹمپڈ آؤٹ کیا ،جب کہ 80فرسٹ کلاس میچوں میں 322بلے بازوں کو کیچ آؤٹ جب کہ82 کو اسٹمپڈکیا۔ وہ بیٹس مین کے طور پر بھی کامیاب رہے۔ 1951ء میں انڈیا پرائم منسٹر الیون کی جانب سے دولت مشترکہ الیون کے خلاف کھیلتے ہوئے انہوں نے ایشیاء کی تاریخ کی پہلی ٹرپل سنچری اسکور کی ۔ 1955میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ڈبل سنچری بنائی، جو کسی وکٹ کیپر کی جانب سے ڈبل سنچری بنانے کا کرکٹ کی تاریخ میں پہلا کارنامہ تھا۔

وسیم باری

پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپرز

قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹس مین وسیم باری نےاس شعبے میں کئی عالمی ریکارڈ قائم کیےہیں۔ 1967سے 1984 تک 81ٹیسٹ اور 51ایک روزہ میچوں میں وکٹ کیپنگ کے فرائض انجام دیئے۔ 1967میں انگلستان کے خلاف انڈر 25میں کھیلتے ہوئے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور پہلے ہی میچ میں ’’کولن ملبرن‘‘ کو اسٹمپڈ آؤٹ‘‘ کیا۔ان کے اس کارنامے پر انہیں ایشیاء کا بہترین وکٹ کیپر قرار دیا گیا، وہ دنیاکےپہلے کرکٹر تھے جنہوں نے کھیل کے آغاز میں ہی یہ اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے 1971میں لیڈز ٹیسٹ میں وکٹ کے پیچھے آٹھ بلے بازوں کو کیچ آؤٹ کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

1976میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں وسیم باری نے چار بلے بازوں کو اسٹمپڈ آؤٹ کرکے عالمی ریکارڈ بک میں دوبارہ اپنا نام ثبت کیا۔1979میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں آٹھ بلے بازوں میں سے سات کھلاڑیوں کو کیچ آؤٹ کرکے اپنی بہترین کارکردگی کے تسلسل کو دہرایا۔ برطانیہ کے خلاف تین میچوں کی سیریز کے دوران بائی کا کوئی رن نہیں دیا، جو وکٹ کیپنگ میں منفرد ریکارڈ ہے ۔ 

1984میںکرکٹ کیریئر کے اختتام تک انہوں نے 81ٹیسٹ میچوں میں 228بیٹس مینوں کو کیچ جب کہ 27کو اسٹمپڈ آؤٹ کیا۔ بیٹنگ کے شعبے میں بھی وہ کامیاب رہے اورکئی مربتہ ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں سنچریاں اسکور کیں۔انگلش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان و کمنٹیٹر ٹونی گریگ نے وسیم باری کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ لوگوں کے خیال میں ایلن ناٹ دور حاضر کا عظیم وکٹ کیپر ہے، لیکن وہ وسیم باری کو اس شعبے کا ماہر تصور کرتے ہیں۔‘‘

راشد لطیف

پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپرز

قومی ٹیم کے وکٹ کیپر راشدلطیف جو1992سے 2003تک پاکستانی اسکواڈ کا حصہ رہے ۔2003میں انہوں نے قومی ٹیم کی قیادت کا فریضہ بھی انجام دیا۔ وہ اسٹمپ کے پیچھے مستعد کھڑے رہتے تھے اور ڈائیو لگا کر کیچ پکڑنے میں شہرت رکھتے تھے۔ 37ٹیسٹ میچزمیں انہوں نے 119کیچ پکڑے جوکم میچوں میں اعلیٰ کارکردگی کا ریکارڈ ہے۔ 166ایک روزہ میچوں میں راشد لطیف نے 182کیچ اور 138اسٹمپڈ کیے۔ فرسٹ کلاس میچوں میں ان کی کارکردگی زیادہ نمایاں نظر آتی ہے ۔

156میچوں میں انہوں نے429بلے بازوں کو کیچ جب کہ 153کو اسٹمپڈ آؤٹ کیا۔ بہ طور بلے باز بھی ان کی کارکردگی شاندار ہے۔ کئی میچوں میں راشد نے سنچریا ںاور نصف سنچریاں اسکور کیں۔2002میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ میں انہوں نے 150رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

تسلیم عارف

پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپرز

تسلیم عارف نے کرکٹ کا آغاز فرسٹ کلاس میچوں سے کیا اور 1978میں ایک فرسٹ کلاس میچ میں وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے دس بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کا کارنامہ انجام دیا لیکن ان کی یہ کارکردگی عالمی ریکارڈ بک کا حصہ نہیں بن سکی۔ 1978میں بھارت کے خلاف کولکتہ ٹیسٹ سے کیریئر کا آغاز کرنے والے تسلیم عارف نے ڈبیو میچ کی دونوں اننگز میں نمایاں اسکور بنایا۔ ان کی کرکٹ انتہائی محدود رہی اور وہ صرف چھ ٹیسٹ اور2ایک روزہ میچ کھیل سکے۔ ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 9وکٹیں حاصل کیں۔ 

فرسٹ کلاس میچوں میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی اور 148میچوں میں انہوں نے 368بلے بازوں کو وکٹوں کے پیچھے شکار کیا۔وہ پاکستان کے پہلے وکٹ کیپر ؍بیٹس مین تھے جنہوں نے ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں دوناٹ آؤٹ ڈبل سنچریاں بنائیں۔ 1980میں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے ٹیسٹ میچ میں پہلی ناٹ آؤٹ ڈبل سنچری بنائی لھی۔ وکٹ کیپر کی حیثیت سے ان کا یہ ریکارڈ 20سال تک قائم رہا۔

سرفراز احمد

پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپرز

قومی ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر ؍بیٹس مین سرفراز احمد نے 2006میں سری لنکا میں منعقد ہونے والے آئی آئی سی انڈر ۔19عالمی کپ ٹورنامنٹ میںقومی ٹیم کی قیادت کی۔ فائنل میں بھارت کو شکست دے کر چیمپئن شپ جیت لی۔ 2008میں پاکستان میں ایشیاء کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوا جس میں خطے کے چھ ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی، جس میں سرفراز احمد کو وکٹ کیپر کامران اکمل کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔ 

2010میں قومی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر ہوبارٹ ٹیسٹ میں سرفراز کو شامل کیا گیا جو ان کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا،جس میں وکٹوں کے پیچھے رن روکنے میں انہوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔2015ء کے عالمی کپ کے پانچویں میچ میں انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلنے کاموقع دیا گیا۔ اس میں انہوں نے شاندار وکٹ کیپنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے’’ورلڈ کپ‘‘میں چھ بلے بازوں کو آؤٹ کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ 

اس ٹورنامنٹ کے دوسرے میچ میں آئرلینڈ کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئےسرفراز نے ناٹ آؤٹ سنچری بنائی۔ سرفراز احمد ٹی ۔10سمیت کرکٹ کے تمام فارمیٹس میں حصہ لیتے ہیں۔ وکٹ کیپر کی حیثیت سےکرکٹ کے تینوں فارمیٹس کی 215،جب کہ فرسٹ کلاس میچوں میں 462وکٹیں حاصل کی ہیں۔

انیل دلپت

پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپرز

1984میں ایک روزہ میچ سے کرکٹ کیرئیر کا آغاز کرنے والے انیل دلپت کا شمار قومی ٹیم کے باصلاحیت وکٹ کیپرز میں ہوتا ہے۔ وکٹ کیپنگ کے علاوہ لوئر آرڈر پوزیشن پر بیٹنگ بھی کرتے تھے۔ 1984میں وسیم اکرم کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی ٹیم کا حصہ بنےاور انگلینڈ کے خلاف میچ میں شرکت کی۔ 

1985میں کراچی میں کھیلے گئے نیوزی لینڈ کے خلا ف میچ میں انہوں نے بہترین وکٹ کیپنگ کا مظاہرہ کیا۔ان کا کرکٹ کیرئیر انتہائی مختصر ہے،2ٹیسٹ اور 15ایک روزہ میچوں میں انہوں نے35کھلاڑیوں کو اسٹمپڈ و کیچ آؤٹ کیا ، جب کہ 1983ء میں کراچی میں منعقد ہونے والے ڈومیسٹک میچوں میں انہوں نے 67بلے بازوں کووکٹوں کے پیچھے آؤٹ کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔

کامران اکمل

پاکستان کے ممتاز وکٹ کیپرز

کامران اکمل پاکستان ٹیم کے معروف کرکٹر ہیں جو وکٹ کیپر ؍بیٹس مین کے طور پر کھیلتے ہیں۔وکٹوں کے پیچھے سب سے زیادہ بلے بازوں کو آؤٹ کرنے والے پہلے قومی کھلاڑی ہیں جنہوں نے کھیل کے تینوں فارمیٹس میں 444جب کہ فرسٹ کلاس میچوں میں 841بلے بازوں کو اسٹمپڈ یا کیچ آؤٹ کیا ہے۔ 

2009کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں انہوں نے 4بلے بازوں کو آؤٹ کرکے ریکارڈ قائم کیا تھا،جب کہ بیٹس مین کے طور پر بھی ان کا کھیل نمایاں رہا ہے۔ انہوں نے اب تک چھ ٹیسٹ اور 5ایک روزہ سنچریاں اسکور کی ہیں ۔ اپنی گوناگوں خوبیوں اور صلاحیتوں کے باوجود کئی اہم مواقع پر کیچ ڈراپ کرنے اور میچ فکسنگ کے الزامات کی پاداش میں وہ ٹیم سے باہر ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

اسپورٹس سے مزید
مڈویک میگزین سے مزید
کھیل سے مزید