• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
چاند رات

شگفتہ بلوچ، ملتان

’’ چاند رات کا اہتمام‘‘ مسلمانوں کی وہ خُوب صُورت ثقافتی سرگرمی ہے، جس میں ماہِ رمضان کے اختتام پر ملنے والے خُوب صُورت انعام،’’ تہوارِ عید‘‘ کو خوش آمدید کہنے کی تیاریاں کی جاتی ہیں۔ اس موقعے پر گھروں اور بازاروں میں جشن کا سا سماں ہوتا ہے۔ دراصل’’ چاند رات‘‘ بنگالی، اُردو اور ہندی زبان کی اصطلاح ہے، جس کے لغوی معنی’’ چاند کی رات‘‘ کے ہیں۔ پاکستان، بنگلا دیش اور بھارت میں اسے عیدالفطر سے قبل مسلمانوں کی شام منانے کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ مذہبی اصطلاح میں’’ لیلۃ الجائزہ‘‘ یعنی بخش، مغفرت یا انعام کی رات کہا جاتا ہے۔ 

چاند رات

ماہرینِ لسانیات کے مطابق، چاند رات کی اصطلاح، سنسکرت زبان کے لفظ، چند رتری سے اخذ کی گئی ہے۔ جنوبی ایشیا میں صدیوں سے یہ رات منائی جا رہی ہے، تاہم وقت کے ساتھ منانے کے انداز ضرور بدلتے رہے ہیں۔ ایک وقت تھا، جب ٹی وی ایجاد ہوا تھا اور نہ ہی ریڈیو کی نشریات گاؤں، گاؤں پہنچی تھیں۔ تب عید کا چاند دیکھنے کے لیے کوئی سرکاری رُویتِ ہلال کمیٹی بھی نہیں ہوتی تھی۔ لوگ مذہبی جوش و جذبے سے ماہِ صیام کے روزے رکھتے اور پھر29 ویں روزے کو نمازِ مغرب کے بعد گاؤں کے تجربہ کار اور جہاں دیدہ افراد پر مشتمل ایک’’ کٹھ‘‘ کسی اونچے مقام پر جمع ہو جاتا اور شوال کا چاند دیکھنے کی کوشش کرتا۔ جیسے ہی کسی کو چاند نظر آ جاتا، تو شور سا مچ جاتا۔ پھر وہ انگلی کے اشارے سے دوسروں کو بھی چاند دِکھانے کی کوشش کرتا۔ اگر کٹھ میں شامل بزرگ افراد چاند نظر آنے پر متفق ہو جاتے، تو پھر مساجد سے اعلانات کروائے جاتے۔ آج، اکیس ویں صدی میں اس کٹھ کی جگہ رُویتِ ہلال کمیٹی نے لے لی ہے، تو اعلانات کی ذمّے داری ٹی وی چینلز کے سُپرد کردی گئی ہے، مگر اس کے باوجود، اب بھی مساجد سے چاند نظر آنے کے اعلانات کی اپنی ہی خوشی ہے۔ بعض گھرانوں میں تو اب بھی خود چاند دیکھنے کا رواج ہے۔ وہ 29 واں روزہ افطار کرتے ہی گھر کے کسی بلند مقام پر جا کھڑے ہوتے ہیں۔کبھی تو چاند کا دیدار ہو جاتا ہے، لیکن اکثر ہزار کوشش کے باوجود بھی چاند اپنا مکھڑا دِکھانے پر راضی نہیں ہوتا۔ اگر نظر آجائے تو چاند دیکھتے ہی دُعا کے لیے ہاتھ بلند ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر اس موقعے پر لڑکیاں بالیاں بھی چُپکے چُپکے دِل کی مُراد پوری ہونے کی دُعائیں ضرور کرتی ہیں۔

شوال کا چاند نظر آنے کے بعد چاند کی مبارک باد دینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، مگر اب مبارک باد دینے کا طریقہ بھی بدل گیا ہے۔ موبائل فون کی ایجاد سے قبل باقاعدہ ایک دوسرے کے گھر جا کر مبارک باد دی جاتی تھی۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں بھابیاں، نندیں اور ساس ایک دوسرے کو گلے لگا کر مبارک باد دیتیں اور بھائی، بھائی سے گلے ملتے ،لیکن اب اس رسم کو فون میسج ہی تک محدود کردیا گیا ہے یاپھر زیادہ سے زیادہ عزیز واقارب کو فون کر لیا جاتا ہے اور بس۔آج سے چند دہائیاں قبل یہ مبارک بادیں ایسی روکھی پھیکی نہیں ہوتی تھیں ،بلکہ اس موقعے کو حقیقی خوشیوں سے آراستہ کرنے کے لیے گھر کی بڑی بوڑھیاں رمضان کے دوسرے عشرے ہی سے خصوصی تیاریاں شروع کردیتیں۔ گھروں ہی میں ہاتھ سے سویّاں تیار کی جاتیں۔ رمضان کے آخری روز بازار سے خصوصی طور پر مٹھائی منگوائی جاتی اور پھر چاند نظر آنے پر سویّاں اور ایک پلیٹ میں مٹھائی رکھ کر ہم سایوں اور قریبی رشتے داروں کے گھر لے جا کر اُنہیں چاند و عید کی مبارک باد دی جاتی۔ علاوہ ازیں، جن گھروں کی بیٹیاں بیاہی ہوتیں، اُن کے لیے میکے والے سویّاں، مٹھائی کے ساتھ نیا جوڑا، چوڑیاں اور مہندی بھی بہ طور عید کا تحفہ چاند رات کو اُن کے سسرال لے کر جاتے۔ یہ رسم اب بھی دیہات میں جاری ہے، لیکن شہروں میں کم کم ہی نظر آتی ہے۔

ویسے چاند کی مبارک باد دینے اور اعتکاف میں بیٹھے عزیز و اقارب کو مساجد سے لانے کے بعد، عید کی خریداری اختتام تک پہنچانے کے لیے لوگ عمومی طور پر ٹولیوں کی صورت بازاروں کا رُخ کرتے ہیں، جہاں اُن کی خوشی اور جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے۔ لڑکوں کا حجام کی دُکانوں پر رَش ہے، تو کہیں وہ درزیوں کی دُکانوں پر جمگھٹا کیے ہوئے ہیں۔ اس رات دھوبی بھی بہت ہی مصروف نظر آتے ہیں، کیوں کہ لوگ نئے اور خُوب صُورت جوڑے استری کے لیے لا رہے ہوتے ہیں۔ اُدھر خواتین تو گویا اسی رات کی منتظر ہوتی ہیں۔ کہیں اسٹالز پر رنگا رنگ چوڑیوں کی کھنک ہے، تو کہیں مہندی کے ڈیزائنز پر بحث مباحثہ چل رہا ہے۔ ویسے عام گھروں کی نسبت، مشترکہ خاندانی نظام میں چاند رات منانے کا لطف ہی الگ ہوتا تھا۔ گھر کے کسی مخصوص کمرے میں خاندان بھر کی لڑکیاں، خواتین ایک بڑے سے برتن میں مہندی گھول کر بیٹھ جاتیں۔ ایک دوسرے سے ہنسی مذاق، چھیڑ چھاڑ کرتی، ہنستی مُسکراتی، چچا زاد، پھوپھو زاد اور خالہ زاد بہنیں جب ایک دوسرے کے ہاتھوں کو مہندی کے خُوب صورت ڈیزائنز سے رنگتی، تو منظر دیدنی ہوتا۔ پھر مہندی لگانے کے ساتھ، کھانے پینے کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا اور یوں قریباً ساری رات ہی جاگتے گزر جاتی۔ اس موقعے پر مائیں بھی ساتھ بیٹھی بچیّوں کے دوپٹوں پر لیسیں ٹانکتیں یا دیگر کاموں میں مصروف نظر آتیں، لیکن مشترکہ خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد اب گھروں میں پیار و محبّت کے یہ اجتماعی مناظر شاذو نادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔لہٰذا اب چاند رات، گھروں کی بجائے بازاروں میں منانے کا رواج عام ہو رہا ہے۔ اس موقعے پر بازار برقی قمقموں سے سجے جگ مگ کرتے روشن صبح کا منظر پیش کرتے ہیں۔ سڑکوں پر موٹر سائیکل سوار منچلے لڑکوں کی ٹولیاں، کانوں کے پردے پھاڑتے شور کے ساتھ ہلا گُلا کرتی دِکھائی دیتی ہیں۔ انہی منچلوں کی چھیڑ چھاڑ اور ناپسندیدہ واقعات کی روک تھام کے لیے آج کل گاڑیوں کو بازار سے باہر پارک کرکے صرف فیملیز کو اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، جب کہ کچھ شہروں کے چُوڑی بازاروں میں صرف خواتین ہی کو داخلے کی اجازت ہے۔ حضرات تو عموماً بازار کے باہر کھڑے رہ کر روتے بچّوں کو چُپ کروانے کا’’ فریضہ‘‘ ہی سَر انجام دیتے نظر آتے ہیں۔

چاند رات کو بازاروں میں سب سے زیادہ رَش مہندی، چوڑیوں اور جوتوں کے اسٹالز پر ہوتا ہے۔ یہاں خواتین اور بچّوں کا اِک جمِ غفیر نظر آتا ہے۔ اکثر خواتین کپڑوں اور جوتوں سے ہم آہنگ چوڑیوں کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہیں۔ حالاں کہ چوڑی کا وہ سیٹ، جو عام دنوں میں200 روپے کا بِکتا ہے، چاند رات کو اس کی قیمت 500 سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔ خواتین چوڑیوں اور کَڑوں کی ہم آہنگی میں سیٹ تو بنوا لیتی ہیں، لیکن پھر دُکان داروں کے منہ مانگے دام اُن کے چودہ طبق روشن کردیتے ہیں۔ بعض اوقات تو خواتین اور دُکان داروں کی بحث و تکرار بڑھتے بڑھتے لڑائی جھگڑے کا رُوپ بھی دھار لیتی ہے، لیکن عموماً اس شور شرابے میں بات بن ہی جاتی ہے اور خواتین ناک بھوں چڑھاتی چوڑیاں پیک کروا کے اگلے اسٹال کی جانب بڑھ جاتی ہیں۔ بازاروں میں مہندی کے بھی خصوصی اسٹالز لگائے جاتے ہیں، جن میں کئی ایک کی’’ دُکان دار‘‘ خواتین ہی ہوتی ہیں۔ ان اسٹالز پر کون مہندی کے علاوہ، لکڑی کے سانچوں پر بنے مہندی کے ڈیزائنز کے ذریعے بھی نقش و نگار بنوائے جاتے ہیں۔ نیز، شہر کے معروف پارلرز اپنے نام کے بڑے بڑے بینرز آویزاں کرکے بھی خواتین کو اپنی جانب متوجّہ کرتے ہیں۔ مائیں جب کون مہندی کے خُوب صورت ڈیزائن بنواتے تھک جاتی ہیں، تو چھوٹی بچیّوں کے ہاتھوں پر لکڑی کے سانچوں سے مہندی کے چھاپے بنوا لیتی ہیں۔ یوں بھی چھوٹی بچیّاں زیادہ دیر تک ٹِک کر نہیں بیٹھ سکتیں، اس لیے نفاست سے کون مہندی کے ڈیزائن اُن کی ہتھیلیوں پر بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب کہ کچھ خواتین کون مہندی کے ساتھ رنگ رنگ گلیٹرز کے ذریعے بھی ہاتھوں پر خُوب صورت ڈیزائنز بنواتی ہیں۔ مہندی اور چوڑیوں کے بعد جن اسٹالز پر سب سے زیادہ ہجوم ہوتا ہے، وہ جوتوں کے اسٹالز ہوتے ہیں کہ خواتین اور بچّوں کی چاند رات پر ایک اہم سرگرمی جوتوں کی خریداری بھی ہوتی ہے۔ عموماً خواتین عید سے قبل اپنی تمام خریداری مکمل کرلیتی ہیں، سوائے جوتوں کی خریداری کے۔ اس اہم کام کو چاند رات کے لیے صرف اسی خاطر رکھ چھوڑتی ہیں کہ چاند رات کو، رونق سے لُطف اندوز ہونے کے ساتھ کچھ چھوٹی چھوٹی چیزوں جیسے میچنگ جیولری، ہیئر بینڈ، کلپس وغیرہ کی بھی خریداری ہو جائے گی۔ اسی رات بازاروں میں کھلونوں کے بھی خصوصی اسٹالز لگائے جاتے ہیں، جن پر نظر پڑتے ہی بچّوں کے قدموں کو گویا بریکس لگ جاتی ہیں اور وہ ایک قدم بھی آگے بڑھنے سے انکار کرتے ہوئے والدین کی انگلی پکڑے اُنہیں تقریباً کھینچتے ہوئے کھلونوں کے اسٹالز پر لے جاتے ہیں۔ درزی کی دُکانیں بھی چاند رات کو میلے کا منظر پیش کرتی ہیں۔ لوگ چاند کا اعلان ہوتے ہی درزیوں کی جانب دوڑ پڑتے ہیں کہ اپنے کپڑوں کی کچھ خیر خبر لی جا سکے۔ درزیوں کا ٹال مٹول اور گاہک کے صبر کا امتحان بسا اوقات صبح تک جاری رہتا ہے۔ یہ غالباً واحد دکان ہوتی ہے، جو صبح نمودار ہونے کے بعد ہی بند ہوتی ہے۔ دُکان میں بیٹھے کاری گر لوگوں کے کپڑے سینے میں پوری رات بِتا دیتے ہیں اور اُن میں سے بعض درزی تو اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ اپنے بچّوں تک کے کپڑے سینا بھول جاتے ہیں۔ پھر بوتیکس پر بھی خریداروں کا رش ہوتا ہے اور پارلرز پر بھی خواتین کاہجوم دیکھنے کو ملتا ہے کہ گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مصروف خواتین کو آخری وقت تک اپنی ذات کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے عموماً وہ چاند رات ہی پر عید کی دیگر اشیا کی خریداری کے ساتھ خود کو سنوارنے کے لیے پارلرز بھی جاتی ہیں، جہاں فیشل، مینی کیور ، پیڈی کیور، آئی بروز بنوانے کے ساتھ خُوب صورت ہیئر اسٹائلز کے ذریعے روزِ عید سب پر بازی لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بے چارے حضرات تو چاند رات کو اپنے لیے کچھ لینے کی بجائے، بیوی، بچّوں کی خواہشات کی تکمیل ہی میں جُٹے نظر آتے ہیں۔ بہرحال، بازاروں کی یہ گہما گہمی صبح تک برقرار رہتی ہے اور پھر جیسے جیسے رات، صبح میں ڈھلنے کے قریب پہنچتی ہے، لوگوں کا ہجوم بھی کم ہونے لگتا ہے۔ بیش تر خواتین چاند رات ہی شیر خرمے، سویّوں، دہی بڑے، چنا چاٹ اور قورمے، نہاری وغیرہ کے سب لوازمات تیار کرکے رکھ لیتی ہیں کہ روزِ عید، مہمانوں کی خاطر تواضع میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ رہ جائے۔

بلاشبہ چاند رات کا اہتمام جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی ایک خُوب صورت ثقافتی سرگرمی ہے، جس کا ہر انداز ہی خُوب صورت اور من موہنا ہے، لیکن چاند رات کو صرف اپنی خوشیوں کا محور بنانے کی بجائے بہ طورِ مسلمان ہمیں اپنے اردگرد موجود نادار و مستحق افراد کو بھی ان خوشیوں میں شریک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ رات بھر بازاروں میں گھومنے پِھرنے اور خریداری کرنے کی بجائے، اگر کچھ وقت شُکرانے کے نوافل ادا کرکے اپنے گناہوں کی مغفرت میں صَرف کردیے جائیں، تو اس لیلۃ الجائزہ، انعام کی رات کو اللہ کریم کی بے پناہ عنایتیں بھی ہم پر نازل ہو کر ہماری عید کی خوشیوں کو دوبالا کردیں گی۔

تازہ ترین