آپ آف لائن ہیں
منگل2؍ذوالحجہ 1439ھ 14؍اگست 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سندھ میں موروثی سیاست کی صورت حال

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اورنئے چہرے سیاست میں لانے کادعوی ٰتو ہرکوئی کرتاہے لیکن اس پر عمل آسان نہیں۔انتخابی دنگل میں آج بھی بڑی سیاسی جماعتیں اپنے ہی خاندان کے اردگردگھومتی نظرآرہی ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اورسابق صدرآصف علی زرداری این اے 213نواب شاہ سے انتخاب لڑینگے،ان کے صاحبزادے اورپاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری این اے 200لاڑکانہ اورکراچی کے علاقے لیاری سے الیکشن میں حصہ لے رہےہیں۔

آصف زرداری کے بہنوئی میرمنور تالپور این اے 219 میرپورخاص سےآصف زرداری کی ہمشیرہ اورمیرمنورتالپورکی اہلیہ فریال تالپور پی ایس10 لاڑکانہ سے جبکہ آصف زرداری کی دوسری ہمشیرہ عذرا پیچوہو پی ایس 39 بے نظیر آباد (نوابشاہ) سے انتخابی میدان میں اتری ہیں۔ اس طرح آصف زرداری ان کی دوبہنیں ،،بہنوئی اوربیٹا انتخابات میں حصہ لے رہےہیں۔

سندھ میں موروثی سیاست صرف پیپلز پارٹی کے حصے میں نہیں،پی ٹی آئی میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔

پی ٹی آئی نے دادو کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشتیں جتوئی خاندان میں دل کھول کرتقسیم کی ہیں ۔ قومی اسمبلی کے این اے 234 سے لیاقت جتوئی کو ٹکٹ دیاگیاہےتو این اے 235 سے لیاقت جتوئی کے صاحبزادے کریم جتوئی ، پی ایس دادو 83 سے لیاقت جتوئی کے بھائی احسان جتوئی اورپی ایس 84 سے لیاقت جتوئی کے بھائی صداقت جتوئی کوٹکٹ دیاگیاہے۔

پی ایس 62 قاسم آباد سے خالد جتوئی جولیاقت جتوئی کے سمدھی ہادی بخش جتوئی کے بھائی ہیں انہیں پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹ سے نوازاگیاہے۔

یوں پی ٹی آئی نے جتوئی خاندان کوجس طرح نوازاہے اس میں لیاقت جتوئی ،ان کے بیٹے،دوبھائی اورسمدہی کے بھائی بھی الیکشن میں حصہ لے رہےہیں ۔

دادوکے شہری کہتےہیں کہ ایک ہی خاندان میں چارچارٹکٹیں تقسیم کی گئیں یہ کیسی موروثی سیاست ہے۔

بدین میں ذوالفقارمرزا،ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزااوربیٹے حسنین مرزابھی انتخابات میں قسمت آزمائیں گے۔

ٹھٹھہ میں بھی شیرازی برادرن کو بھی پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک قومی اوردوصوبائی اسمبلی کی نشتوں کےلئے ٹکٹ دیئےہیں۔

سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اوران کی بیتی نفیسہ شاہ بھی خاندانی سیاست کو پروان چڑھاتے ہوئے امیدوارکے طورپرسامنے نظرآئیں گی۔

سیاسی حلقوں کے مطابق سندھ میں سیاسی تبدیلی کے بظاہر آثار نظر نہیں آتے اوردیہی سیاست کے نمائندے ایک بار پھر کراچی میں بیٹھ کر سیاست کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں