بنگلادیش میں طلبہ تحریک کے بعد ہونے والے عام انتخابات نے بنگلادیشی سیاسی منظر نامے کو جہاں تبدیل کردیا وہاں ایسی جماعتوں نے بھی اپنی جیت درج کروائی جنہیں ماضی میں پےدرپے شکست اور پابندیوں کا سامنا رہا۔
ان انتخابات میں ایک سیاسی جماعت نے اس وقت توجہ حاصل کی جب وہ ایک نشست جیتنے کے بعد فہرست میں بی جے پی کے نام سے سامنے آئی۔
جی ہاں آپ نے بالکل درست پڑھا بی جے پی، جسے دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ کہیں بھارتی جنتا پارٹی نے تو ایک نشست نہیں جیت لی؟ تاہم ایسا بالکل نہیں ہے۔
یہ ہے بنگلادیش جاتیا پارٹی (بی جے پی)، جس نے بنگلادیش کے 13ویں عام انتخابات میں ایک نشست حاصل کی ہے۔ پارٹی امیدوار اندالیو رحمان پارتھو نے بھولا-1 حلقے سے کامیابی حاصل کی۔
انتخابی نتائج
خیال رہے کہ بنگلادیش الیکشن کمیشن کے مطابق 297 نشستوں کے نتائج میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے 212 نشستیں جیتیں، جن میں سے بی این پی نے اکیلے 209 نشستیں حاصل کیں۔
اتحادی جماعتوں میں گنوسمہتی اندولن، بنگلادیش جتیا پارٹی (بی جے پی) اور گونو ادھیکار پریشد سامل ہیں جنہوں نے ایک ایک نشست حاصل کی۔
دوسری جانب جماعت اسلامی بنگلادیش اور اس کے اتحادیوں نے 77 نشستیں جیتیں۔ جماعت نے اکیلے 68 نشستیں حاصل کیں جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے 6 نشستیں جیتیں۔
کل 50 سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا، جن میں 2,028 امیدوار شامل تھے، جن میں سے 273 آزاد امیدوار تھے۔ بی این پی نے سب سے زیادہ 291 امیدوار کھڑے کیے۔ اس بار 83 خواتین امیدوار بھی میدان میں تھیں۔
بی جے پی کے پارتھو کی کامیابی
اندالیو رحمان پارتھو نے ایک لاکھ 5 ہزار 543 ووٹ حاصل کیے اور اپنے قریب ترین حریف، جماعت اسلامی کے امیدوار محمد نذر الاسلام کو شکست دی، جنہیں 75 ہزار 337 ووٹ ملے۔
انتخابات سے قبل پارتھو نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھولا کو جنوبی خطے کا ’تلوتما‘ یعنی ایک جدید اور خوبصورت شہر بنائیں گے۔