آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیروز خان نون کی پہلی بیوی بیگم نون، کے نام سے موسوم تھیں ۔ جب فیروز خان نون نے دوسری شادی کرلی تو ان کی ایک شناسا نےمولانا سالک سے بطور مشورہ پوچھا:’’اب دوسری بیوی کو کیا کہا جائے گا؟‘‘

مولانا نے بے ساختہ جواب دیا: ’’آفٹر نون۔‘‘

……٭……

ایک بار پانی کی قلت سے مولانا عبدالحمید سالک بہت پریشان تھے۔پطرس بخاری کو جب ان کی پریشانی کا علم ہوا تو وہ پانی کی کئی بالٹیاںاپنی کار میں رکھ کر مولانا کی کوٹھی پر لے گئے اور مولانا سے کہنے لگے:’’دیکھئے حضور ! آپ کو پانی پانی کرنے کے لئے حاضر ہوگیا ہوں۔‘‘

سالک صاحب نے فوراً جواب دیا: ’’پطرس صاحب ! آپ تو کیا ، یہاں بڑے بڑے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔‘‘

……٭……

سالک صاحب نے بڑی نکتہ رس طبیعت پائی تھی۔ ایک بار پنڈت ہری چند اختر سے فرمانے لگے ’’پنڈت جی آپ کا نام کیا ہوا، مسلم لیگ کا جھنڈا ہوگیا‘‘ پنڈت جی پوچھنے ہی والے تھے کہ سالک صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے وضاحت کی، ’’دیکھیے نا، یہ جھنڈے کا رنگ ہے سبز یعنی ’’ہری‘‘ اور اس پر چاند اور تارے کا نشان یعنی ہری چند اختر۔

……٭……

سالک صاحب ہندوپاک مشاعرے میں شرکت کے لئے دہلی گئے تو موتی محل ہوٹل میں قیام کیا۔ احباب میں گھرے بیٹھے تھے کہ ایک صاحب نے اپنے یہاں کھانے پر تشریف لانے کی درخواست کی۔ سالک صاحب نے عذر پیش کیا تو خوشتر گرامی نے کہا کہ’’ مولانا ان کی دل شکنی نہ کیجئے، دعوت قبول کرنے میں کوئی عذر نہیں، لیکن خطرہ یہ ہے کہ مرغ و ماہی کے پیٹ میں مشاعرہ بھی چھپا ہوا ہے۔‘‘ ان کے اس جملے پر محفل قہقہہ زار بن گئی۔

……٭……

سالک صاحب روزنامہ ’’زمیندار‘‘ میں فکاہیہ کالم ’’افکار و حوادث‘‘ لکھا کرتے تھے۔ وہ ایک بار دہلی آئے تو خواجہ حسن نظامی سے ملنے کے لئے بستی نظام الدین گئے۔ خواجہ صاحب بڑے تپاک سے پیش آئے اور درگاہ دکھانے کے لئے ان کو ساتھ لے کر چلے۔ ایک معمولی سے مکان کی طرف اشارا کرکے فرمایا: یہ ’’ایمان خانہ‘‘ ہے۔ سالک صاحب نے کہا:اس پر کیا موقف ہے، اس نواح کے تو سبھی مکان ایمان خانے ہیں، ہم جہاں سے اٹھ کر آئے ہیں کیا وہ ’’ بےایمان خانہ‘‘ ہے۔ خواجہ صاحب اس نکتہ سنجی پر خوب ہنسے اور فرمایا:آپ افکار لکھتے ہی نہیں، بولتے بھی ہیں۔

……٭……

ایک زمانے میں اُن کی مولانا تاجور سے شکر رنجی ہوگئی۔ ایک محفل میں ادیب و شاعر جمع تھے، کسی نے سالک صاحب سے پوچھا:تاجور اور تاجدار میں کیا فر ق ہے؟

سالک صاحب نے جواب دیا:’’وہی جو جانور اور جاندار میں ہے۔‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں