• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کشمیر کونسل کا خاتمہ، آزادکشمیر حکومت کو داخلی خودمختاری ملے گی، اقدام کافی نہیں، کمیونٹی کا ردعمل

وٹفورڈ/ لوٹن(لائق علی خان/ شہزاد علی/ اسرار راجہ) پاکستانی وکشمیری کمیونٹی نے آزاد کشمیر میں ایکٹ72میں ترمیم اور کشمیر کونسل کے خاتمے پر ملے جلے ردعمل میں کہا ہے کہ اقدام سے آزاد کشمیر حکومت کو داخلی معاملات میں خود مختاری ملے گی جبکہ بعض رہنمائوں نے کہاہے کہ یہ کافی نہیں ہے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو کشمیر کونسل کے خاتمے سے قبل اسمبلی کا اجلاس بلاکر تمام جماعتوں کا اعتماد میں لینا چاہتے تھا۔ اس حوالے سے جنگ سروے میں وٹفورڈ سے کونسلر ملک عمران حمید نے کشمیر کونسل کے خاتمے پر اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا یہ ایک حقیقت ہے کشمیر کونسل ایک بیورو کونسل اور ایک متنازع ادارہ تھا، بلکہ یہ کہنادرست ہوگا کہ کشمیر کونسل ریاست کے اندر ایک ریاست تھی۔ کشمیر کونسل کا چیئرمین وزیراعظم پاکستان تھااورتمام اختیارات ریاست کے وزیراعظم پاکستان کے پاس ہوتے تھے۔ آزاد کشمیر کا بجٹ بھی کشمیر کونسل سے پاس ہوتا تھا۔ ریاستی امور کوچلانے اور بجٹ اجلاس کے لئے آزاد حکومت کو کشمیر کونسل کا اجلاس بلانا پڑتا تھا۔ بلکہ معاہدہ کراچی کے تحت آزاد کشمیرگورنمنٹ کے پاس اختیارات حکومتپاکستان نے اپنےپاس رکھ لئے تھے۔ آزاد کشمیر میں جمہوریت بیورو کریسی کے محتاج ہے آج بھی آزاد کشمیر میں بعض ایسی سیاسی قوتیں موجود ہیں جو کشمیر کو نسل کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔ کونسلر ملک عمران حمید نے کہا ہے کہ کریڈٹ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق کو جاتا ہے کہ انہوں نے عوامی جدوجہد کے بعد کشمیر کو نسل کو خاتمہ کرایا۔ تحریک انصاف وٹفورڈ برانچ کے صدر چوہدری محمد شاہپال نے کشمیر کونسل کے خاتمے پر خدشات وتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو چاہئے تھا کہ وہ کشمیر کونسل کے خاتمے سے قبل اسمبلی کا اجلاس بلاتے اور سیاسی قائدین وممبران کو اعتماد میں لیتے تو کشمیر کونسل کا خاتمہ ایک قانونی دستاویز بن جاتی۔یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کشمیر کونسل کو ختم کرکے ریاست کے اندر ایک متوازی حکومت کو ختم کیا اورکم از کم ریاست کو ایک اختیار بنانے ہی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریاست کو تمام مالی وانتظامی امور ملنے چاہئےیہ عوام کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پچاس سال سے عوام کا مطالبہ ہے کہ وہ حکومت پاکستان وزارت امور کشمیر اور ریاست سے تمام اہم عہدے آزاد کشمیر گورنمنٹ کے حوالے کرے۔اسی طرح بجلی وگیس ، ڈیمز کی تعمیر اہم اختیارات آزاد کشمیر حکومت کو دیئے جائیں۔ چوہدری محمد شاہپال نے کہا کہ آئینی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کمیٹی کا چیئرمین آزاد کشمیر سے ہونا چاہیے۔ کشمیر فورم وٹفورڈ کے چیئرمین سردار شفیق نے کہا یہ کریڈٹ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کو جاتا ہے کہ انہوں نے آزاد کشمیر سے کشمیر کونسل ختم کرکے انتہائی مثبت ٹھوس اقدام کیا ہے۔سردار شفیق اقوام متحدہ کی مالی امداد ڈائریکٹ آزاد کشمیر کو ملنی چاہیےاور فنڈز صحیح استعمال پر ہونے چاہیے۔آزاد کشمیر کا اپنا ائرپورٹ ہونا چاہیے بجلی کے اختیارات اور ریلوے کے اختیارات آزاد کشمیر کو ملنے چاہیے ۔ن لیگ کے رہنما عبدالمجید ملک نے کہا یہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے کشمیر کونسل ختم کرکے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کیا ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے جمہوریت کو فروغ دینے کے لئے بلدیاتی انتخابات بھی اکتوبر میں کرانے کا اہم اعلان کیا ہے۔ مجید ملک نے کہا وزیراعظم آزاد کشمیر کوشش کریں کہ ڈرائی پورٹ میرپور کے اختیارات آزاد کشمیر کو ملیں۔ ریاست کے مالی وسائل میں اضافہ ہو اورغریبوں کو روزگار ملے، آزاد کشمیر میں کسٹم اینڈ ایکسائز ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ کشمیر عوام اور پاکستان جانے والے کشمیری اپنا ٹیکس اسلام آباد انٹرنیشنل ادا کرسکیں۔ گلگت بلتستان میں آزاد کشمیر کی طرح حکومت قائم کی جائے۔ مجید ملک نے کہا کشمیر ہائوس اسلام آبادکی طرح لندن میں کشمیر ہائوس قائم کرے جو تحریک آزادی کشمیر کا مرکز ہو تاکہ کشمیری جماعتیں آزاد کشمیر کےپرچم کے زیرسایہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں متحد ہوکر کام کریں۔ جموں کشمیر برٹش وٹفورڈ برانچ کے سینئر نائب صدر چوہدری نے کشمیر کونسل کے خاتمے پر وزیراعظم آزاد کشمیر کو مبارکباد دی اور کہا کہ کشمیر کونسل کے ممبران نے عوام کی کوئی خدمت نہیں کی۔ لوٹن میں اس موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ڈاکٹر یٰسین رحمٰن نے کہا ہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر کو جو کامیابی ملی ہے وہ خوش آئند ہے۔ اب تمام جماعتوں کو چاہئے کہ مل کر آزادکشمیر کو خود کفیل بنانے کے لئےجدوجہد کریں۔ ممتاز اکیڈمک جے کے ایل ایف کے سفارتی شعبہ کے سربراہ پروفیسر راجہ ظفر خان نے گفتگو میں واضح کیا ہے کہ یہ ترامیم ناکافی ہیں ان کو آزادکشمیر دستور ساز اسمبلی میں ڈسکس نہیں کیا گیا۔ آزادکشمیر کی حکومت کو اپنے فیصلے خود کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ امجد لون ایڈوکیٹ نے اس بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے اسے حکومت آزاد کشمیر کا اہم کارنامہ کہا جس سے آزاد کشمیر حکومت کو نہ صرف اپنی شناخت ملی ہے بلکہ اب آزاد کشمیر حکومت پر کوئی بھی قانون مسلط نہیں کیا جاسکے گا۔ آزاد کشمیر حکومت کے پاس ریونیو سمیت دیگر اداروں کا اختیار واپس ہوا ہے جس سے آزاد کشمیر حکومت داخلی معاملات میں خودمختار حاصل ہوگی۔ اس سے قبل آزاد کشمیر کا وزیراعظم چیف سیکرٹری کا ماتحت ہوتا تھا ۔ اس پیش رفت سے کشمیریوں کی عزت بڑھی ہے۔ راجہ شکیل اختر نے آزاد حکومت کے اس عمل کو کسی حد تک درست قرار دیا مگر کہا کہ یہ مکمل طور پر آزادی نہیں ہے جس طرح راجہ فاروق حیدر کہہ رہے ہیں اس طرح ہمیں خود مختاری ملی ہے۔ اب بھی آئین میں تبدیلی کے لئے یا کوئی بھی قانون لانے کے لئے آزاد کشمیر حکومت کو وزیراعظم پاکستان کی منظوری چاہئے ہوگی جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو یہ تمام کام سونپنا چاہئے تھا۔ قانون ساز اسمبلی کا ہی کام ہے کہ وہ نئے قانون بنانے اور پرانے میں ترامیم کرسکے مگر یہاں کشمیر کونسل کا صرف کردار نام ہی کی حد تک کم ہوا ہےجبکہ درحقیقت اب بھی تمام اختیارات وزیراعظم پاکستان کے پاس ہیں۔ اقدس مغل نے اپنی رائے دیتے ہوئے کشمیر کونسل کے خاتمے کو ایک اچھا قدم قرار دیا۔ چیئرمین یورپ اینڈ ایشیاء ہیومن رائٹس کمیشن انٹرنیشنل راجہ شبیر ایڈوکیٹ نے اسے ایک اچھا قدم کہا مگر کہا کہ اس میں خامیاں موجود ہیں جس کے اثرات عوام پر پڑھیں گے جس طرح ٹیکس میں اضافہ کرکے عوام پر بوجھ بڑھا دیا گیا ہے۔ ان خامیوں کا ازالہ ممکن ہے کیونکہ پالیسیاں وہی اچھی ہوتی ہیں جن کے دوررس نتائج ہوں۔ کشمیر کونسل کا بوجھ کم کرنا درست ہے مگر عوام پر بوجھ ڈالنا کسی طرح بھی درست قدم نہیں۔ آئین اور قانون بنانا اور ترامیم کرنا قانون ساز اسمبلی کا حق ہے اور وہ اسے ملنا چاہئے۔
تازہ ترین