• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:حافظ عبدالاعلیٰ درانی…بریڈفورڈ
مکران کا علاقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح ہوا تھا۔ تاہم رپورٹوں کاجائزہ لینے کے بعد حضرت عمر ؓنے مسلمانوں کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔ ولید اول (705-15)کے دور میں محمد بن قاسم کو مکران کا گورنر مقرر کیا۔آپ نے مکران کی حکومت کو مضبوط کرنے کے بعدپیش قدمی کرتے ہوئے پہلے ارمن بیلہ اور پھر دیبل فتح کیا \712ء میں محمد بن قاسم نے راجہ داہرکو عبرتناک شکست دی اورپھر مزید آگے بڑھتے گئے اور شہر پہ شہرفتح کرتے گئے حتی کہ سارے سندھ کو فتح کرنے کے بعد ملتان پہنچ گئے اور اسے بھی فتح کرلیا۔ اس طرح یہ سارا علاقہ مسلم سلطنت کا حصہ بن گیا۔یوں یہ ہندوستان میں پہلا مسلم خطہ وجود میں آیا۔
سلطان محمود غزنوی(971-1030)غزنی (افغانستان) اور خراسان کا حکمران تھا۔ اس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے ہرحملے میں ہندوؤں کو شرمناک شکست کا سامان ہوا۔ 1021ء میں محمود نے پنجاب کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ لاہور اس کا صدر مقام تھا ۔ اس طرح محمود غزنوی نے ہندوستان پر مسلمانوں کی مستقل حکومت کے قیام کا راستہ ہموار کیا۔ شہاب الدین غوری نے 1192میں دہلی پر قبضہ کر کے ہندوستان میں مستقل حکومت کی بنیاد رکھی ۔غوری سلطنت میں موجودہ پاکستان، شمالی بھارت ، بہار اوربنگال تھے۔ غوری کے بعد ہندوستان کے اہم حکمرانوں میں قطب الدین ایبک،التمش، غیاث الدین بلبن، علاؤالدین خلجی ، محمد تغلق ، ابراہیم لودھی اور شیرشاہ سوری تھے ۔1526ء میں بابرنے مغلیہ خاندان کی بنیاد رکھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے دور کی عظیم الشان سلطنت تھی بابر کے بعد ہمایوں، اکبر، جہانگیر، شاہجہان اور اورنگ زیب مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہوئی۔ ان کا آخری حکمران بہادر شاہ ظفر تھا۔ ستمبر1857ء میں انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کرلیا اور ہندوستان پر مسلمانوں کی حکمرانی ختم ہو گئی۔ مسلمانوں نے ہندوستان پرایک ہزار سال حکومت کی۔
یورپ میں اسلامی سلطنت کا پھیلاؤ مسلمانوں نے مختلف ادوار میں مختلف بحیرہ روم کے کئی جزائر فتح کیے۔ سب سے پہلے 653ء میں قبرص فتح ہوا۔ یہ حضرت عثمانؓ کا دور تھا۔ عہد معاویہؓؓ میں 672ء میں روڈس، 825ء میں کریٹ،827ء میں سسلی (صقلی) 869ء میں مالٹا، 902ء میں جزائر بلیارک اور 1015ء میں سارڈینیا فتح ہوا۔عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے صرف براعظم ایشیااور افریقہ میں فتوحات حاصل کیں اور وہ سپین کے سوا یورپ میں فتوحات حاصل نہ کرسکے ۔حقیقت اس کے برعکس ہے ابتدائی دور ہی میں مسلمانوں نے بحیرہ روم کے بیشتر جزائر بھی فتح کرلیے تھے اس دور میں یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا پسماندہ ترین براعظم تھا تاہم اموی دور میں مسلمانوں نے یورپ کی طرف بھی توجہ دی اور اس کے ایک بڑے حصے کو فتح کرلیا۔ انگلینڈ اس زمانے میں خراب موسمی حالات کی وجہ سے دنیا کی نظروں میں صرف بیرونی جہازوں کو لوٹنے کی وجہ سے بدنام تھا۔اس لیے بغداد کے خلیفہ نے سلطنت اندلس کواس پر حملہ کرنے کی اجازت نہ دی ورنہ یہاں کے پادریوں کے ظلم و ستم سے تنگ آئے ہوئے بادشاہ نے انگلینڈ پر حملہ کرنے اور حملہ آوروں کے مذہب اسلام کو قبول کرنے کا تحریری حلف دیاتھا ۔
مسلمانوں نے سپین پر آٹھ سو سال حکومت کی ۔ اس دور میں مسلمانوں نے پرتگال کو فتح کیا۔ مسلمانوں نے سسلی (اٹلی) پر264سال، کریٹ پر485سال، جنوبی فرانس پر200سال حکومت کی ۔سسلی صدیوں تک اسلامی تہذیب کا گہوارہ رہا۔842ء میں مسلمانوں نے اٹلی کا شہر مسینا (Messina)اور877میں دارالحکومت سیراکیوز فتح کیے۔846ء میں اٹلی کے ساحلوں پر کئی شہر فتح کیے ۔انہوں نے جنوبی اٹلی کاشہر ریو فتح کیا گیا۔اس طرح 1015ء میں مسلمانوں نے جنوبی اٹلی کے ساحلوں پرکئی شہر فتح کئے انہوں نے جنوبی اٹلی پر ڈیڑھ سو سال حکومت کی۔تیرہویں صدی میں اناطولیہ میں سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی۔پھرایک صدی کے اندر عثمانی فوجوں نے ایشیاء اور افریقہ کی طرح جنوب مشرقی اور وسطی یورپ میں دور دور تک مسیحی ممالک روند ڈالے 1360میں سلطان مراد اول نے یورپ کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا۔انہوں نے بلغاریہ ، مقدونیہ ، کوسوا ، اور سربیا کو فتح کیا1402 ہجری میں یونان عثمانی سلطنت میں شامل ہوا۔ سالونیکا یونان کی مشہور بندرگاہ ہے ۔ یہ یونان کا دوسرا بڑا شہر تھا اسے ترکوں نے1430ہجری میں فتح کیا اور 1912 ہجری تک تقریباپانچ سو سال مسلمان یہاں حکمران رہے 1451ہجری میں سلطان محمد فاتح نے جارجیاکو اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ قسطنطنیہ رومی حکومت کا ایک اہم شہر تھا مسلمان کئی باراسے فتح کرنے کی کوشش کرچکے تھے مگر کامیاب نہ ہوئے آخر سلطان محمد فاتح نے(1451-81) میں قسطنطنیہ کو فتح کرلیا جو اب استنبول کہلاتاہے ۔1458میں سلطان نے جنوبی یونان،1460ء میں ایتھنز،1461میں البانیہ ، اور1463میں بوسنیاوہرزگونیا فتح کرلیا۔1479میں اہل وینس نے جنگی تاوان اور سالانہ جزیے کی ادائیگی کی شرط پر عثمانیوں سے صلح کی عثمانی فوجوں نے ہنگری اور آسٹیا کو تاراج کیا ۔ سلطان محمد فاتح کے عہد میں مشرقی یورپ کی اہم ترین ریاست کریمیا(یوکرائن) عثمان کی باج گزار بن گئی ۔ سلطان محمد فاتح کے دور میں مسلمان یورپ تک سترہ لاکھ تین ہزار مربع کلو میٹر کے علاقہ پر حکمران تھے ۔سلطان محمد فاتح کے بعد بھی یورپ میں شاندار فتوحات کا سلسلہ جاری رہا ۔ سلیمان القانونی سلیمان عالیشان(1530-1566)نے 1521میں بلغراد کو فتح کیا اور1530میں ترک فوجیں ویانا آسٹیریا کے دروازوں تک پہنچ گئی حتی کہ 1571ء میں عثمانی فوجیں ماسکو میں داخل ہوگئیں۔عثمانیوں کے آخری دور میں یورپ کا3543662مربع کلو میٹر عثمانی سلطنت کے زیر نگین تھا۔مختلف ادوار میں یورپ کے مندرجہ ذیل اہم علاقے سلطنت عثمانیہ کے زیر نگین رہے ۔پولینڈ ، ہنگری، مشرقی آسٹریا ، سربیا ، بلغاریا، رومانیہ، یوگو سلاویہ ، روس میں کریمیا، مالڈووا ، چیچنیا ، جورجیا، داغستان، ارمینیا، یونان ، مونٹی ، نیکرو، کروشیا، البانیہ ، کوسوو، سلاوینیا ، مقسونیہ ، ٹرانسلوینیا، بوسنیا، ہرزیگو وغیرہ۔غرضیکہ کہ امت محمد علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام نے ہندو یورپ سپین جبل الطارق اوردنیا کے بڑے بڑے خطوں پر حکومت کی۔اس وقت پورہی دنیا میں کم و بیش ساٹھ اسلامی ممالک موجود ہیں۔ اورستر سال پہلے پاکستان کی شکل میں ایک مستقل اسلامی اور جمہوری خطہ دنیاکے نقشے پر ایک ایٹمی طاقت کے طور پر موجود ہے ۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق روئے زمین پرکوئی ایسا گھر باقی نہیں رہے گا جہاں کلمہ توحید اور رسالت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام نہیں پہنچے گا ۔
تازہ ترین