آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیلا سال کے بارہ مہینے دستیاب رہنے والا پھل ہے، جو بہت زیادہ مہنگا بھی نہیں ہوتا۔عام طور پر کیلے کے بغیر کسٹرڈ اور فروٹ چاٹ نامکمل تصور کیے جاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ذائقہ کی وجہ سےکیلا شوق سے کھاتے ہیں، لیکن اس کی طبی افادیت سے مکمل آگاہی نہیں رکھتے، یہ غذائی اجزاءسے بھرپور پھل ہے۔ کیلے میں سیب کی نسبت چار گنا زیادہ پروٹین، دوگنا زیادہ کاربوہائیڈریٹس،تین گنا زیادہ فاسفورس،پانچ گنا زیادہ وٹامن اے اوردیگر وٹامنز اور منرلز بھی سیب کی بہ نسبت دُگنے ہوتے ہیں۔

کیلے میں تین قسم کی شوگر پائی جاتی ہے ( سکروز،فرکٹوز اور گلوکوز)، جوکیلے کے ریشوں میں موجود ہوتی ہے۔ ان اجزاءکے ساتھ یہ فوری،دیر پا اور حقیقی توانائی فراہم کرتا ہے۔کیلا ایک ایسا پھل ہے جو ناصرف توانائی سے بھرپور ہے بلکہ اس میں کئی بیماریوں کا علاج بھی پوشیدہ ہے، اس کے علاوہ بعض بیماریوں میں لوگ کیلا کھانے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔

بلڈ پریشر میں مفید

جو افراد بلڈ پریشر کے مرض کا شکار ہیں توانھیں چاہیے کہ کیلے کا استعمال کریں، کیونکہ اس میں قدرتی طور پر الیکٹرولائٹ کی بڑی مقدارموجود ہوتی ہے۔ بلند فشار خون کو معتدل رکھنے میں کیلا بہت مفید ہے ۔کیلے میں پائی جانے والے پوٹاشیم کی بھاری مقدار اور اس کے مقابل نمکیات کی کم مقدار خون کے دورانیہ کو بہتر بناتی ہے۔

ذیابطیس میں استعمال

ذیا بطیس کے مریضوں کے لیے کیلامضر صحت سمجھا جاتاہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ گلائمکس انڈیکس میں شامل ہونے کی وجہ سے کیلا ذیا بطیس کے مرض کے لیے انتہائی مفید ہے اور طبی ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

موٹاپے سے بچاؤ

کیلے کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ اس کو کھانے سے انسان موٹاپے کا شکار ہوسکتا ہے۔ در حقیقت کیلے میں کم لحمیات ہوتے ہیں اور یہ کولیسٹرول کو کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلے میں شامل وٹامن بی6، معدنیات اور دیگر اجزاء وزن کم کرنے میںمدد فراہم کرتے ہیں، لہٰذا ایسے افراد جو وزن کم کرنا چاہتے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ کیلا باقاعدگی سے کھائیں۔

توانائی کی فوری بحالی

ایک تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیڑھ گھنٹے کی سخت مشقت کے بعد توانائی کی بحالی کے لئے دو کیلے کھاناکافی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کیلا دنیا کے معروف ترین ایتھلیٹس کا پسندیدہ ترین پھل ہے۔ کیلا ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرنے کے علاوہ اسے فٹ رکھنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔اسے اپنی روزمرہ غذائوں میں شامل کرنا بہت سی بیماریوں سے بچائوکا باعث بنتا ہے۔

ڈپریشن کا توڑ

ایک حالیہ سروے سے ثابت ہوا ہے کہ ڈپریشن کے شکار افراد میں کیلے کے استعمال کے بعد نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کیلے میں ایک خاص قسم کا پروٹین پایاجاتا ہے، جو جسم کو آرام پہنچاتا اور طبیعت پر خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔ وٹامن بی6سے بھرپور اس پھل کے استعمال سے آپ خواب آور ادویات کو بھول جائیں گے ۔کیلا جسم میں خون کی کمی نہیں ہونے دیتاکیونکہ یہ آئرن سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کیلا دماغی طاقت میں اضافہ بھی کرتا ہے ۔

تحقیق کے مطابق صبح کے ناشتے اور دوپہر کے کھانے میں کیلا کھانے والے طلباءنسبتاً چاق و چوبند رہتے ہوئے سیکھنے کے عمل کا حصہ بنتے ہیں۔کیلے کا استعمال قبض،سینے کی جلن ،خمار،ذہنی تنائو،اعصابی کھنچائواور السر کے لیےمفید ہونےکے ساتھ ساتھ حاملہ خواتین کے جسمانی درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرتا ہے جو ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لئے ضروری ہے ۔

امریکا میں استعمال ہونے والے پھلوں میں کیلا پہلے نمبر پرہے۔ امریکی باشندے مالٹے اور سیب خریدنے سے زیادہ کیلے پر رقم خرچ کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کیلا ایک بیکار چیز ہے اور اس کے طبی فوائد بھی حقائق کے برعکس بیان کیے جاتے ہیں مگریہ تصور قطعی طورپر بے بنیاد ہے۔کیلے میں غذائیت کے ساتھ ساتھ کینسر جیسے مرض سے نجات کے بھی خواص موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق Tumor Necrosis Factor یعنی TNF نامی مادہ کینسرکے جراثیم کو کمزور کرنے یا انہیں پیدا ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔کیلے کے طبی فوائد کئی حوالوں سے مفید ہیں،یہ دل کی دھڑکن کو معمول پررکھنے اور دماغی فالج سے بچاؤ میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔کیلا کھائیں، کیونکہ اس سے آپ کے جسم میں تازگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں