آبنائے ہرمز میں نشانہ بننے والا تھائی جہاز بھارتی بندرگاہ جارہا تھا۔
بھارت جانے والا تھائی لینڈ کا ایک مال بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز میں حملے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔
مئیوری ناری نامی یہ جہاز متحدہ عرب امارات کی خلیفہ پورٹ سے روانہ ہوا تھا اور بھارت کی کنڈلا بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا کہ خلیج کی تجارتی گزرگاہ سے گزرتے ہوئے ایک نامعلوم گولے کا نشانہ بن گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے باعث دنیا کی اس اہم ترین بحری گزرگاہ میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے، جس کے دوران یہ ہنگامی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
تھائی نیوی کے مطابق حملے کا شکار ہونے والے جہاز میں موجود عملے کے 20 ارکان کو بچالیا گیا جبکہ 3 افراد تاحال لاپتا ہیں، جہاز تقریباً 178 میٹر لمبا اور 30 ہزار ٹن وزن رکھنے والا بلک کیریئر بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے سویلینز کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی حکومت آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع غیر فوجی بندرگاہوں کو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے، جو بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے لیے خطرہ ہیں۔
ٹامپا فلوریڈا سے جاری اس وارننگ میں سینٹکام نے کہا کہ یہ خطرناک اقدام معصوم لوگوں کی جانوں کے لیے خطرہ ہے، جو سویلین بندر گاہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہیں وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی محفوظ حیثیت کھو دیتی ہیں اور جائز فوجی اہداف بن جاتی ہیں۔
سینٹکام نے ایرانی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر ان تمام بندرگاہوں سے دور رہیں جہاں ایرانی بحریہ آپریٹ کر رہی ہے۔ ایرانی بندرگاہوں پر کام کرنے والےڈاک ورکرز، انتظامی عملہ اور تجارتی جہازوں کے عملے کو چاہیے کہ وہ ایرانی بحری جہازوں اور فوجی ساز و سامان سے دور رہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایرانی بحری افواج نے تجارتی بحری آمد و رفت کے لیے استعمال ہونے والے بندرگاہوں کے اندر فوجی جہاز اور ساز و سامان تعینات کر دیے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق امریکی فوج بھی ان مقامات کے اندر یا آس پاس شہریوں کی مکمل حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی جسے ایرانی حکومت فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، تاہم امریکی افواج شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کرتی رہیں گی۔