آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہڈیوں کا بھر بھراپن ایک خاموش بیماری

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق، آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھر بھراپن)، دل کے امراض کے بعد دنیا بھر میں سب سے زیادہ پایا جانے والا عارضہ، یعنی انسانی صحت سے متعلق دوسرا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مرض میں ہڈیوں کی لچک میں کمی آجاتی ہے اور وہ بھربھرے پن اور نرم پڑ جانے جیسے مسائل سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ ہڈیوں کےکمزور ہو جانے کے باعث ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہڈی ایک زندہ ٹِشو ہے، جو مستقل طور پر بنتی رہتی ہےاور اس کے پُرانے حصے ختم ہوتے رہتے ہیں۔ ہڈی 30 سے 40 برس کی عمر کے دوران اپنی بھرپور حالت میں ہوتی ہے، جبکہ اس کے بعد جوں جوں عمر بڑھتی ہے، ہڈیاں گھلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ، کون سے ایسے خلیے ہیں جو ہڈیوں کو بناتے اور توڑتے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اوسٹیو کلاسٹ نامی خلیے، ہڈیوں کو توڑتے ہیں، ان ٹوٹی ہوئی ہڈیوں میں پُرانے خلیے کی جگہ نئے خلیے بنتے ہیں۔ اس عمل کو طب کی زبان میں اوسٹیو بلاسٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس طرح، ہمارے جسم کے اندر ہڈیوں کے ٹوٹنے اور بننے کے عمل میں توازن قائم رہتا ہے۔

ڈھلتی عمر، ورزش نہ کرنے، متوازن خوراک کی کمی اور خواتین میں ماہواری بند ہونے کے بعد، ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ ہڈیوں کے بھربھرے پن یا خستہ ہونے کی بیماری میں ہڈیوں کو توڑنے والے خلیے یعنی اوسٹیو کلاسٹ اپنا کام تیز کرکے اوسٹیو بلاسٹ، جو ہڈیوں کے جوڑنے کے خلیے ہیں، ان کے کام کو ضائع کر دیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ہڈیوں کے ٹوٹنے کا عمل تیز اور بننے کا عمل سُست ہونے کی وجہ سے ہڈیوں کے بھربھرے پن کا آغاز ہو تا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں ہڈیاں زیادہ پتلی اور زیادہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر ذرا سا دباؤ پڑنےسے بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، مَردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے۔ عورتوں میں 45 برس کی عمر کے بعد یہ مرض پیدا ہوتا ہے جبکہ مردوں میں 50 برس میں آسٹیوپوروسس ہوتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں یہ مرض40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کی بات کریں تو، غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں75سے 84برس کی 97فیصد، جبکہ 45سے 54برس کی 55فیصد خواتین آسٹیوپوروسس کا شکار ہیں۔ یہ بیماری یوں تو پورے جسم کی ہڈیوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن ریڑھ، گھٹنے، کولہے اور کلائی پر اس کا زیادہ اثر پڑتا ہے۔ ہڈیوں کی مضبوطی کا تعلق سورج کی روشنی یا دھوپ سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرض پاکستان کے دیہی علاقوں سے زیادہ شہروں میں پایا جاتا ہے۔ عموماً ہمارے یہاں شہروں میں رہنے والے لوگ جن کا دھوپ میں نکلنا نہیں ہوتا، دودھ نہیں پیتے اور مچھلی نہیں کھاتے، ان لوگوں کو ہڈیوں کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں، ان میں آسٹیوپوروسس کی شرح کم ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ ہم نے جتنا جدید لائف اسٹائل اختیار کیا ہے، مثلاً ایئر کنڈیشنر میں سونا، دھوپ میں نہ نکلنا اور موٹاپے کے ڈر سے مناسب غذا نہ لینا،ان تمام عوامل کا نتیجہ آسٹیوپوروسس کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، آسٹیوپوروسس کی بعض دیگر وجوہات میں بڑھتی عمر، خاندان میں پہلے سے اس بیماری کا موجود ہونا، جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی عادت، بہت زیادہ کیفین کا استعمال، کیلشیم کی کمی، تھائرائڈ ہارمونز کا مسئلہ، اور اسٹیرائڈز کا استعمال وغیرہ شامل ہیں۔

اکثر ماہرین اسے ایک ’خاموش بیماری‘ کا نام بھی دیتے ہیں، کیونکہ اس میں ہڈیوں کی فرسودگی کا عمل کسی تکلیف کے محسوس ہوئے بغیر سُست روی سے جاری رہتا ہے۔یہ ممکن ہے کہ، آسٹیوپوروسس ہونے کے بعد مریض درد یا تکلیف محسوس کرنے لگے۔ جن لوگوں کو یہ مرض ہو، اگر وہ کسی وجہ سے گِرجائیں، تو گِرنے اور اُٹھنے کے دوران، ان کے ہاتھوں یا پیر کی ہڈی میں فریکچر ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کی علامات عموماً دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کی ابتدائی علامات میں، مریض کو جوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ اُٹھنے بیٹھنے میں بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ، اگر اس مرض میں مبتلا افراد، دواؤں سے بچنا چاہتے ہیں تو صرف بیس منٹ روزانہ سن باتھ لیں (سورج کی دھوپ میں گزاریں)۔ اگر صرف بیس منٹ بھی ایسا کیا جائے تو ہمارے جسم کی روزانہ کی وٹامن ڈی تھری کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ یہ وٹامن ہڈیوں میں کیلشیم کو جمع کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ہماری جلد میں یہ وٹامن پہلے سے موجود ہوتا ہے، جو سورج کی روشنی جسم پر پڑنے سےمتحرک ہو جاتا اور ہڈیوں تک کیلشیم کو پہنچا نا شروع کردیتا ہے۔

اس کے علاوہ، غذا کے ذریعے مردوں اور خصوصاً خواتین کو کیلشیم ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ یہ دودھ اور اس سےبنی دیگر اشیاء، ہری سبزیوں اور مچھلی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، فاسفورس، پروٹین اور نمک کا روزانہ ضرورت سے زیادہ استعمال کرناآسٹیوپوروسس کی وجہ بنتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ پروٹین اور فاسفورس پر مشتمل غذائیں، پیشاب کے ذریعے کیلشیم کے اخراج میں اضافے کا سبب سمجھی جاتی ہیں۔ ریفائنڈ شوگر بھی جسم میں کیلشیم کی کمی بڑھاتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، ہر سال پاکستان میں ہڈی ٹوٹنے کے کئی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ آسٹیوپوروسس ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے، احتیاط کے علاوہ، جسمانی سرگرمیوں اور غذا کی جانب توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں