آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ذوالحجہ 1439ھ 19؍اگست 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حکومت میں آئے تو ریاست و اداروں کو مضبوط کریں گے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت میں آکر ریاست اور اداروں کو مضبوط کریںگے، پاکستان کی خارجہ پالیسی خود انحصاری، ملکی اور قومی مفاد میں ہوگی جبکہ امریکا سے تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہوں گے۔

روسی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت اچھے امیدوار ہیں، ہم حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں، دھرنے اور پاناما کیس کی وجہ سے قوم میں کرپشن کے خلاف شعور اجاگر ہواجبکہ آنے والی حکومت کو سب سے زیادہ مالی مسائل کا سامنا ہوگااور اداروں کی اصلاحات ترجیح ہوگی۔

امریکا سے تعلقات کے سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکا سے تعلقات یکطرفہ بنیادوں پر تھے جس کا پاکستان کو جانی اور مالی نقصان ہوا لیکن ہم امریکا سے دو طرفہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات رکھیں گے، افغانستان کا فوجی حل ممکن نہیں سیاسی مفاہمت ہی افغانستان میں امن کے لیے ضروری ہےجبکہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں سے متعلق امریکا کا موقف سراسر غلط ہے اور افغانستان کا اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا انتہائی افسوسناک ہے۔

انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ امریکا سے اچھےتعلقات رکھیں گے لیکن پاکستان کوغیر ملکی امداد پر انحصار سے بچائیں گے، پاکستان غیر ملکی امداد سے نہیں اپنے بجٹ، تجارت اور اپنے سرمائے سے پیروں پر کھڑا ہوگا۔

ملک میں فوجی حکومتوں سے متعلق سوال پر کہا کہ کرپٹ جمہوری حکومتیں خراب کارکردگی کی وجہ سے فوجی مداخلت کا جواز فراہم کرتی ہیں، اب وقت بدل گیا ہے، فوج میں بھی مارشل لا ء کے خلاف اتفاق رائے موجود ہے۔

بطور وزیراعظم پہلا حکم کیا ہوگا کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ ابھی اس بارے میں سوچا نہیں اور یقینی جیت کے بعد پہلی موو کا سوچیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں