آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
انٹرنیٹ کا بنیادی ڈھانچہ ڈوبنے کو ہے؟

ساحلی شہروں اور بالخصوص امریکی شہروں کے نیچے بچھایا گیا انٹر نیٹ کا بنیادی ڈھانچہ سمندر کی سطح میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے نتیجے میں 2033 ء تک مکمل طور پر غرق آب ہوسکتا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح جلد ہی بڑے ساحلی شہروں کے نیچے بچھائے گئے ہزاروں میل لمبے انٹر نیٹ کے انفرا سٹر کچر کو تباہی سے دو چار کر دے گی ۔ماہرین کےمطابق یہ تباہی اندازوں سے پہلے ہی ہوسکتی ہے ۔تقریباً 6500 کلومیٹر یعنی 4000 میل طویل فائبر آپٹک کیبلز اگلے 15 سال میں غرق آب ہوجانے کے خدشات ہیں ۔نیو یارک ،میامی اور اسٹیل سب سے پہلے اس تباہی سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف وسکنسن میڈیسن میں کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر پال بالفورڈ کے مطابق ، جس تباہی کی پیش گوئی اگلے 100 سال کے لیے کی گئی تھی وہ ماہرین کی سوچ سے بھی قبل سامنے نظر آرہی ہے ۔ان کامزید کہنا ہے کہ ہمیں اُمید تھی کہ اس تباہی سے نمٹنے کے لیےہمارے پاس 50 سال موجود ہیں ،مگر حالیہ کیے جانے والے سروے کے نتیجے میں جو صور ت ِحال سامنے آئی ہے ،اس سے واضح ہوگیا ہے کہ ہمارے پاس 50 سال کا عر صہ نہیں ہے اور اس صورت ِحال کے نتیجے میں ٹریفک کے 1001 سےزیادہ مر اکز پانی میں محصور ہوجائیں گے ۔ماہرین نے یہ تحقیق انٹر نیٹ کے نقشے کی بنیاد پر کی ہے جو دنیا بھر میں انٹر نیٹ کے بنیادی ڈھانچے پر مشتمل ہے ۔یہ ڈھانچہ نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹمو سفیرک ایڈ منسٹریشن (این اواے اے ) کی جانب سے سطح سمندر کے ساتھ مرتب کیا گیا تھا ۔حالاں کہ اس تحقیق میں صرف امریکا کے نیٹ ورک پر توجہ مر کوز کی گئی تھی ،تا ہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی سمندری سطح سے ہونے والی تباہی سے انٹر نیٹ کا کوئی بھی ساحلی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا ۔بارفورڈ کے مطابق20۔25 سال قبل جب یہ مسئلہ پیش آیا تھا تو اس کے نتیجے میں موسمی تغیرات کے بارے میں کوئی سوچ موجود نہیں تھی ۔اگر چہ فائبر آپٹک کیبلز کا ڈیزائن اس طر ح بنایا گیا تھا کہ وہ پانی سے مزاحمت کر سکے ، مگریہ واٹر پروف نہیں تھا ۔لیکن اس آپٹک نیٹ ورک کو غرق آب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ۔اس کے علاوہ ہ زمینی مقامات جہاں سمندر میں بچھائے گئے کیبلز آکر ملتے ہیں وہ بھی بہت کم وقت میں زیر آب آجائیں گے ۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پانی کی سطح میں یہ اضافہ موجودہ شرح سے دگنا ہونے کا امکان ہے۔امریکی ریسرچ میگزین پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسزکے مطابق عالمی سمندروں میں پانی کی سطح اتنی تیز رفتاری سے بلند ہو رہی ہے کہ رواں صدی کے آخر تک یہ اضافہ66 سینٹی میٹر تک پہنچ سکتا ہے۔ سمندروں میں پانی کی سطح کا اس طرح سے بلند ہونا دنیا بھر کے بہت سے ساحلی شہروں کے لیے شدید مشکلات اور خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ماضی میں سمندر کی سطح میں سالانہ تین ملی میٹر اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا تھا جو کہ اس صدی کے اختتام تک 10 ملی میٹر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس تحقیق کے مصنف اسٹیو نیرم کے مطابق سمندر کی سطح میں یہ اضافہ بنیادی طور پر انٹارٹیکا اور گرین لینڈ میں برف پگھلنے کے باعث ہو گا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ متوقع 30 سینٹی میٹر کے بجائے سمندروں کی سطح میں دُگنا یعنی 60سینٹی میٹر اضافہ ہو گا۔ ماحولیاتی تبدیلی دو طرح سے سطح سمندر کی سطح میں اضافہ کرتی ہے۔ اوّل، فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے بڑے پیمانے پر اخراج سے ، جس کے باعث پانی کا درجۂ حرارت بڑھنے سے اس کے حجم میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہ تھرمل یا حرارتی پھیلاؤ کہلاتا ہے، جس کے باعث گزشتہ نصف صدی سے سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب کہ پانی کی سطح میں اضافے کا دوسرا ذریعہ قطبی علاقوں میں برف کا پگھل کر سمندری پانی میں شامل ہونا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سمندر کی عالمی سطح 2300 تک4 فٹ(1.2 میٹر) سے زائد بڑھ سکتی ہے۔ طویل مدتی تبدیلی گرین لینڈ سے انٹارکٹیکا تک برف کا پگھلنا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی ساحلوں کی حد بندی تبدیل ہو جائے گی۔ سمندر کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں شنگھائی سے لندن تک کے شہروں، فلوریڈا یا بنگلا دیش کے متعدد شہروں کو خدشات لاحق ہیں ،جب کہ مالدیپ جیسے ملک سمندری سطح میں اضافہ کے نتیجے میں زیر آب آ سکتے ہیں۔ جرمن ماہرین کی زیر قیادت ایک تحقیقی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ سامنے نظر آنے والی تباہی کو مزید وقت کے لیےٹالنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج بند کر دیا جائے۔2020 کے بعد گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں کمی کے اقدامات میں ہر پانچ سال کے التواسے سمندری سطح 2300 تک مزید 8 انچ بڑھ جائے گی ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ درجہ ٔ حرارت 39.2 ڈگری فارن ہائٹ سے زائد ہونے پر پانی خود کا ر طور پر بھی پھیلتا ہے ۔

چین پہلا ملک ہے ،جس نے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے ۔ ان اقدامات کے تحت چین بھر میں 2025 تک صنعتی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر نیٹ ورک کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی۔ 2025 تک چین میں تمام خطوں اور شعبہ جات کی صنعتی انٹرنیٹ تک رسائی ممکن ہو جائےگی، جب کہ 2035تک چین صنعتی انٹرنیٹ کے شعبے میں دنیا میں سر فہرست ہو گا۔ تحقیق کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں سمندروں کی سطح میں اضافہ غیرہموار ہے، یعنی بعض علاقوں میں یہ سطح زیادہ اور بعض میں کم بلند ہو رہی ہے۔ فلپائن کے اردگرد سمندری سطح میں اضافہ دیگر خطوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔چین کے بیشتر ساحلی شہروں کو بھی سمندری سطح میں اسی شرح سے اضافے کے خدشات کا سامنا ہے۔ توقع ہے کہ چین اگلے سات برسوں میں اپنے ساحلی شہروں میں پہلے سے بچھائے گئے فائبر آپٹک کیبلز کی جگہ صنعتی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر نیٹ ورک کی تنصیب کا کام مکمل کر لے گا۔

امریکااور دیگر مغربی اقوام نے انٹرنیٹ کے پھیلائو کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھا دیا ہے، مگر خدشہ ہے کہ اگلے عشرے میں انٹرنیٹ پر دبائو میں اضافہ ہو جائے گا۔ انٹرنیٹ پر بڑھتے ہوئے ڈیٹا یعنی تکنیکی معلومات میں بھرپور اضافہ کی وجہ سے اگلے چند سالوں میں نیٹ ورک پر کافی زور پڑے گا، جس کی وجہ سے اِس کے گرڈلاک یعنی پھنس جانے کے امکانات ہیں۔ فی الوقت دنیا میں تقریباً 5 ارب افراد انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ایک جانب تو ساحلی شہروں کے نیچے بچھایا گیا ڈھانچہ بڑھتی ہوئی سمندری سطح کی وجہ سے غرق آب ہونے کے خدشات ہیں تو دوسری جانب انٹر نیٹ پر اس قسم کے گرڈ لاک سے انٹر نیٹ استعمال کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں